کھنہ بل فدائین حملہ میں ملوث تھا: پولیس ۔شریف آباد ترال میں گرینیڈ دھماکہ
بھارتی فورسز نے بجبہاڑہ اننت ناگ کے ایک مضافاتی گائوں میںمسلح تصادم آرائی کے نتیجے میں جیش کمانڈر کو ساتھی سمیت ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس دوران انتظامیہ نے امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھی۔ادھر گریز میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک اس بات کا دعویٰ کیا گیا کہ دو جنگجو در اندازی کی کوشش میں ہلاک ہوئے۔دریں اثناء شریف آباد ترال میں فورسز پر گرینیڈ پھینکا گیا۔
مسلح تصادم
پولیس نے بتایا کہ بجبہاڑہ کے کاٹو وپھزن گائوںمیں منگل کی سہ پہر فورسز نے جنگجوئوں سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد علاقے کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کرتے ہوئے چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی کے دوران میوہ باغ میں موجودجنگجوئوں نے فورسز اہلکاروں پرزبردست فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جو کچھ دیر تک جاری رہا۔پولیس ترجمان کے مطابق مختصر مسلح تصادم آرائی کے نتیجے میں 2جنگجوئوں کی لاشیں برآمد کی گئیں جن کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ فورسز ایجنسیوں کے مشترکہ تعاون کے نتیجے میں آپریشن مختصر مدت کے دوران ہی اختتام پذیر ہوا جس دوران فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت فیاض پانزو ساکن ترال اور شوکت احمد ساکن کنلون کے بطور ہوئی ۔ پولیس کے مطابق جیش کمانڈر فیاض پنزو 12جون 2019کو کھنہ بل اننت ناگ میں سی آر پی ایف پارٹی پر ہوئے حملے میں ملوث تھا جس میں 5اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ واقعے میں زخمی ہوئے پولیس انسپکٹر ارشد خان کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد نئی دہلی میں دم توڑ بیٹھا تھا۔پولیس نے جیش کمانڈر کی ہلاکت کو بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔
ترال میں جھڑپیں
بجبہاڑہ علاقے میںترال سے تعلق رکھنے والے جنگجوکمانڈر کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی جھڑپیں ہوئیں اور ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر رہے۔کمانڈر فیاض احمد ٹھوکر ولد بشیر احمد ٹھوکر ساکن پانزو کی ہلاکت کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی جس دوران نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بس اسٹینڈ اور دیگر کئی مقامات پر نمودار ہوئی جنہوں فورسز گاڑیوں پر شدید پتھرائو کیا ۔ فورسز نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں یہاں افراد تفری کا ماحول پیدا ہوا اور دکاندر اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف فرار ہوئے ۔ پولیس نے بتایا فیاض احمد نے27.04.2018میں جنگجویت میں شمولیت اختیار کی تھی اور تب سے جیش محمد عسکری تنظیم جیش محمد کے ساتھ وابستہ تھا۔بتایا جاتا ہے کہ فیاض پہلے ترال میں ایک دکان پر مستری کا کام کرتا تھا جہاں گزشتہ سال گھر سے نکلنے بعد لاپتہ ہوا اور جنگجوئوں کے صف میں شامل ہوا ۔
ترال میں دھماکہ
پولیس نے بتایاکہ شریف آباد کے نزدیک نا معلوم افراد نے فورسز کی ایک ROPپر ہتھ گولہ پھینکا،جو زوردار دھماکے ساتھ پھٹ گیا تاہم اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی۔
بانڈی پورہ
لائن آف کنٹرول کے قریب سرحدی علاقہ بگتور گریز میں جھڑپ کے دوران دوجنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔فوج نے کہا ہے کہ 36 راشڑیہ رائفلز اور عسکریت پسندوں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دراندازی کے دوران دو عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔فوج نے کہا کہ دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔البتہ پولیس نے کہا کہ گریز سیکٹر میں نوشہرہ بگتور میں 36آر آر نے آس پاس علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وہاں فائرنگ بھی ہوئی ہے ، تاہم ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کرسکتے۔












14 تبصرے “بھارتی کشمیر: وپھزن بجبہاڑہ میں مسلح تصادم،گریز میںدراندازی کی کوشش ناکام بنانے سمیت چار جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ”