ہنگامی اقدامات،بڑے پیمانے پر تبادلوں، اضافی فورسز کی تعیناتی کے نتیجے میں بھارتی کشمیر میں خوف و ہراس برقرار

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سرکاری سطح پر یکے بعد دیگرے ہنگامی اقدامات اٹھائے جانے کے نتیجے میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں عام لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ سیاسی جماعتیں مختلف نوعیت کی قیاس آرائیوں اور افواہوں کے بیچ تذبذب کا شکار نظر آتی ہیں۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر کے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن (سروسز) سول سیکرٹریٹ سرینگر کی جانب سے جاری آرڈر نمبر 894-GADمورخہ 30جولائی 2019ء کے مطابق سول انتظامیہ کے بیس افسران کے تبادلے اورتقرریاں کر دی گئی ہیں۔
مس سشما چوہان ڈپٹی کمشنر سانبا کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جموں تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر رمیش کمار ڈپٹی کمشنر جموں کو تبدیل کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری حکومت برائے انڈسٹریز و کامرس ڈپارٹمنٹ تعینات کر دیا گیا ہے۔
مس ایونے لواسا ڈپٹی کمشنر لیہہ کو تبدیل کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جموں و کشمیر اکنامک ری کنسٹریکشن ایجنسی تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ مسٹر وکاس کنڈل ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو آفیسر، میٹرو پولیٹن ریگولیٹری اتھارٹی سے اضافی چارج واپس لے لیا گیا ہے۔
سید سحرش اصغر ڈپٹی کمشنر بڈگام کو تبدیل کرتے ہوئے ڈائریکٹر انفارمیشن جموں و کشمیر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ مسٹر گلزار احمد ڈار کو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
مسٹر اویس احمد ڈپٹی کمشنر شوپیاں کو تبدیل کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسرJAKEDAتعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر سچن کمار ویشے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لیہ کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لیہ تعینات کر دیا گیا ہے۔
چوہدری محمد یاسین ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پلوامہ کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شوپیاں تعینات کر دیاگیا ہے۔
مس ریحانہ بتول منیجنگ ڈائریکٹرJKTDCکو تبدیل کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر جموں تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر ناظم زئی خان سپیشل سیکرٹری حکومت محکمہ مالیات کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر رام بن تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر روہت خجوریا سپیشل سیکرٹری ان سمر سیکرٹریٹ کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سانبا تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر اروند شرما چیف ایگزیکٹو آفیسر جے کے ای ڈی اے کو تبدیل کرتے ہوئے خصوصی سیکرٹری حکومت برائے محکمہ مال تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر طارق حسین گنائی ڈائریکٹر اسٹیٹ کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بڈگام تعینات کر دیاگیا ہے۔
مسٹر شوکت اعجاز بھٹ ڈپٹی کمشنر رام بن کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کلگام تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر شمیم احمد ڈپٹی کمشنر کلگام کو تبدیل کرتے ہوئے خصوصی سیکرٹری حکومت برائے محکمہ مالیات تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر اصغر حسین کو ایم ڈی جے کے ٹی ڈی سی تعینات کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر بھارت بھشن ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر جموں کو تبدیل کرتے ہوئے ڈاکٹر جموں و کشمیر ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی ڈویلپمنٹ کارپوریشن تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ مسٹر رویندر کمار بھٹ کو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ سے منسلک کر لیا گیا ہے۔
مسٹر راکیش کمار سرانگل ایڈیشنل چیف الیکٹورل آفیسر برائے چیف الیکٹورل آفیسر جموں و کشمیر کو تبدیل کرتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر برائے ڈویژنل کمشنر جموں بخلاف خالی آسامی تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر کلدیپ کرشن سدھا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سرینگر کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر، ریلیف آرگنائزیشن کشمیر تعینات کر دیا گیا ہے۔
سید حنیف بلخی چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی گلمرگ کو تبدیل کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سرینگر تعینات کر دیا گیا ہے۔
مسٹر انعام الحق صدیقی ایڈیشنل سیکرٹری گریوینس سیل کو تبدیل کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی گلمرگ تعینات کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر دیس راج بھگت ایڈیشنل سیکرٹری سروس گریوینس سیکرٹریٹ کو ایڈیشنل سیکرٹری گریوینس سیل کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
ایک تازہ آرڈر میں پانچ اضلاع کے پولیس سربراہان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے کی مساجد کے محل وقوع، ان کے آئمہ اور منتظمین کے کوائف بشمول ان کی نظریاتی وابستگی جمع کر کے انہیں فوری طور پر محکمے کے اعلیٰ عہدیداروں کو پیش کریں۔

سرکردہ مذہبی اور سیاسی راہنما میر واعظ عمر فاروق نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئےکہا کہ یہ لوگوں کو ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی کوششوں کی تازہ کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور دوسری سرکاری ایجنسیاں مساجد، خانقاہوں اور درگاہوں کو بھی اپنے دائرہ اثر میں لانا چاہتی ہیں۔

میر واعظ عمر نے جو متحدہ مجلسِ علماء کے سربراہ بھی ہیں، کہا کہ اس تنظیم کا عنقریب ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اس “قابلِ تشویش” صورتِ حال پر غور وخوض کے بعد آئندہ حکمتِ عملی ترتیب دی جائے گی۔

گزشتہ ہفتے بھارت کی وزارتِ داخلہ نے وفاقی مسلح پولیس فورسز کی مزید ایک سو اضافی کمپنیاں یعنی تقریباً گیارہ ہزار نفری نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر روانہ کرنے کے احکامات صادر کئے تھے۔ وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ اضافی فورسز کو ریاست میں انسدادِ بغاوت یا عسکریت مخالف گرڈ کو مزید مستحکم بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کیلئے تعینات کیا جارہا ہے۔

تاہم اس فیصلے نے ریاست میں طرح طرح کی افواہوں اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا ۔ کئی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کشمیر کی پہاڑیوں میں واقع ہندوؤں کے مذہبی مقام امر ناتھ غار کیلئے جاری سالانہ یاترا کے بعد نریندر مودی حکومت ریاست میں تحریکِ مزاحمت کو دبانے کیلئے سخت گیر اقدامات اٹھا سکتی ہے۔ یہ یاترا 15 اگست کو اختتام پذیر ہو گی۔ بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائی کی جانے لگی کہ نئی دہلی کی حکومت آئینِ ہند کی دفعات 370 اور 35 اے کو، جن کے تحت ریاست کو ہند یونین میں خصوصی پوزیشن اور اس کے حقیقی باشندوں کو مختلف مراعات حاصل ہیں، منسوخ کرنے کا اعلان کر سکتی ہے۔

حفاظتی امور پر ریاست کے گورنر کے مشیر کے وجے کمار نے کہا، ” اضافی نفری کی تعیناتی کا اقدام سیکورٹی گرڈ کی ضرورت کے پیشِ نظر سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا ایک دانستہ قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امرناتھ یاترا پر توجہ مرکوز ہو جانے کی وجہ سے سیکورٹی گرڈ کو دستیاب حفاظتی دستوں کی تعداد میں کمی بیشی آ گئی تھی۔ لہٰذا مزید فورسز کو یہاں لانے کی ضرورت پیش آئی۔ یہ ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہے جو پائپ لائین میں ہے”۔

اگرچہ ایک پولیس عہدیدار حسیب مغل نے وضاحت کی ہے کہ مساجد اور ان کے اماموں اور منتظمین کے کوائف جمع کرنا امن و امان کا بندوبست کرنے کے عمل کا ایک حصہ ہے، ایک اور ایسے آرڈر کی وجہ سے بھی غیر یقینی صورتِ حال میں شدت آ گئی ہے جس میں محکمہ ریل کے ایک اعلیٰ افسر نے وادئ کشمیر میں تعینات عملے سے کہا تھا کہ کشمیر میں ایک لمبے عرصے تک جاری رہنے والی بگڑتی صورتِ حال کی پیش گوئی کے پیشِ نظر وہ کم سے کم چار ماہ کیلئے غذائی اجناس کا ذخیرہ کر یں اور دوسرے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ نیز اپنے اپنے کنبے کے افراد کو یا اُن رشتے داروں کو جو کشمیر سیر و تفریح یا امر ناتھ یاترا میں شرکت کرنے کی غرض سے آئے ہوئے ہیں، 28 جولائی سے پہلے آبائی مقامات کیلئے روانہ کریں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ اس افسر کو کشمیر سے واپس بلایا گیا ہے کیونکہ ایسا حکم نامہ جاری کرنا اُس کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔

اس ساری صورتِ حال کے پس منظر میں ریاست کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ممتاز سیاسی راہنما اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ہم خیال سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس بلائیں تاکہ معاملات پر غور و خوض اور صلاح مشورے کے بعد ایک مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔ اس دوران فاروق عبداللہ نے نئی دہلی میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کیلئے وقت مانگا ہے تاکہ انہیں دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے بارے اپنی پارٹی کے موقف، کشمیر میں عوامی سطح پر پائی جانے والی بے چینی اور اس کے مضمرات سے باخبر کر سکیں۔ نیشنل کانفرنس کے ممبران نے، جن میں فاروق عبد اللہ بھی شامل ہیں، بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیرین لوک سبھا میں بھی یہ معاملہ اٹھانے کیلئے اسپیکر سے اجازت مانگی ہے۔

اُدھر بھارت کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے ریاست کی صورتِ حال پر غور کرنے کیلئے نئی دہلی میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے عہدیداروں اور دوسرے اہم لیڈروں کا ایک اجلاس بلایا ہے۔ منگل کو ہونے والے اس اجلاس میں پارٹی کے ریاستی صدر رویندر رینہ اور چند دوسرے عہدیداروں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم مودی کی شرکت بھی متوقع ہے۔