مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اپنی 16افسران کی ٹیم کیساتھ مل کر’’وکاس اور وشواس‘‘ کے مخمل دستانے میں عسکریت پسندی کیلئے آہنی پالیسی اپنانے جارہے ہیں۔ اس ٹیم میں کچھ نئے اور کچھ پرانے چہرے شامل ہیں۔
بھارتی زیر انتظام کشمیر کے نشریاتی ادارے کشمیر عظمیٰ کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ وزیر اعظم کے سب سے قابل اعتماد معاون ہیں جوبنیادی ڈھانچے کے بحرانوں کو حل کرنے کے لئے 16 کلیدی بیوروکریٹس کے ساتھ قومی سلامتی کے اہم پہلوؤں کشمیر میں عسکریت پسندی ، این آر سی ، اور شمال مشرق کی صورتحال اور ماؤنواز سے متاثرہ علاقوںپر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔شاہ مبینہ طور پر ان اہم بیوروکریٹس پر بھروسہ کررہے ہیں ، جن میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس کے 16 سینئر مرد اور دو خواتین اہلکار شامل ہیںاور جونارتھ بلاک میں اہم وزارتوں کی نگرانی کررہے ہیں۔ ان عہدیداروں میں 2 سیکریٹریوں کے عہدے ہیں، 3 اسپیشل سیکریٹریز ، 3 ایڈیشنل سیکریٹریز اور8 جوائنٹ سیکریٹری شامل ہیں۔
کشمیر عظمیٰ کو ذرائع نے بتایا کہ ان عہدیداروں نے نو مقرر کردہ ہوم سکریٹری اجے کمار بھلا کے تحت اپنے کاموں کو آسان بنانا شروع کیا ہے ، جو 1984 بیچ کے آسام میگھالیہ کیڈر کے آئی اے ایس آفیسر ہیں ، جو 24 جولائی کو وزارت داخلہ میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) کے عہدے پر تعینات تھے۔بھلا نئے داخلہ سکریٹری کا عہدہ سنبھارہے ہیں ، کیونکہ راجیو گوبا 31 اگست کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ وہ شاہ کو اپنے دو سالہ دور اقتدار میں اگست 2021 تک اپنے تجربات میں مدد فراہم کریں گے۔شاہ کے نجی سکریٹری سکیت کمار بھی ان کی ٹیم کے اعلیٰ ممبروں میں شامل ہیں۔ بہار کیڈر سے تعلق رکھنے والے 2009 بیچ کے آئی اے ایس ، کمار ، ، 29 جولائی 2023 تک وزیر داخلہ کی معاونت کریں گے۔جموں وکشمیر کے ایڈیشنل سکریٹری گنیش کمار اور جوائنٹ سکریٹری شمال مشرق گڑگ شاہ کو بالترتیب وادی میں شورش کے معاملات سے نمٹنے اور آسام میں شہریوں کی قومی رجسٹریشن (این آر سی) کی تکمیل میں مدد کریں گے۔ٹیم میں ان 16 کے علاوہ ، وزیر مملکت داخلہ نیتانند رائے اور جی کشن ریڈی بھی شامل ہیں۔












19 تبصرے “جنگجوئیت کیخلاف آہنی پالیسی مرتب:امت شاہ کی 16رکنی ٹیم کشمیر اور شمال مشرق کی صورتحال پر کام کرنے میں مصروف”