بھارتی زیر انتظام کشمیر میں دس ہزاراضافی فوجیوں‌ کی تعیناتی، افواہوں کی گردش سے ریاست بھر میں‌خوف و ہراس

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اچانک دس ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی سے ریاست میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ مرکزی حکومت ریاست کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 35 اے کو ختم کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوبال نے خاموشی سے سرینگر کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نےپولیس، فوج اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکاروں کے ساتھ سیکورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ ان کے دورے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

ان کے دورے کے فوراً بعد وادی میں دس ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی سے پہلے سے ہی موجود ان اندیشوں کو ہوا ملی ہے کہ حکومت کوئی بڑا قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ ریاست کے بعض سینیئر پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم امن و قانون کی صورتحال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

اس دوران جموں و کشمیر پولیس نے سرینگرکے سبھی پانچوں سپرینٹنڈنٹ آف پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اپنے علاقے کی سبھی مسجدوں کے اماموں اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کی تفصیلات بھیجیں۔

سری نگر کے ایس ایس پی حسیب مغل کے مطابق یہ حکم ‘معمول کا عمل’ ہے اور یہ پولیس کے ریکارڈ کو صحیح رکھنے کے لیے وفتآ فوقتآ کیا جاتا ہے۔ پولیس کے حکم نامے کے مطابق یہ تفصیلات اعلیٰ حکام کو بھیجی جائیں گی۔

ریلوے پروٹکشن فورس کے ایک ڈویژنل کمشنر سے منسوب ایک خط جاری کیے جانے کی بھی خبر آئی ہے جس میں انھوں نے وادی میں ممکنہ ہنگامی حالات کے بارے میں الرٹ کیا ہے۔ اس مبینہ خط کو سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ٹویٹ کیا تھا۔

اس خط میں ریلوے کے پولیس اہلکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے کم ازکم چارمہینے کے لیے غلہ اور ایک ہفتے کے لیے پانی جمع کر لیں۔ لیکن اس خط کے جاری کیے جانے کے فوراً بعد ریلوے کی وزارت نے اس خط کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ متعلقہ اہلکار کو اس طرح کا خط جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ریلوے کے مقامی اہلکار نے بعد میں تردید کی کہ اس طرح کا کوئی خط ان کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔

پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹر پیغام میں کہا کہ اضافی فوجیوں کی تعیناتی سے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے۔ ’جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی کمی نہیں ہے۔ جموں کشمیر کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے فوجی قوت سے نہیں حل کیا جا سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ دفعہ 35 اے کو ختم کرنے کی کوئی کوشش آگ سے کھیلنے کے مترادف ہو گی۔

شق 35 اے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت اور اس کی سماعت جلد ہی شروع ہونے والی ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وہ دفعہ 35 اے اور 370 کو ختم کرے گی۔ ابھی حال میں وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ دفعہ 35 اے ایک عبوری انتظام ہے۔

اس شق میں اِس بات کی تشریح کی گئی ہے کہ کون کشمیر کا مستقل رہائشی ہے۔ صرف مستقل رہائشی ہی کشمیر میں آباد ہو سکتا ہے اور زمین خرید نے کا مجاز ہے۔ وادی کی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ اس خصوصی دفعہ کو ختم کر کے مرکزی حکومت کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ وادی میں دس ہزار اضافی فوج خفیہ ایجنسیوں کی اس اطلاع کے بعد تعینات کی گئی ہے کہ پاکستان میں واقع ایک شدت پسند تنظیم انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کسی بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

شورش زدہ وادی میں کنفیوژن اور خوف کا عالم ہے۔ لوگ غیر یقینی صورتحال اور انجانے اندیشوں کی گرفت میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے کوئی وضاحتی بیان نہ آنے کے سبب صورتحال اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: