پاکستانی کشمیر:‌قائمقام چیف جسٹس کی تقرری چیلنج کئے جانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے قائمقام چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی تقرری چیلنج کرنے کی تیاریاں‌مکمل ہو گئی ہیں. وکلاء کے تین الگ الگ گروپ قائمقام چیف جسٹس کی تقرری کو چیلنج کرنے کےلئے رٹ پٹیشن میں‌جائیں گے. راجہ سعید اکرم نو سال قبل پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے سپریم کورٹ میں‌بطور جج تعینات ہوئے تھے. عدالت العالیہ کے پانچ ججز کی تقرریاں‌کالعدم قرار دینے کا فیصلہ دینے کے بعد ایک مرتبہ پھر انکی تقرری زیر بحث آئی ہے. سینئر وکلاء نے تقرری کو چیلنج کرنے کےلئے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے.

سینئر وکلاء کے مطابق نجی محفلوں‌میں جسٹس راجہ سعید اکرم اور جسٹس مصطفیٰ مغل کی جانب سے ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری کے خلاف سپریم کورٹ میں‌دائر کی گئی اپیلوں‌کے منظور ہونے کو متعدد مرتبہ ناممکن قرار دے چکے ہیں. اچانک فیصلہ سناتے وقت لئے گئے یو ٹرن نے نہ صرف وکلاء‌کو حیرت میں‌مبتلا کیا بلکہ حکومت کو بھی سخت مشکل میں‌ڈال دیا ہے.

یہی وجہ ہے کہ وکلاء اس فیصلہ کو طاقت ور قوتوں‌کے دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ فارغ کئے گئے پانچ ججز کی اہلیت اور قابلیت پر عدالت نے کوئی سوالیہ نشان نہیں‌عائد کیا لیکن خود قائمقام چیف جسٹس تقرری کی مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں‌اترتے ہیں.

قائمقام چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی بطور جج عدالت عظمیٰ تقرری پر کئی سوالیہ نشان موجود ہیں، انکی بطور جج عدالت العالیہ تقرری کی سمری بھیجنے سے چیف جسٹس عدالت العالیہ (وقت) جسٹس غلام مصطفی مغل نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ انہوں نے ایک روز بھی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عدالتوں میں پریکٹس نہیں کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین نومبر 2007ءکی ایمرجنسی کے بعد پی سی او (عبوری آئینی حکم) کے تحت بطور جج حلف لینے کی پاداش میں برطرف کئے گئے تھے۔جس کے بعد پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں احتساب بیورو کے چیئرمین کے طورپر مقرر ہوئے، عدالت العالیہ کے جج کے طور پر تقرری کےلئے سمری بھیجی گئی لیکن چیف جسٹس (وقت) غلام مصطفی مغل کے اعتراض کی وجہ سے تقرری نہ ہو سکی۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ میں بطور جج تقرری کی گئی۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی عدالت العالیہ یا عدالت عظمیٰ میں بطور جج تقرری کےلئے کم از کم دس سے پندرہ سال اعلیٰ عدالتوں میں بطور وکیل پریکٹس ہونا لازمی ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ دیگر شرائط بھی لاگو ہوتی ہیں۔

حال ہی میں عدالت العالیہ کے پانچ ججوں کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ دینے والے قائمقام چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کو پاکستانی کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے لگائی گئی دوسری ایمرجنسی (سات نومبر2007) کے بعد فروری 2008کو بطور جج عدالت العالیہ تعینات کیا گیا تھا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اکثریتی ججوں نے چیف جسٹس آف پاکستان (وقت) افتخار محمد چوہدری کی قیادت میں پی سی او (عبوری آئینی حکم) کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے استعفے دے دیئے تھے۔ جس کے بعد پیدا ہونے والے آئینی بحران کو حل کرنے کےلئے عدالتوں میں نئے ججوں کی تقرریاں کی گئی تھیں۔ اس طرح پی سی او کے تحت حلف لیتے ہوئے راجہ محمد سعید اکرم بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تعینات ہوئے تھے۔

31جولائی 2009ءکو پاکستان کی سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت تقرر کئے جانے والے جج ہائی کورٹ راجہ سعید اکرم کی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں گھر بھیج دیا تھا۔

تاہم بطور جج ہائی کورٹ اسلام آباد تعیناتی کے دوران انہوں نے وزیراعظم پاکستان (وقت) سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف کرپشن کے دو ریفرنس خارج کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو بری قرار دیا تھا۔ مذکورہ ریفرنسوں میں 1993-96کے دوران پاکستان کے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چھ سو سے زائد غیر قانونی بھرتیوں کے ذریعے قومی خزانے کو سالانہ تیس کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کا ریفرنس بھی شامل تھا۔

مذکورہ ریفرنسوں میں وزیراعظم پاکستان (وقت) یوسف رضا گیلانی کو باعزت بری کرنے کے والے جج راجہ سعید اکرم کو بطور جج ہائی کورٹ برطرفی کے بعد یکم فروری2010ءکو سپریم کورٹ آف پاکستان کی انٹی نارکوٹکس فورس میں بطور سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کر دیا تھا۔ لیکن اس تقرری کے ڈیڑھ ماہ بعد16مارچ2010ءکو راجہ سعید اکرم کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں چیئرمین احتساب بیورو تعینات کر دیا گیا۔

بطور چیئرمین احتساب بیورو تعیناتی کے ایک سال بعد ہی عدالت العالیہ میں ججوں کی تقرری کےلئے ایک مرتبہ پھر راجہ سعید اکرم کا نام تجویز کیا گیا۔ لیکن چیف جسٹس عدالت العالیہ (وقت) جسٹس غلام مصطفی مغل نے راجہ سعید اکرم کا نام تجویز کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انہوں نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ایک دن بھی بطور وکیل پریکٹس نہیں کی۔ اس لئے وہ بطور جج عدالت العالیہ تقرری کے اہل نہیں ہیں۔

پاکستان کے معروف انگریزی جریدے ”دی نیوز“ کی ایک رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس عدالت العالیہ مصطفی مغل نے بتایا کہ انہوں نے سعید اکرم کا نام تجویز نہیں کیا لیکن اس کے باوجود عدالت العالیہ میں ججز کی تقرری کے لئے تیار کی گئی وکلاءکی فہرست میں انکانام شامل کیاگیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ریکارڈ چیک کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ راجہ سعید اکرم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بطور وکیل کبھی بھی ان رول نہیں رہے۔

بطور جج عدالت العالیہ تعیناتی کی راہ میں چیف جسٹس عدالت العالیہ کے رکاوٹ بننے کے بعدراجہ سعید اکرم کو سپریم کورٹ میں بطور جج تعینات کئے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس دوران پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اس طرح سپریم کورٹ میں دو مستقل اور ایک ایڈہاک جج کی تعیناتی کےلئے سمری تیار کی گئی۔ ابتدائی طور رپ راجہ سعید اکرم کو بطور ایڈہاک جج تعینات کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ چوہدری محمد ابراہیم ضیاءاور سردار محمد صادق خان کو بطور مستقل جج سپریم کورٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم چیئرمین کشمیر کونسل کی منظوری کے بعد 16دسمبر2011ءکو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق راجہ سعید اکرم اور چوہدری محمد ابراہیم ضیاءکو بطور مستقل جج سپریم کورٹ تعینات کیا گیا جبکہ سردار محمد صادق خان کی تقرری بطور ایڈہاک جج سپریم کورٹ کی گئی۔

اس طرح راجہ سعید اکرم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک روز بھی بطور وکیل پریکٹس کئے بغیر اعلیٰ ترین عدالت میں مستقل جج کے طور پر تعینات کر دیئے گئے۔

راجہ سعید اکرم کون ہیں؟
راجہ سعید اکرم 10مارچ1962ءکو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے شہر لالہ موسیٰ میں پیدا ہوئے۔ انکے آباﺅ اجداد ماضی میں جموں کشمیر کے بھارتی زیر انتظام حصہ سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم لالہ موسیٰ سے حاصل کی جبکہ گریجویشن کی ڈگری اور قانون کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کرنے کے بعد اکتوبر1989ءمیں انہوںنے بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔

راجہ سعید اکرم کو نومبر1991ءمیں ہائی کورٹ جبکہ جون 2004ءمیں سپریم کورٹ کے وکیل کا لائسنس جاری کیاگیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں 1995میں انہیں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات کیا گیا۔ جبکہ 15فروری2008ءکو انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ حلف اٹھایا۔اس وقت وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عدالت عظمیٰ میں قائمقام چیف جسٹس کے طور پر تعینات ہیں اور مستقل چیف جسٹس کے طور پر تعینات ہونے کی کوشش میں مصروف ہیں۔