پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میںنافذ العمل عبوری آئین ایکٹ1974ءمیں تیرہویں ترمیم سے متعلق قانون سازی میںپاکستان کی وفاقی وزارت امور کشمیر کی جانب سے مسلسل رکاوٹ بننے اور چودہویں آئینی ترمیم کےلئے دباﺅ سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وزارت امورنے تیرہویں ترمیم کے بعدکشمیر کونسل سے مقامی حکومت کو منتقل ہونے والے اختیارات سے متعلق قانون سازی اور متعلقہ ریکارڈ مہیا کرنے سے کشمیر کونسل کے افسران کو روک رکھا ہے۔
منظر عام پر آنے والی کچھ خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد مقامی حکومت کو ملنے والے انتظامی اور مالیاتی اختیارات سے متعلق قانون سازی کرنے کےلئے ریکارڈ کی فراہمی سمیت کونسل سیکرٹریٹ کے ملازمین کی خدمات کے حصول میں وفاقی وزارت امور کشمیر مسلسل رکاوٹ بنتی رہی اور دو سال میں کوئی بھی قانون سازی نہ ہو سکی۔ جبکہ اس دوران چودہویں آئینی ترمیم سے متعلق مسودہ تیار کرنے کےلئے وفاق کی جانب سے کمیٹی قائم کر رکھی تھی۔ وفاقی کمیٹی نے مبینہ طور پر تین سے چار ترمیمی مسودہ جات مظفرآباد حکومت کو ارسال کر رکھے ہیں۔ فائنل مسودہ کے مطابق تیرہویں ترمیم کے تحت حاصل اختیارات دوبارہ کشمیر کونسل میں منتقل کرنے سمیت کونسل کو انتظامی طور پر بھی پہلے سے زیادہ مضبوط کئے جانے کی تجاویز شامل ہیں۔
منظر عام پر آنے والی خط و کتاب سے مظفرآباد حکومت کے اختیارات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ ایک ’آزاد“ قرار دی جانے والی حکومت مشاورتی کونسل میں تعینات انیسویں سکیل کے ملازم کی خدمات پندرہ ایام کےلئے حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔تیرہویں ترمیم کے بعدقانون سازی کے سلسلہ میں مشاورت کےلئے کشمیرکونسل کے ڈپٹی سیکرٹری لاءکو پندرہ ایام کےلئے محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کے ساتھ منسلک کر کے مظفرآباد طلب کیا گیا تھا لیکن وزارت امور کشمیر نے مذکورہ افسر کو بھیجنے سے انکار کر دیا۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے وزیراعظم کے احکامات کے تحت ڈپٹی سیکرٹری کے خلاف انکوائری کمیٹی مقرر کی اور انہیں سروس سے برطرف کرنے کی کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جوائنٹ سیکرٹری کشمیر کونسل کی جانب سے تفصیلی مکتوب میں وزارت امور کشمیر کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی گئی کہ ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل وفاقی ملازم ہیں اور ان کے خلاف مظفرآباد کی مقامی حکومت کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔
دو سال قبل ہونے والی اس ایکسرسائز کے بعد پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت تیرہویں ترمیم کے بعد حاصل اختیارات سے متعلق قانون سازی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ان لینڈ ریونیو کا محکمہ قائم کرنے سے متعلق قانون سازی کے باوجود چیئرمین کی تعیناتی کا عمل سابق چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا کالعدم قرار دے چکے ہیں۔
تین جولائی 2018ءکو محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبرS&GAD/A-29(1)2018کے تحت ”آزاد جموں و کشمیر کونسل“ میں تعینات ڈپٹی سیکرٹری /لاءڈرافٹس مین BS-19 راجہ طارق محمودکی خدمات پندرہ ایام کےلئے محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق حکومت ’آزاد جموں و کشمیر‘ کو تفویض کرتے ہوئے فوری عملدرآمد کا حکم جاری کیا گیا تھا۔
16جولائی 2018ءکو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سیکرٹری قانون نے سیکرٹری سروسز کو ایک مکتوب نمبرق/پی ایس/638-40/2018 کے ذریعے مطلع کیا کہ راجہ طارق محمود ڈپٹی سیکرٹری /لاءڈرافٹسمین کو پندرہ ایام کےلئے محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق سے منسلک کیا گیاتھا لیکن آفیسر موصوف نے نہ ہی حاضری رپورٹ پیش کی اور نہ ہی اپنی کسی تحریری یا زبانی معذوری کا اظہار کیا۔مکتوب میں کہا گیا کہ اس دوران قومی جرائد میں بھی تسلسل کے ساتھ ان کی عدم حاضری کی نسبت خبریں آتی رہی ہیں۔ مکتوب کے مطابق عبوری دستور کے آرٹیکل51-A(2)کی رو سے کونسل کے جملہ ملازمین ’حکومت آزادکشمیر‘ (پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت) کو منتقل ہو چکے ہیں۔ اس طرح ایک ڈپٹی سیکرٹری کی سطح کے آفیسر کی جانب سے حکومتی احکامات کی تعمیل نہ کرنا صریحاً خلاف قانون و آئین ہے جو سخت تادیبی کارروائی کا متقاضی ہے۔ مکتوب میں اعلیٰ عدالتوں کے تبادلہ جات کی تعمیل نہ کرنے سے متعلق فیصلہ جات کا تذکرہ بھی کیا گیا اور آفیسر موصوف کے خلاف تادیبی کارروائی کی تحریک کی گئی۔
مذکورہ مکتوب کے ایک مہینہ بعد 20اگست کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم کے دستخط سے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل کو سپیشل پاور ایکٹ کے تحت سروس سے برطرف کرنے کےلئے الزامات پر مبنی چارج شیٹ ارسال کی گئی۔ چارج شیٹ میں کہا گیا کہ تین جولائی کو پندرہ ایام کےلئے انہیں مظفرآباد تبدیل کیا گیا لیکن تاحال اس حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ یہ عمل سپیشل پاور ایکٹ کی رو سے مس کنڈکٹ میں آتا ہے۔ لہٰذا سات ایام کے اندر اندر انکوائری آفیسر کے سامنے پیش ہو کر وضاحت پیش کی جائے، بصورت دیگر ملازمت سے برطرفی کی یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ تاہم ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل کی جانب سے کوئی جواب نہ دیا گیا۔
محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے تین ستمبر2018کوایک اور نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ نوٹیفکیشن نمبر ایڈمن/I-1(113)2018 کے تحت وزیراعظم ’آزاد حکومت‘ کی جانب سے ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل راجہ طارق محمود کی سپیشل پاور ایکٹ کے تحت برطرفی کی کارروائی کےلئے سینئرممبر بورڈ آف ریونیو فیاض علی عباسی کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا۔ اور ساٹھ ایام کے اندر اندر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کی جانب سے نو ستمبر 2018ءکو ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل کو ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے انکوائری کی بابت آگاہ کیا۔ مذکورہ مکتوب کے مطابق راجہ طارق محمود ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل کو 12ستمبر 2018بوقت 12بجے دن سماعت کےلئے آفسر چیمبر طلب کیا گیا تھا۔ مذکورہ مکتوب کے ساتھ چارج شیٹ بھی ارسال کی گئی۔
بارہ ستمبر کو بھی ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل انکوائری آفیسر کے سامنے پیش نہ ہوئے۔ بلکہ 12ستمبر کو جوائنٹ سیکرٹری کشمیر کونسل کی جانب سے ایک تفصیلی مکتوب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکرٹری کو ارسال کیا۔ جس میں وضاحت کی گئی کہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی جانب سے چھ جولائی 2018ءکو لکھے گئے مکتوب نمبر7(2)/2014-K-Iکے تحت ”آزاد جموں و کشمیر“ حکومت کو اطلاع دی جا چکی ہے کہ عبوری آئین ایکٹ 1974ءکی متعدد سیکشن میں تبدیلیاں کر دی گئی ہیں جو کشمیر کونسل کے انتظامی اور مالیاتی اختیارات کو متاثر کر رہی ہیں۔ یہ مسئلہ وزیراعظم پاکستان کے نوٹس میں بھی لایا گیا ہے۔ وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کی ہدایات کے مطابق ہی راجہ طارق محمود کی خدمات محکمہ قانون ’آزاد حکومت‘ کو تفویض نہیں کی جا سکتیں۔
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یہ تشویش ناک امر ہے کہ ’آزاد جموں و کشمیر حکومت‘ امور کشمیر و گلگت بلتستان کے خط کو عزت دینے کی بجائے متعلقہ افسر کی انکوائری قائم کر رہے ہیں۔ انکوائری کا حکم غیر قانونی ہے کیونکہ آفیسر’آزاد حکومت ‘ کے ماتحت نہیں ہے بلکہ وزیراعظم پاکستان بطور چیئرمین کشمیر کونسل آفیسر موصوف کے خلاف کسی بھی قسم کا ایکشن لینے کی مجاز اتھارٹی ہیں ۔مزید یہ کہ کشمیر کونسل کے افسران پر سپیشل پاور ایکٹ لاگو نہیں ہوتا۔ افسر موصوف پاکستانی شہری ہے،باشندہ ریاست نہیں ہے۔ پاکستانی شہریوں کو عبوری آئین ایکٹ 1974ءمیں بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اسلام جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ون کے تحت ’آزاد جموں و کشمیر “ پاکستان کی فیڈریشن کا حصہ نہیں ہے۔یو این سی آئی پی کی قراردادوں کے مطابق بھی پاکستانی شہریوں کی پاکستانی زیر انتظام کشمیرمیں رہائش اختیار کرنےکی اجازت نہیں ہے اور یہ عمل مسئلہ کشمیر کو متاثر کر سکتا ہے۔لہٰذا راجہ طارق محمود ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل کے خلاف کی گئی کارروائی فوری طور پر ختم کی جائے۔
ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل راجہ طارق محمود نے رابطہ کرنے پرکہا ہے کہ بدستور کشمیر کونسل سیکرٹریٹ میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ مجاز اتھارٹی کی جانب سے جب جہاں تبادلہ کیا گیا وہیں پر خدمات سرانجام دینگے۔ ابھی فی الحال انکا تبادلہ نہیں ہوا۔












Thanks for sharing. I read many of your blog posts, cool, your blog is very good. https://accounts.binance.com/fr-AF/register-person?ref=JHQQKNKN