راولاکوٹ کے ترقیاتی ادارہ پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کی جانب سے جاری کئے گئے مبینہ خلاف قواعد تعمیراتی ٹینڈر کے خلاف عدالت العالیہ نے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے. عدالت نے فریقین کو طلب کرتے ہوئے سماعت پچیس جون تک ملتوی کر دی ہے.
تعمیراتی کمپنی چنار ایسوسی ایٹس کی جانب سے پی ڈی اے کے خلاف یہ رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے. تعمیراتی کمپنی کے وکیل سردار وقاص افسر کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن میںپرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذمہ داران پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوںنے نواحی علاقے کھڑک کے ایک قبرستان کا تعمیراتی کام محکمانہ بنیادوںپر چھ ماہ قبل ہی مکمل کر لیا تھا.
بعد ازاں خلاف قواعد پیپرا کی ویب سائٹ پر55 لاکھ مالیت کا ٹینڈر نوٹس جاری کیا گیا، اشتہار کے مطابق ٹینڈر اکیس مئی کو ڈالے جانے تھے، جبکہ بائیس مئی کو ٹینڈر کھولے جانے تھے، لیکن یہ کارروائی بھی اٹھائیس مئی کو مکمل کی گئی. اور اس طرح من پسند ٹھیکیدار کو ٹینڈر دے دیا گیا. جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ پی ڈی اے اور ٹھیکیدار ملی بھگت سے یہ پیسہ ہڑپ کرنے کا منصوبہ کر رہے ہیں. جبکہ جس تعمیراتی کام کا ٹینڈر جاری ہوا وہ تعمیراتی کام چھ ماہ قبل پورا ہو چکا ہے.
عدالت نے رٹ پٹیشن سماعت کےلئے منظور کرتے ہوئے پی ڈی اے کے ذمہ داران کو پچیس جون کو عدالت طلب کر لیا ہے. جبکہ آئندہ سماعت تک صورت موقع بحال رکھے جانے کی غرض سے سٹے آرڈر (حکم امتناعی) بھی جاری کر دیا ہے.
راولاکوٹ کے نواحی علاقہ کھڑک کے قبرستان کا تعمیراتی کام گزشتہ چھ ماہ سے سوشل میڈیا اور اخبارات میں زیر بحث رہا ہے. مقامی رہنماؤںکا الزام تھا کہ چیئرمین پی ڈی اے نے قبرستان کی صفائی، حفاظتی دیواروں کی تعمیر اور کنکریٹ کی مد میںبھاری درختاں برید کر کے فروخت کر دیئے ہیں. مقامی لوگوںکی طرف سے پرانے قبروںکی بے حرمتی کے الزامات بھی عائد کئے گئے.
تاہم اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ تعمیراتی کام قواعد کے مطابق ٹینڈر جاری کرتے ہوئے ٹھیکیدار کے ذریعے نہیںکروایا گیا بلکہ چیئرمین پی ڈی اے نے اپنی سربراہی میںمحکمانہ بنیادوںپرہی مذکورہ کام کروایا ہے. جبکہ بعد ازاںقوانین کے تحت فائل پوری کرنے کےلئے ٹینڈر جاری کیا گیا ہے. لیکن ٹینڈر جاری کرنے کے قواعد کو بھی ملحوظ خاطر نہیںرکھا گیا. محضپیپرا کی ویب سائٹ پر ٹینڈر نوٹس جاری کیاگیا. جبکہ قواعد کے مطابق کم از کم دو اخبارات میںٹینڈر جاری کیا جانا ضروری تھا.
دوسری طرف ٹینڈر میںدی گئی تاریخوںپر ٹینڈر ڈالنے اور کھولنے کا عمل مکمل کرنے کی بجائے الگ تاریخ کا چناؤ کیا گیا جو یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ادارہ کے ذمہ داران کی جانب سے مذکورہ منصوبہ کو کم لاگت میںمکمل کرنے کے بعد ٹھیکیدار سے ساز باز کے ذریعے اضافی رقم کو مل بانٹ کر کھانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے.
واضح رہے کہ پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر ترقیاتی اداروںکے خلاف ماضی میںبھی مختلف کرپشن کے کیس منظر عام پر آتے رہے، لیکن احتساب بیورو میںان کیسوںکی سماعت کا سلسلہ آگے نہیںبڑھ سکا. پی ڈی اے کےلئے یہ مشہور ہو چکا ہے کہ جو بھی شکایت مذکورہ ادارہ کے خلاف احتساب بیورو یا کسی دوسرے ادارے کے پاس جمع کروائی جاتی ہے اس ادارے کے کسی سربراہ کو ایک پلاٹ مل جاتا ہے اور کیس داخل دفتر ہو جاتے ہیں.
عدالت العالیہ کی جانب سے ادارے کے سپیشل آڈٹ کا حکم بھی جاری کیا جا چکا ہے، لیکن تین سال گزر جانے کے باوجود مذکورہ ادارہ کا سپیشل آڈٹ نہیںہو سکا، ادارہ کے ذمہ داران مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے سپیشل آڈٹ کی راہ میںروڑے اٹکاتے ہیں اور تین سال سے عدالتی حکم کے باوجود سپیشل آڈٹ نہیںہو سکا ہے.
سیاسی و سماجی رہنماؤںنے مذکورہ رٹ پٹیشن کے بعد ایک مرتبہ پھر ادارہ ترقیات راولاکوٹ کے سپیشل آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے. چیف جسٹس عدالت عظمیٰ اور چیف جسٹس عدالت العالیہ سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا فوری آڈٹ کیا جائے تاکہ ادارہ کے قیام سے اب تک ہونے والی تمام تر کرپشن کر پردہ چاک ہو سکے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو سکے.













I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article.