پاکستانی کشمیر:‌سائبر کرائم ایکٹ کے خلاف رٹ پٹیشن سماعت کےلئے منظور

پاکستانی زیر انتظام جموں‌و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی طرف سے کریمنل لاء دوسرا ترمیمی ایکٹ 2020ء کے تحت 18- Aچیپٹر کے اضافہ کے خلاف رٹ پٹیشن عدالت العالیہ نے سماعت کےلئے منظور کر دی ہے. رٹ پٹیشن کی آئندہ سماعت 25 جون کو ہوگی، جبکہ عدالت نے فریقین جن میں‌وفاقی حکومت، وفاقی کابینہ، پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت، کابینہ اور ممبران اسمبلی کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں. جبکہ رٹ پٹیشن کی سماعت کےلئے ڈویژن بنچ کی تشکیل کےلئے بھی چیف جسٹس عدالت العالیہ کو تحریک کر دی گئی ہے.

مذکورہ ترمیمی ایکٹ کو غیر آئینی اور وفاقی حکومت کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے منظور کئے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے سینئرصحافی ظفر مغل اور دیگر نے عدالت العالیہ میں‌چیلنج کیاہے.

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں 2 جون 2018 ء کو 13 ویں آئینی ترمیم کی بعد عبوری آئین 1974ء میں 31 جنوری 2020ء کو قانون ساز اسمبلی نے الیکٹرانکس ٹرانزیکشن افینسیز کے نام سے آزاد پینل کوڈ 1860 ء کوڈ کریمنل پروسیجر 1896ء میں کریمنل لاء سیکنڈ ایمنڈمنٹ ایکٹ 2020ء(سائبرکرائم) میں عنوان کے تحت 18-A چیپٹر جو اضافے کا ایکٹ پاس کیا تھا اور اسے صدر ریاست مسعود خان کی منظوری کے بعد 16 فروری 2020 ء کو گزٹ میں زیر نمبری No: LD/Legis – Act – 89/2020 ،مورخہ 21 فروری 2020ء کو شامل کیا گیا تھا۔

پٹیشنر ظفر مغل کے وکیل قاضی عدنان قیوم نےعدالت العالیہ میرپور سرکٹ میں‌رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ترمیمی ایکٹ آئین سے متصادم /بنیادی انسانی حقوق کے منافی اور بدوں اختیارہے، پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر اسمبلی کی طرف سے وفاق پاکستان کا آئینی اختیار استعمال کرکرتے ہوئے یہ ایکٹ منظور کیا گیا ہے.

جسٹس محمد شیراز کیانی نے پٹیشن سماعت کےلئے منظور کی، وکیل پٹیشنر نے ابتدائی سماعت میں‌دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پینل کوڈ 1860ء کوڈ کریمنل پروسیجر 1896 ء میں کریمنل لائسیکنڈ ایمنڈمنٹ ایکٹ 2020 ء (سائبرکرائم ایکٹ) کے عنوان سے 18-A چیپٹر کا اضافہ غیر آئینی اور بدوں اختیار ہے۔ اور یہ اضافہ عبوری آئین 1974 ء کے آرٹیکل 31 ذیلی آرٹیکل 3 کی تھرڈ شیڈول کی لسٹ A میں درج کیے گئے مضامین میں متذکرہ ترمیم کردہ ایکٹ 2020 ء18-A چیپٹر والامضمون بھی شامل ہے اور آئین کے مطابق اس آرٹیکل کی شیڈول لسٹ میں شامل اس معاملہ میں قانون سازی کا اختیار پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہونے کے بجائے وفاقی حکومت پاکستان کو حاصل ہے۔ اس طرح 18-A چیپٹر عبوری آئین 1974 ء سے متصادم ہونے اور قانون ساز اسمبلی کی طرف سے بدوں اختیار،غیر آئینی اور غیر قانونی اور قابل منسوخی ہے اور مروجہ آئین میں درج تھرڈ شیڈول کی لسٹ A کے تمام سبجیکٹس میں ترمیم کا اختیار بلا شرکت غیرے وفاقی حکومت پاکستان کو ہی حاصل ہے۔

پٹیشن میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کریمنل پروسیجر کوڈ میں شامل کی گئی دفعہ 176-A,B کے تحت پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر حکومت نے قانونی تقاضے پورے کرنے اور اس پر عمل درآمد کی غرض سے کسی ایجنسی اور پولیس سمیت کسی بھی محکمہ کے افسر کو تفتیش کرنے کے اختیارات تفویض کرنے کا کوئی نوٹیفیکیشن بھی جاری نہ کیا ہے۔ اس لیے قانون کے مطابق ایسے نوٹیفیکیشن کی عدم موجودگی میں کسی کو گرفتار کرکے تفتیش کی جانی بھی خلاف قانون اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کہ ریاستی قوانین کے تحت قابل گرفت ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہے۔

قاضی عدنان قیوم نے مزیددلائل دیتے ہوئے کہاکہ آئین میں درج وفاق پاکستان کے دائرہ کارمیں آنیوالے مضامین کی لسٹ میں سائبرکرائم سے متعلقہ معاملہ بھی شامل ہے اوراس سے قبل کبھی بھی پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی اسمبلی کواس معاملے میں قانون سازی کااختیارحاصل نہیں رہابلکہ تیرہویں آئینی ترمیم سے قبل کشمیرکونسل نے ہی یکے بعددیگرے اس معاملے میں قانون سازی کرتے ہوئے انٹری نمبر2، 49اور53کے تحت اس مضمون بارے قوانین بنارکھے ہیں.

جسٹس محمد شیراز کیانی نے ابتدائی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ یہ انتہائی اہم آئینی اور مفاد عامہ کا معاملہ ہے اور رٹ پٹیشن کوسماعت کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس کی اہمیت کے پیش نظر چیف جسٹس ہائی کورٹ کوڈویژن/ لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے تحریک کی جا کر تمام فریقین کو پیرا وائز جواب دینے کے لیے تاریخ سماعت 25جون2020ء نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔

اس اہم نوعیت کی آئینی رٹ پٹیشن میں وفاق پاکستان، وزیر اعظم پاکستان بذریعہ پرنسپل سیکرٹری، وفاقی کابینہ بذریعہ سیکرٹری کابینہ، انچارج وزارت امور کشمیر، صدر پاکستانی زیر انتظام کشمیر بذریعہ پرنسپل سیکرٹری، پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت بذریعہ چیف سیکرٹری، پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی کابینہ بذریعہ سیکرٹری کابینہ، چیف سیکرٹری، ممبران قانون ساز اسمبلی بذریعہ سیکرٹری اسمبلی، محکمہ پولیس بذریعہ انسپکٹر جنرل آف پولیس، ڈی آئی جی پولیس رینج میرپورڈویژن، ایس ایس پی ضلع میرپور اور ایس ایچ اوز پولیس تھانہ تھوتھال و سٹی میرپور کو فریق بنایا گیا ہے، جن کو ہائی کورٹ نے نوٹسز جاری کیے ہیں۔

جبکہ اس رٹ پٹیشن میں سینئر صحافی ظفر مغل کے علاوہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور کے ممبران ایگزیکٹیو خاور شریف، محمد مدثر اقبال، محمد شہزاد چوہدری ممبران بار، سعد انصاری،لئیق احمد، سید شعیب بخاری، چوہدری عمران خان، اسد حسین ایڈووکیٹ، چوہدری فیصل عباس، راجہ انجم محمود،راجہ عبدالرؤف خان،خالد محمود اعوان اور ذوالفقار علی بابر،اعتزاز احسن ایڈووکیٹس شامل ہیں اور پٹیشنرز کی طرف سے ہائی کورٹ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور کے سابق صدور چودھری محمد صدیق، ذوالفقار احمد راجہ، سردار اعجاز نذیر اور قاضی عدنان قیوم ایڈووکیٹس پینل میں شامل ہیں۔