کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما و سابق ممبر اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر کے لئے نئی میڈیا پالیسی کے نفاذ کو اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی سے صحافیوں میںایک شدید عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس پالیسی کو تیار کرنے والوں نے ایک واضح تصویر دی ہے کہ وہ کہ صحافی اپنے قارئین اور ایڈیٹرز کی بجائے اب بیوروکریٹس اور سکیورٹی افسران کے سامنے جوابدہ ہونگے، جن کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا کہ کون سی خبر جعلی ، غیر اخلاقی ، سرقہ بازی ہے یا ملک دشمنی پر مبنی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد حکومت کو اس بات کے مکمل اختیارات دینا ہے کہ وہ آزادی صحافت کو سختی سے کچل سکے۔
اپنے بیان میںیوسف تاریگامی نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی حکومت نے ایسی پالیسی بنائی ہے جو اپنے ہی افسران کو جعلی خبروں کے بارے میں فیصلہ کرنے اور صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ کشمیریوں میں کھلے عام اور خفیہ طریقوںسے میڈیا افراد پر طویل عرصے سے دباؤ ڈالا جارہا ہے ، لیکن گذشتہ سال اگست کے بعد سے حکام کی جانب سے آزادی صحافت کی تضحیک کی کوششیں عروج پر ہیں۔
میڈیا کی نئی پالیسی اسی طریقہ کار کا تسلسل ہے، جس کا گزشتہ اگست سے صحافی سامنا کر رہے ہیں۔ اہم آوازوں کو خاموش کرنے اور صحافیوں کو سیلف سنسرشپ پر مجبور کرنے کے لئے حکام ہراساں کرنے ، دھمکانے ، نگرانی اور آن لائن انفارمیشن کنٹرول کرنے کے طریقوں کو استعمال کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر کی انتظامیہ کا جمہوری گورننس کا نظریہ آئین ہند کے جمہوری گورننس کے نظریہ سے بلکل متضاد ہے.
انہوںنے مطالبہ کیا کہ میڈیا کی نئی پالیسی کو فی الفور واپس لیا جانا چاہیے اور حکومت کو فوری طور پر جموں و کشمیر میں صحافیوں کو دھمکانے کا سلسلہ روکنا چاہئے۔ ایک آزاد میڈیا مصنوعی اچھی کہانیوں سے زیادہ موثر انداز میں حکومت کو صحیح اقدامات کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیرکی انتظامیہ نے گزشتہ منگل کو ایک نئی میڈیا پالیسی 2020 کی منظوری دی ہے – جس میں کہا گیا ہے کہ یہ پالیسی میڈیا میں حکومت کے کام سے متعلق بیانیہ تیار کرنے میںمدد دے گی اور یونین ٹریٹری میں صحافت کے اعلی معیار کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
انتظامیہ نے کہا کہ اس پالیسی سے دوسری چیزوں کے علاوہ غلط معلومات ، جعلی خبروں کے پھیلاؤ کا راستہ بھی روکا جائے گا اور عوامی امن ، خود مختاری اور سالمیت کو خراب کرنے کے لئے میڈیا کو استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف موثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے گی۔
مذکورہ پالیسی میں ریاستی انتظامیہ کے افسران اور سکیورٹی فورسز کے افسران کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ریاست کے مفادات کے مغائر شائع ہونے والی خبروں پر متعلقہ صحافیوںاور میڈیا اداروںکے خلاف کارروائی کرنے کے اہل ہونگے، اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی خبروں سے متعلق بھی یہ افسران تحقیقات اور کارروائی کرنے کے اختیارات کے حامل ہونگے.
یہ پالیسی بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر پولیس کے دو صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور متعدد دیگر افراد کو اپنی رپورٹنگ اور سوشل میڈیا پوسٹوں کے لئے طلب کرنے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ ان دونوں صحافیوں پر اپریل میں انسداد دہشت گردی غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گذشتہ ماہ ، ایک مقامی نیوز پورٹل ، کشمیر والہ کے ایڈیٹر کو طلب کیا گیا تھا ، اور انہیں سری نگر میں فائرنگ کے دوران مبینہ پولیس کے مس کنڈکٹ کے بارے میں خبر کی اشاعت کے لئے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔












17 تبصرے “بھارتی کشمیر:نئی میڈیا پالیسی کانفاذ اظہار رائے کا گلہ گھونٹنے کی کوشش ہے، تاریگامی”