ذہنی معذور محنت کش کا قتل: ایک سال بعد تحقیقات کا حکومتی اعلان عملدرآمد کا منتظر!

پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر کے صدر اور وزیراعظم نے گزشتہ سال مئی میں‌قتل ہونے والے محنت کش کے قتل کا بالآخر نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کروانے کا اعلان کر دیا ہے.

صدر مسعود خان اور وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ٹویٹر پر چلنے والے جسٹس فار شوکت کے ٹرینڈ کی مقبولیت کے بعد الگ الگ ٹویٹ میں قتل کی تحقیقات کروانے اور شوکت خورشید کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے.

صدر مسعود خان نے اپنے ٹویٹ میں‌کہا کہ ایک معصوم انسان کا قتل لرزہ خیز جرم ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں‌کیا جا سکتا. مجھے اس معاملے کا پہلی مرتبہ علم ہوا ہے. انہوں‌نے کہا کہ وہ قتل کی تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں. انہوں‌نے مقتول شوکت خورشید کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا.

وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے بھی اپنے ٹویٹ میں‌ کہا کہ شوکت کے قاتلوں‌کی گرفتاری میں‌حکومت کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں‌کرے گی.

تاہم صدر وزیراعظم نے اپنا یہ ٹویٹ رواں ماہ کی دو تاریخ کو کیا تھا،جبکہ صدر مسعود خان نے ایک ہفتہ بعد 9 مئی کو نوٹس لیکر تحقیقات کا حکم جاری کیا. لیکن ورثاء اور سوشل میڈیا پر انصاف کےلئے مہم چلانے والوں‌کا کہنا ہے کہ تاحال اس سلسلے میں‌کوئی اقدام نہیں‌اٹھایا گیا ہے نہ ہی ورثاء سے رابطہ کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے.

تحصیل تراڑکھل کا رہائشی محنت کش شوکت خورشید گزشتہ سال 21 اپریل کو گھر سے لاپتہ ہو گیا تھا. بعد ازاں‌یکم مئی 2019 کو شوکت خورشید کی مسخ شدہ نعش میرپور کی تحصیل ڈڈیال سے ملی.

تراڑکھل کمیونٹی اور نوجوان اتحاد کے نام سے قائم گروپس نے سوشل میڈیا پر شوکت خورشید کو انصاف دلانے کےلئے مہم چلا رکھی ہے. مہم چلانے والے نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ شوکت خورشید دماغی طور پر معذور تھا، تراڑکھل بازار میں ہی چھوٹی موٹی مزدوری کرکے اپنا اور بوڑھے والدین کا پیٹ پالتا تھا.

نوجوانوں‌کا موقف ہے کہ شوکت خورشید کے قتل کی تاحال ایف آئی آر درج نہ ہو سکی اور نہ ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی جا سکی ہے. نعش برآمد ہونے کے وقت اہل علاقہ نے احتجاج کیا تھا لیکن حکومت اور انتظامیہ نے پندرہ دنوں‌میں قاتلوں‌کی گرفتاری کی یقین دہانی کروا کر نعش کی تدفین پر مظاہرین کو آمادہ کیا تھا.

حلقہ سے ممبر اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر نے عوام علاقہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر پندرہ دنوں‌میں‌قاتل گرفتار نہ ہوئے تو وہ خود جیل کی سلاخوں‌کے پیچھے چلے جائیں گے، لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے تاحال نہ مقدمہ بھی درج نہ ہو سکا.

مذکورہ نوجوانوں‌نے الزام عائد کیا ہے کہ پوسٹمارٹم رپورٹ اور ایف آئی آر کے نام پر مقتول کے بوڑھے اور غریب والدین سے بھاری رقوم بھی حاصل کی گئی ہیں لیکن نہ ہی رپورٹ مل سکی اور نہ ہی ایف آئی آر درج ہو سکی.

انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے قتل کی تحقیقات کےلئے آخری پتھر تک کو اکھاڑنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن لگتا ہے کہ قاتل وزیراعظم اور صدر سے بھی طاقتور ہیں کہ ایک سال بعد لئے جانے والے نوٹس کے بعد بھی دو ہفتے سے زائد عرصہ گزر گیا کوئی ایکشن نہیں‌لیا گیا ہے.