پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے نافذ کردہ ہیلتھ ایمرجنسی میںمزید نرمی کرتے ہوئے کاروباری اوقات کار کو صبح پانچ بجے سے شام چار بجے تک بڑھا دیا گیا ہے.
لاک ڈاؤن میںنرمی کے دو ہفتے بعد مزید نرمی کا یہ فیصلہ حکومت نے عید الفطر کی تیاریوں کے سلسلہ میںخریداروںکے بازاروںمیںرش کو کم کرنے کی غرضسے کیا ہے. حکومتی نوٹیفکیشن میں تاجروںاور شہریوںکو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے. کسی بھی دکان میںدو یا چار سے زائد افراد کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے.
ماسک پہنے بغیرخریداروںکے دکانوںمیں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے. اسی طرحہینڈ سینییٹائزر کے بار بار استعمال کی بھی ہدایت کی گئی ہے. بچوں اور بوڑھوںکے بھی دکانوںمیںداخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے.
لیکن عملی طور پر کسی بھی جگہ پر شہری حکومتی پابندیوںپر عمل پیرا نظر نہیںآرہے ہیں. شہروںمیں بے ہنگم رش میںمسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے. خواتین بچوںاور بزرگوں سمیت حفاظتی تدابیر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خریداری میںمصروف ہیں.
لاک ڈاؤن میںنرمی کے وقت یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ہول سیل مارکیٹوں میںمال کی قلت ہو گی جسکی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں معمول سے زیادہ کم ہونگی اور سماجی وقفے کے اصولوںپر آسانی سے عملدرآمد کروا لیا جائے گا. انتظامیہ نے شہروںکے نئے ٹریفک پلان بھی مرتب کئے، پبلک ٹرانسپورٹ کو بدستور بند رکھا گیا. لیکن تمام تر تدابیر بے سود نظر آرہی ہیں.
انٹری پوائنٹس سے داخلے پر پابندی کے فیصلے پر بھی حکومت اور انتظامیہ مکمل طور پر عملدرآمد کروانے میںکامیاب نہیںہو سکی. جس وجہ سے مختلف غیر ریاستی شہریوںسمیت پاکستان کے شہروںمیںمقیم کشمیریوںکی بڑی تعداد مختلف شہروںمیںبدستور داخل ہو رہی ہے.
گزشتہ رمضان اور موجودہ رمضان میںکاروباری سرگرمیوںکے تقابلی جائزہ سے متعلق سوال کے جواب میں ایک تاجر کا کہنا تھا کہ گزشتہ رمضان سے پینتیس سے چالیس فیصد زیادہ خریداری کی جا رہی ہے. تاجروں کےپاس بالخصوص گارمنٹس کا دو سے تین سال پرانا ایسا سٹاک موجود تھا جو فروخت نہیںہو رہا تھا، وہ بھی فروخت کر دیا گیا ہے. اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے دور دراز سے شہروںمیں جو لوگ آتے ہیں وہ پھر بہت زیادہ وقت کپڑے اور جوتے پسند کرنے میںصرف نہیںکرتے، ونڈو شاپنگ سے بھی گریز کیا جا رہا ہے. جس کی وجہ سے محدود وقت میںزیادہ سے زیادہ خریداری کی جاتی ہے. تاجروںکو معمول سے زیادہ فروخت کرنے کے باوجود ریسٹ کےلئے بہت زیادہ وقت میسر آجاتا ہے.
البتہ شام جار بجے کے قریب جب دکانیںبند کرنے کا وقت ہوتا ہے تو پولیس کو روزانہ دکانیںزبردستی ہی بند کروانی پڑتی ہیں. تاجروںکی خواہش ہوتی ہے کہ پولیس کی گاڑی انکی دکان تک زیادہ دیر سے ہی پہنچے تاکہ انہیں مزید کچھ وقت دکان کھولنے کےلئے میسر آسکے.
راولپنڈی سمیت دیگر شہروںکی منڈیوں سے سامان کی ترسیل سے متعلق سوال کے جواب میںایک تاجر کا کہنا تھا کہ ہول سیل مارکیٹوں میں مال سٹاک میںموجود ہے. مال کی کوئی قلت نہیںہے، تاہم ہول سیل ڈیلرز معمول کے حالات میں کریڈٹ پر سامان تاجروںکو فراہم کرتے تھے، اور فروخت کے بعد تاجر ادائیگیاںکرتے تھے، لیکن اس بار ایسا نہیںہو رہا ہے. جس تاجر کے پاس نقد رقم ہے وہی مال ہول سیل مارکیٹوںسے خرید کر لا سکتا ہے. یہی وجہ ہے کہ تاجروںنے پہلے پرانا سٹاک مال فروخت کیا اس کے بعد نیا مال خریدنے کے قابل ہوئے. ہول سیل مارکیٹوںمیںمال کی قلت کا بہانا بنا کر کچھ مہنگائی بھی کی جا رہی ہے.
ایک تاجر کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے علاقائی اور چھوٹے بازاروںمیں بھی کاروبار میںتیزی دیکھنے کو مل رہی ہے. اس کے باوجود معمول میںرمضان میںہونے والی خریداری سے زیادہ خریداری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ راولپنڈی اسلام آباد میں عید کی شاپنگ کی غرضسے نہیںجا پا رہے ہیں. شہروں کے متمول گھرانوں سے تعلق رکھنے والے خاندان عمومی طور پر پاکستان کے بڑے شہروںسے شاپنگ کو ترجیح دیتے ہیں لیکن موجودہ وقت غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر وہ تمام لوگ بھی مقامی مارکیٹوںسے خریداری کرنے پر مجبور ہیں. یہی وجہ ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے شہروںمیں گارمنٹس، کپڑے اور جوتوںکی قیمتوںمیں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے.
تاہم مارکیٹوںمیں پرائس کنٹرول کےلئے کوئی مناسب اقدامات موجود نہیںہیں، سبزی فروٹ اور مرغ کے نرختو روزانہ کی بنیاد پر جاری کئے جا رہے ہیں، لیکن دیگر اشیائے صرف اور گارمنٹس ، کپڑے اور جوتوںکی قیمتیںآسمان سے باتیںکر رہی ہیں.
دوسری طرف بینکوںکے باہر بھی سیکڑوںکی تعداد میںلوگ جمع رہتے ہیں. بینک اوقات کار کو رمضان میںمختصر کر کے دن ایک بجے تک کر دیا گیا ہے. جبکہ کشمیر کے زیادہ تر لوگ بیرون ملک کی رقوم وصول کر کے ہی خریداری کرتے ہیں.
ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح رہی تو کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آسکتی ہے اور صورتحال کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے. صحت کا انفراسٹرکچر پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر میںاس قابل نہیںہے کہ وہ سیکڑوں سے بڑے ہوئے مریضوںکا بوجھ بھی برداشت کر سکے. اس لئے حکومت کو لاک ڈاؤن میںنرمی کا فیصلہ فوری واپس لینا چاہیے اور عید کی تقریبات کو انتہائی سادہ رکھنے کی تلقین کرنے کے علاوہ متاثرین لاک ڈاؤن کی مالی امداد کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مسائل کا شکار ہونے والے افراد کے مسائل کا تدارک کرنا چاہیے.
دوسری طرف شہریوںاور سیاسی و سماجی رہنماؤںکا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میںنرمی کا فیصلہ کوئی دانشمندی نہیںہے. جس طرحکا رش شہروںمیں موجود ہے، اس کیفیت میںپبلک ٹرانسپورٹ سمیت کچھ کاروبار بند رکھ کر انکا معاشی قتل کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے. حکومت کو لاک ڈاؤن کا پرانا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے شہریوںکی مالی امداد کرنی چاہیے. ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی معاشی پیکیج نہ دیئے جانا سمجھ سے بالاتر ہے. حکومت صرف اور صرف ترقیاتی بجٹ کو لیپس ہونے سے بچانے کےلئے عوام کی زندگیوںسے کھیلنے کے درپے ہے.












9 تبصرے “کاروباری اوقات کار میںاضافہ: حفاظتی تدابیر نظر انداز، شہر خریداروںسے بھر گئے”