بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت کی برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی، مختصر تقریبات

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام ریاست جموں کشمیر کی قومی آزادی کے نامور ہیرو اور نظریہ خودمختار جموں کشمیر کے سرخیل بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت کی برسی انتہائی عقیدت و احترام اور اس عزم کی تجدید کے ساتھ منائی گئی کہ انکے مشن کی تکمیل تک جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھی جائے گی۔

جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار صابر کشمیری نے کہا کہ رشید حسرت تاریخ حریت کا جگمگاتا ستارہ اورآزادی پسندوں کے ماتھے کا جھومر ہیں۔کرونہ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا شکار دنیا دس لاکھ انڈین افواج کی طرف سے گزشتہ سات ماہ سے دس لاکھ بھارتی افواج کے محاصرے میں زندگی بسر کرنے والے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کے مصائب کا احساس کرتے ہوے بھارتی حکومت کے انسانیت دشمن اقدامات کا ٹوٹس لے کر ہندوستان کو مجبور کرے کہ وہ کشمیریوں سے حق خودارادیت کے حوالے سے کیا گیا وعدہ پورا کرے پاکستانی عوام اور سول سوسائٹی حکومت کو مجبور کریں کہ وہ ریاست جموں کشمیر کی مستقل تقسیم کے منصوبے سے دستبردار ہوتے ہوے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر مشتمل نماہندہ انقلابی حکومت کے مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوہے اسلام آباد میں سفارتخانہ قائم کرے تاکہ کے توسیعی پسندانہ عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار چیئرمین جے کے ایل ایف سردار صابر کشمیری ایڈوکیٹ سیاسی شعبہ کے سربراہ ناصر سرور سردار اعظم انقلابی منظور میر سردار عبد الجبار کے ایس ایل ایف کے کنوینر قمر الیاس سیکرٹری جنرل شاہ اختر سابق چیرمین صدام افتخار اسد شان سرار ندیم امجد حسین امجد نے بابائے خودمختاری سردار رشید کی برسی کے موقع پر محدود تقریب سے خطاب کرتے ہوے کیا۔

واضع رہے کرونہ لاک ڈاؤن کے باعث تقاریب اور جلسہ عام کو منسوخ کیا گیا تھا سوشل ڈسٹنس کو مدنظر رکھتے محدود تقریب سے خطاب کرتے ہوے مقررین نے سردار رشید حسرت کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوے کہا کہ انھوں نے انتہائی نامسائد حالات میں قومی آزادی کی تحریک کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا راستے کی کوہی رکاوٹ انکے فولادی عزم کو متزلزل نہ کر سکی سردار رشید حسرت کا سیاسی سماجی و تحریکی کردار جواں نسل کے لیے مشعل راہ ہے تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے خوانحصاری اور ناقابل مصالحت جدوجہد کے فلسفے پر چلتے ہوے قومی آزادی کی تحریک کو منظم کرنے پڑے گا۔

مقررین نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر حملے کے بیانات کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں اقوام عالم کو ان بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے ایسے بیانات درحقیقت اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ مسلہ جموں کشمیر کے ریاستی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کے بغیر خطہ ہمیشہ ایٹمی تصادم کے خطرات سے دوچار رہے گا دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ خودمختار جموں کشمیر ہی خطے میں امن و خوشحالی کے قیام کا ضامن ہے آخر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ باباہے قوم محمد مقبول بٹ شہید اور بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت کے افکار اور نظریات کی روشنی میں شہدا کے مقدس مشن خودمختار و خوشحال جموں کشمیر کے حصول تک جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھی جاے گی.