راولاکوٹ کے ایک نجی ہسپتال کے خلاف خبر لکھنے والا مقامی صحافی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ صحافی کے خلاف 16 ایم پی او، 504 اے پی سی اور 29ٹی اے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کیا گیا ہے.
گرفتار ہونے والے صحافی محمد خورشید بیگ کا تعلق راولاکوٹ کے نواحی گاؤںسنگولہ سے ہے، اوروہ مقامی پریس کلب کے سینئرنائب صدرہیں، مذکورہ صحافی نے راولاکوٹ کے ایک نجی ہسپتال کے سے متعلق ذرائع کے حوالے سے ایک خبرسوشل میڈیا ویب سائٹ چلائی تھی جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے مقامی پریس کلب، انتظامیہ اور پولیس کو درخواستیں دے رکھی تھیں. پولیس نے مذکورہ درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور بدھ کے روز خورشید بیگ کو گرفتار کر لیا.

نجی ہسپتال کے پروپرائیٹر ڈاکٹر علی عمران نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ صحافی نے ان کے ذرائع کے حوالے سے خبر شائع کی، مذکورہ خبر کی پہلی تین لائنیں بالکل درست تھیں، جبکہ باقی پوری خبر جھوٹ اور پروپیگنڈہ پرمبنی تھی جس کی وجہ سے میرے ہسپتال کے عملہ، مجھے اور میرے اہل خانہ کو شدید مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، مذکورہ صحافی کو جب ہسپتال انتظامیہ کیجانب سے موقف دینے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمارا موقف شائع کرنے کی بجائے ہمیں دھمکانے کی کوشش کی. جس کے بعد قانونی راستہ اختیار کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیںتھا.
علی عمران کا کہنا تھاکہ سولہ اپریل کو ایک مریض ہمارے ہسپتال میں آیا، جس نے اپنی سفری تاریخ سے متعلق غلط بیانی کی، دوران معائنہ ہمیں ایکسرے سے شک گزرا کے وہ کورونا پازیٹو ہو سکتا ہے. جس کے بعد مریض کو شیخ زید ہسپتال بھیج دیا گیا، کیونکہ نجی ہسپتالوںکو کورونا ٹیسٹ کی اجازت نہ تھی. مذکورہ مریض کا ٹیسٹ مثبت آنے پر اسکا معائنہ کرنے والے نرسنگ، لیبارٹی ٹیکنیشن اور دیگرعملہ کو قرنطینہ مرکز بھیجا گیا، جبکہ میںنے اپنا ٹیسٹ اسلام آبادسے کروایا، ڈاکٹر علی عمران کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت عملہ کے تمام افراد کا ٹیسٹ منفی آیا.
انکا مزید کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میںروزانہ کی بنیاد پر تین وقت سپرے کرتے ہیں اور سپرے کےلئے وہ سلوشن استعمال کیا جاتا ہے جو آپریشن تھیٹر میںاستعمال ہوتا ہے. ہمارے عملہ میںسے کوئی ڈاکٹر فرار نہیںہوا، جبکہ محکمہ صحت اور انتظامیہ کی ٹیمیںمتعدد مرتبہ معائنہ کر چکی ہیں. لیکن رابطہ کرنے کے باوجود ہمارا موقف نہیںشائع کیا گیا، وبائی صورتحال میںجتنے مریضہسپتال میں معائنہ کےلئے آئے تھے وہ سب خوفزدہ ہو گئے تھے. اور سوشل میڈیا پر چلائی جانیوالی مہم کی وجہ سے ہسپتال عملہ ، انتظامیہ یا املاک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا جس وجہ سے مجبوری کے تحت قانون کا سہارا لینے پر مجبورہوئے ہیں.

پولیس سے مقدمہ میں16ایم پی او سمیت دیگر دفعات درج کئے جانے سے متعلق معلومات حاصل کرنیکی کوشش کی گئی لیکن کوئی جواب نہیںدیا گیا اور نہ ہی ایف آئی آر کا متن فراہم کیاگیا. تاہم ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ مینٹی نینس آف پبلک آرڈر کی دفعہ 16 کا اطلاق عمومی طور پر سیاسی رہنماؤںپرکیا جاتا ہے. مذکورہ دفعہ تحریر، تقریر، یا کسی دوسرے ذریعے سے امن عامہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے پر عائد کی جاتی ہے. موجودہ وقت چونکہ کورونا کی وباء کے باعث ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہے، وبائی کیفیت میںکوئی بھی غلط معلومات امن عامہ کو خراب کرنے کا باعث بن سکتی ہے. جس وجہ سے مذکورہ خبر کی اشاعت پر اس دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہو گا. ماہرین کے مطابق عمومی طور پر صحافیوںکے خلاف براہ راست مقدمہ بھی درج نہیںکیا جاتا، تاوقتیکہ کوئی مجسٹریٹ حکم صادر کرے. صحافتی خبروںپر عدالت سے ہی رجوع کیا جاتا ہے.
صحافتی تنظیموں نے محمد خورشیدبیگ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا ہے. صحافیوںکے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی گرفتاری کی مذمت کی ہے،مختلف صحافیوں نے مذکورہ نجی ہسپتال مقفل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے. تاہم غازی ملت پریس کلب کے عہدیداران نے مذکورہ گرفتاری پرتاحال کسی قسم کا کوئی رد عمل نہیںدیا ہے.
جہاں صحافی کی گرفتاری پر صحافتی تنظیمیں اور صحافی احتجاج کر رہے ہیں، اور گرفتاری کی مذمت کر رہے ہیں وہاںمذکورہ خبر سے متعلق صحافیوں رائے میں اختلافات موجود ہیں. کچھ صحافیوںنے خبر کی صحت پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ ہسپتال کی انتظامیہ سے موقف لیا جانا چاہیے تھا اور اگر وہ خود موقف دینا چاہتے تھے تو انکا موقف شامل کیا جانا چاہیے تھا. جبکہ ذرائع کے حوالے سے خبر شائع کرتے ہوئے بھی متعلقہ شعبہ کے کسی ماہر کی رائے کو شامل کیا جانا چاہیے تھا. کیونکہ اگر ذرائع کی اطلاع غلط ہو تو ہسپتال انتظامیہ کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا جو غیر ذمہ دارانہ حرکت تھی. تاہم اکثر صحافیوںنے مذکورہ خبر کو درست اور بر مبنی حقائق قرار دیتے ہوئے صحافی کے خلاف کارروائی کو پولیس اور ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت قرار دیا اور صحافی کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا ہے.
گرفتار ہونے والے صحافی محمد خورشید بیگ نے چوبیس اپریل کو ایک غیر معروف ویب سائٹ پر اپنے نام سے خبر شائع کی تھی، جسے بعد ازاںسوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا. مذکورہ خبر کے مطابق علی عمران ہسپتال کی انتظامیہ پر ذرائع کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا تھاکہ ہسپتال کے عملہ میںکورونا وائرس مثبت آنے کے بعد ڈاکٹر فرار ہو گیا ہے، جبکہ ہسپتال میںسپرے بھی نہیںکیا گیا، کورونا وائرس کے مریض سے پیسے بٹورے گئے اور اسکی تشخیص بھی نہ کی جا سکی.مذکورہ خبر میں ڈی ایچ او پربھی ملی بھگت کا الزام عائد کیاگیا تھا.













15 تبصرے “راولاکوٹ: نجی ہسپتال کیخلاف خبر لکھنے والا صحافی گرفتار، 16MPOکے تحت مقدمہ درج”