انجمن تاجران راولاکوٹ کے منتخب صدر سردار افتخار فیروز نے کہا ہے کہ تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے حوالے سے حکومت فوری طور پر ریلیف پیکیج کا اعلان کرے، نقصانات کا تخمینہ لگا کر مالی امداد کی جائے اور تاجروں کو بلاسود قرضے دینے کی سکیم جاری کی جائے۔ بصورت دیگر سخت احتجاج کرنے پرمجبورہونگے۔
انہوں نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کے مخالف نہیں، تاجروں نے ایک مہینہ لاک ڈاؤن کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اجتماعی زندگیوں کے بقاء کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، آئندہ بھی اگر لاک ڈاؤن کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے تو تاجر بخوشی لاک ڈاؤن کرینگے۔ لیکن اس خطے میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے تاجران ہیں، حکومت کو ٹیکس اسی لئے دیا جاتا ہے کہ وہ اس ٹیکس سے عوام کو سہولیات فراہم کرے، آج مشکل وقت میں حکومت نے بغیر کسی قسم کا ریلیف دیئے لاک ڈاؤن تو کر دیا ہے لیکن تاجروں کی مشکلات کا احساس نہیں کیا جارہا ہے۔
جس وباء سے انسانی آبادیوں کو بچانے کیلئے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے اتنی بڑی قربانی دی ہے اس وباء کو کنٹرول کرنے کیلئے لاک ڈاؤن سے مطلوبہ نتائج بھی حکومت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ انٹری پوائنٹس پر سپرے اور سکریننگ کا ابھی تک انتظام نہیں ہو سکا، ایک مہینہ گزر چکا ہے لیکن چالیس لاکھ سے زائد آبادی والے خطے میں چند سو ٹیسٹ بھی نہیں کئے جا سکے۔ فی الفور ٹیسٹ کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ وائرس سے متاثرہ اشخاص کو آبادی سے الگ کر کے انکا علاج کیا جا سکے اور صحت مند آبادی کو روز مرہ زندگی کے امور چلانے کے مواقعے میسر آسکیں۔
وہ انجمن تاجران کے عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر جنرل سیکرٹری حاجی اعجاز حنیف، سینئر نائب صدر تنویر خالق، ڈپٹی جنرل سیکرٹری طاہر فاروق، چیف آرگنائزر عرفان اشتیاق، قمر نسیم اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ شہر کھولنے کے حوالے سے حکومت اپنی ذمہ داری پر فیصلہ کرے، لیکن ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ کر شہر کھولے جانے کی پالیسی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، یا تو مکمل لاک ڈاؤن رکھا جائے یا پھر شہروں کو مکمل کھولا جائے،تاہم اوقات کار کے حوالے سے پالیسی مرتب کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسز میں ریلیف، قرضہ جات کی اقساط کی ادائیگی میں ریلیف سمیت مائیکروفنانس قرضہ جات فوری طورپر معاف کئے جائیں، یوٹیلٹی بلز معاف کئے جائیں جبکہ سرکاری طو رپر تخمینہ لگاتے ہوئے تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ ہر طرح کے ترقیاتی فنڈز پر روک لگاتے ہوئے ہنگامی حالت سے نمٹنے کیلئے متاثرین لاک ڈاؤن کی مدد کی جائے تاکہ وہ نہ صرف اس وباء سے لڑ سکیں بلکہ اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے اختتام سے قبل اگر حکومت نے ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا تو مجبوراً ہمیں سخت راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔
تاجروں کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہاء نہیں چھوڑیں گے۔ حکومت بھی ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے لے، تاجر اس خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، آج جب ایک وبائی کیفیت میں تاجرمتاثر ہو رہے ہیں تو حکومت ان کو ریلیف فراہم کرے، بصورت دیگر پھر تاجر حکومت سے تعاون کرنے کی روش کو ترک کرنے پر مجبورہونگے۔












22 تبصرے “تاجروں کے نقصانات کا زالہ کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج پر مجبور ہونگے، افتخار فیروز”