کورونا ایمرجنسی: لبریشن فرنٹ نے ریلیف پیکیج سے متعلق چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جاری کردیا

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے حکومت سے فی الفور محنت کش عوام کو ریلیف پیکیج دینے کامطالبہ کرتے ہوئے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کر دیا ہے۔ میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں انہوں نے فوری اورمستقل مطالبات پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ جاری کیا ہے۔

بیان کے مطابق انہوں نے فوری طور پر حکومتوں سے مطالبہ کیاہے کہ تیس ہزار سے کم ماہانہ آمدن والے افراداور دیہاڑی دار محنت کشوں کوبیس ہزار فی کس امدادی پیکیج دیا جائے، تمام مائیکروفنانس قرضے معاف کرنے کا اعلان کیا جائے، چھوٹے تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، تمام ترقیاتی اور ایم ایل اے فنڈز پر کٹوتی لگاتے ہوئے کورونا ٹیسٹنگ کٹس اوردیگر حفاظتی سامان طبی عملہ کو فراہم کیا جائے اور وائرس کے ٹیسٹ تیزی سے کئے جائیں تاکہ ٹیسٹنگ کے بعد متاثرین اوردیگر آبادی کو الگ کرکے اس ہیجانی کیفیت سے فوری معاشرے کو نکالا جا سکے۔

ہر طرح کی تعلیمی فیسیں معاف کرنے کااعلان کرتے ہوئے جامعات اور کالجز کے سمسٹرز سیز کئے جائیں، آن لائن کلاسز کے نام پر طالبعلموں کا استحصال فوری روکا جائے اورلاک ڈاؤن کے نام پر اکثریتی طبقہ کو بھوک اور لاچاری کا شکار کرنے کی پالیسی کو فوری ترک کیا جائے، بڑے صنعت کاروں اورایکسپورٹرز کو ریلیف پیکیج دیئے جانے کی بجائے ان پر ٹیکسز بڑھا کر اکثریتی محنت کش طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے بیان کہا کہ آج ایک وائرس نے دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کی لالچ، ہوس اور لوٹ مار پر مبنی انسان دشمن پالیسیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی گئی ہے۔ آج ایک مرتبہ پھریہ ثابت ہو رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں انسانیت کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کرہ ارض کو تباہ و برباد کرتے ہوئے انسانیت ہی نہیں اس سیارے پر زندگی کو ہی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرلبریشن فرنٹ اس موقع یہ مطالبہ کرتا ہے کہ آئندہ بجٹ میں پچاس فیصد بجٹ صحت اور تعلیم پرمختص کرتے ہوئے تمام نجی تعلیمی اداروں اور نجی ہسپتالوں کو قومی تحویل میں لیا جائے،جدید سائنسی بنیادوں پر تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں، ریاست ہر شہری روزگار کی فراہمی کیلئے ہنگامی پالیسیاں ترتیب دے۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ سولہ سے اٹھارہ کے افسران کی تنخواہوں میں تیس فیصد مستقل کٹوتی کی جائے، گریڈ اٹھارہ سے اکیس کے افسران کی تنخواہوں میں پچاس فیصد کٹوتی کی جائے، افسران کی ہر طرح کی مراعات کا خاتمہ کیا جائے، ججز کی تنخواہوں میں بھی پچاس فیصد کٹوتی کیجائے، اسی طرح کے بھاری پنشن حاصل کرنیوالوں کی پنشن میں بھی کٹوتی کی جائے اور بالخصوص وزراء، مشیران اور ایم ایل ایز کی تنخواہوں میں پچاس فیصد کٹوتی اور مراعات پر مستقل کٹ لگائے جائیں اور ماتحت ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، اضافی روزگار پیدا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور ایکو سسٹم کو تباہ کرنے کا موجب بننے والے بڑے ڈیموں کے منصوبے فی الفور بند کرتے ہوئے رن آف دی ریور بجلی کی پیدوار کے منصوبہ جات شروع کئے جائیں، نیلم جہلم کو قدرتی بہاؤ پربہنے دیا جائے، دیگر دریاؤں کے رخ موڑنے کی پالیسی کو فوری طورپر ترک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش عوام کو زندگی کی بقاء کیلئے سرمایہ دارانہ نظام کی لوٹ مار کے خلاف صف بندی کرنا ہوگی، دنیا بھرسے جب تک اس انسانیت کے قاتل نظام کا خاتمہ نہیں کیا جا تا تب تک انسانیت اورزندگی کو لاحق خطرات کو ٹالا نہیں جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محنت کش عوام کو جہاں کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے صف بندی کرنی ہوتی، احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس وباء کو آبادی کی وسیع تر پرتوں تک پھیلنے سے روکنا ہو گا، وہیں اس طرح کی وباؤں کو پھیلانے کا موجب بننے والے نظام کے خلاف جدید سائنسی نظریات کی بنیاد پرصف بندی کرنی ہو گی۔

آج انسانیت کے پاس قومیائی گئی منصوبہ بند معیشت کے طریقہ کار کو اپنانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے جس کو محنت کشوں کے اشتراک سے چلاتے ہوئے منافعوں اور لوٹ مار کی بجائے انسانی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پیداوار کی جائے اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے پیدوار کو ماحول دوست بنایا جا سکے اور انسان کو ذہنی اور جسمانی مشقت سے آزاد کرتے ہوئے تمام بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کی جا سکے۔ انہوں نے کشمیر، برصغیر اوربالعموم دنیابھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ اس مشکل گھڑی میں مشترکہ حکمت عملی کو اپناتے ہوئے نہ صرف انسانی جانوں کو بچانے کیلئے ہنگامی کمیٹیاں ترتیب دینی ہونگی بلکہ اس نظام کے خلاف صف بندی کا آغاز کرنا ہوگا۔ انسانیت کے پاس نجات کا راستہ صرف اور صرف اس نظام کو اکھاڑ پھینکنے کی جدوجہد ہی ہے۔