پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کی جانب سے غریب عوام کی مالی امداد کیلئے فہرستیں مرتب کرنے کاکام پٹواریوں اورتحصیلداروں نے مقامی سیاسی رہنماؤں کے حوالے کر دیا ہے۔
راولاکوٹ میں تحصیلدارسیماب اسلم نے مقامی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو فہرستیں مرتب کرنے کا کام سونپ دیا، جنہوں نے سیاسی بنیادوں پر فہرستیں مرتب کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ یہ انکشاف پیر کے روز اسوقت ہوا جب راولاکوٹ کے نواحی گاؤں پڑاٹ میں لوگوں نے اپنے نام فہرستوں میں نہ لکھے جانے پر احتجاج کیا، مذکورہ فہرستیں پٹواری، معلم اور سیکرٹری یونین کونسل کی بجائے مقامی سیاسی جماعت کا ایک رہنما تیار کرنے میں مصروف تھا۔
جس نے ان افراد کے نام فہرستوں میں شامل کرناشروع کر رکھے تھے جنہوں نے مذکورہ پارٹی کو گزشتہ الیکشن میں ووٹ دیئے تھے۔ مقامی افراد کے احتجاج کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے احتجاجاً تحصیلدار، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے رابطے کئے، تاہم بعد میں انکشاف ہوا کہ تحصیلدار راولاکوٹ سیماب الطاف نے سیاسی تعلقات کی بنیاد پر راولاکوٹ تحصیل کے اکثریتی دیہاتوں کی فہرستیں مرتب کرنیکا کام ایک ہی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کو سونپ رکھا ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اوردیگرسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس عمل کو فوری طور پر ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ذمہد اران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
دوسری طرف مذکورہ فہرست ہا کی تصدیق بی آئی ایس پی کے سروے سے کی جائے گی، جو آن لائن ڈیٹا بی آئی ایس پی کے پاس موجود ہے۔ لیکن فی ضلع پانچ ہزار افراد کی فہرستیں مرتب کرنے کا کام بھی مقامی انتظامیہ نے یونین کونسل اوردیہات کے حساب سے طے کر لیا ہے۔ فی دیہات دو سے اڑھائی سو افراد کی فہرستوں کا کوٹہ سیاسی رہنماؤں کو دیا جارہا ہے۔ جبکہ راولاکوٹ میں ایک ہی سیاسی جماعت کو فہرستیں بنانے پر معمور کئے جانے پر باقی جماعتوں کے احتجاج کے بعد فی دیہات دیگرجماعتوں کو بھی کوٹہ دیئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
لیکن بی آئی ایس پی کے ذرائع کے مطابق اس طرح سیاسی بنیادوں پر بنائی جانیوالی فہرست ہاء بی آئی ایس پی ڈیٹا کے ذریعے تصدیق نہیں ہو پائیں گی اور اس طرح حقدار لوگ بھی حکومتی امداد سے محروم ہو جائیں گے۔
سیاسی و سماجی رہنماؤں نے مقامی انتظامیہ کے اس عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے فوری طور پر اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بصورت دیگر احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔
تاہم تحصیلدار سیماب اسلم نے اس معاملے پر موقف دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے، حکومتی ہدایات کے مطابق سرکاری عملہ فہرستیں مرتب کر رہا ہے۔












Thanks for sharing. I read many of your blog posts, cool, your blog is very good. https://accounts.binance.info/es-AR/register?ref=UT2YTZSU