پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی مرکزی انجمن تاجران نے چارٹر آف ڈیمانڈ جاری کرتے ہوئے حکومت کو پندرہ اپریل تک کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
”آل آزادکشمیر“ انجمن تاجران کے منتخب مرکزی صدر اورانجمن تاجران راولاکوٹ کے منتخب صدر سردار افتخار فیروز نے کہا ہے کہ تاجروں اور دیہاڑی دار مزدوروں، محنت کشوں کو سہولیات اور پیکیج دیئے بغیر حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کر کے لوگوں کو بھوکوں مرنے پر چھوڑ دیا ہے۔فوری طورپر ترقیاتی بجٹ کی بچی ہوئی رقم کو ریاست کے غریب شہریوں پر خرچ کرنے کیلئے پیکیج کا اعلان کیا جائے، چھ ارب سے زائد کا بجٹ ابھی بقایا ہے، اسی طرح تمام حلقہ جات کے ایم ایل ایز کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کرتے ہوئے صحت کی سہولیات کی فراہمی کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے پر خرچ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ریاست کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے ہر طرح کے یوٹیلٹی بلز معاف کئے جائیں، تمام چھوٹے تاجروں کے قرضہ جات معاف کئے جائیں، کرایہ جات کی ادائیگی کیلئے تخمینہ جات لگائے جائیں اورمالی معاونت کی جائے، دیہاڑی داروں اورپرائیویٹ ملازمین جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے تنخواہوں سے محروم ہو گئے ہیں انہیں تنخواہوں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ چھوٹے تاجروں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر انہیں ادائیگیاں کی جائیں، ڈیزل، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے ٹیسٹ اور بچاؤ کے لئے حفاظتی سامان فوری فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پندرہ اپریل تک صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت کے ساتھ ہم بھرپور تعاون کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت پہلے ریلیف پیکیج کا اعلان کرے پھر پابندیوں اور لاک ڈاؤن کی پابندیاں نافظ کرے۔ بصورت دیگر تاجروں اور عام شہریوں کوبھوکوں مار کر امیروں کو کورونا وائرس سے محفوظ کرنے والے اقدامات کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتوں نے عوام کو ریلیف پیکیج دینے کا اعلان کرنے کے بعد لاک ڈاؤن شروع کیا، موذی وباء کے خلاف پوری قوم مل کر لڑنے کیلئے تیار ہے، لیکن حکمران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے، اپنی تجوریاں بھرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، سرمایہ داروں کو ٹیکس چھوٹ اور سبسڈیز دی جا رہی ہیں، غریبوں پر مزید ٹیکس لگائے جا رہے ہیں، لاک ڈاؤن سے عام آدمی کو چولہا جلانے سے بھی محروم کر کے سرمایہ داروں کو ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، یہ صورتحال زیادہ دیر چل نہیں سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو پندرہ اپریل کے بعد کسی لاک ڈاؤن کی پابندی نہیں ہوگی بلکہ بھرپور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، تاجروں کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع کی تاجر تنظیموں اور مرکزی عہدیداران کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، تاجر اپنی تیاری پوری رکھیں، ہم اپنے حقوق پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کرینگے، سالہا سال ٹیکسز اسی لئے دیتے ہیں کہ بحرانات میں حکومتیں ریلیف فراہم کریں، لیکن یہاں بحرانات کا بوجھ بھی حکمران تاجروں اور عام شہریوں کے ہی کندھوں پر ڈالنا چاہتے ہیں جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔












I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article. https://accounts.binance.com/register/person?ref=L4EUT9FG