پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے ضلع کوٹلی میںکورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے لاک ڈاؤن کے نفاذ کی مبینہ خلاف ورزی کرنے والے شہریوںپر پولیس کے لاٹھی چارج کے دوران بھاگتےہوئے گہری کھائی میںگر کر نوجوان ہلاک ہو گیا.
شہریوںنے نوجوان کی ہلاکت کے خلاف رات گئے شہید چوک بلاک کر کے احتجاج کیا، شہریوںنے نوجوان کی نعش شہید چوک کوٹلی میں رکھ کر پولیس گردی کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی. شہری ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے.
مظاہرین کے مطابق جمعرات کے روز کوٹلی میںپولیس نے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کروانے کےلئے شہر میںفلیگ مارچ کیا، اس دوران پولیس اہلکاران سڑک پر چلنے والے شہریوں پر لاٹھیاںبرساتے رہے اور گرفتاریاںبھی عمل میںلاتے رہے. پولیس کے لاٹھی چارج اور تشدد کے بعد گرفتاری کے ڈر سے بھاگتے ہوئے ذیشان نامی نوجوان گہری کھائی میںجا گرا اور شدید زخمی ہو گیا.
نوجوان کو شدید زخمی حالت میںراولپنڈی ریفر کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا سکا اور دم توڑ گیا. شہریوںنے میت کو شہید چوک کوٹلی میںجلوس کی شکل میںلایا اور احتجاج کیا.
پولیس تشدد کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں. ویڈیوز میںپولیس اہلکاران کو راہگیروںپر لاٹھیاںبرساتے دیکھا جا سکتا ہے.
پولیس کے اس طرز عمل کی شکایات مختلف شہروںسے موصول ہو رہی ہیں. شہریوںکی جگہ جگہ تذلیل کی جا رہی ہے. کہیںمرغا بنایا جا رہا ہے. کہیںلاٹھیاںبرسائی جا رہی ہیں. کہیںگالیاںدی جا رہی ہیں. انتہائی توہین آمیز لہجے میںشہریوں کے ساتھ پولیس اہلکاران بات کرتے ہیں.
شہریوںکا کہنا ہے کہ اکیلے چلنے والے شہریوںپر بھی تشدد کیا جاتا ہے اور انکی تضحیک کی جاتی ہے، حالانکہ پابندی اجتماع پر، یا ایک جگہ پر شہریوںکے اکٹھے ہونے پر لگی ہوئی ہے. دوسری طرف خود پولیس اہلکاران گاڑیوںمیںآٹھ ، آٹھ ، دس دس کی تعداد میں سوار ہو کر گشت کر رہے ہیں. پیدل بھی ٹولیوںمیں گشت جاری ہے.
شہریوںکا کہنا ہے کہ انتظامیہ کا طریقہ کار دیکھ کر لگتا ہے جیسے انتظامی اہلکاران وائرس پروف ہیںاور صرف شہری ہی وائرس پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں. ہر نئی ہنگامی حالت، سکیورٹی صورتحال اور قدرتی آفت کو مال کمانے کا بہانہ سمجھ لیا جاتا ہے.
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے، بصورت دیگر سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا جائیگا.












19 تبصرے “پولیس کا شہریوںپر تشدد، بھاگنے کی کوشش میںنوجوان گر کر ہلاک، شہریوںکا احتجاج”