شہرمیں صفائی اور ٹریفک کے ناقص انتظامات کیخلاف تاجروں نے ٹیکسز بائیکاٹ کا اعلان کردیا

انجمن تاجران راولاکوٹ نے شہر میں بے ہنگم ریڑھیوں، تھڑوں اور ٹریفک کے بے ہنگم رش کا تدارک نہ کرنے کی صورت بائیس مارچ سے ٹیکسز کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی مرکزی انجمن تاجران کے صدر اور صدر انجمن تاجران راولاکوٹ سردار افتخارفیروز نے تاجروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالخصوص منگ روڈ اور دیگر مرکزی شاہراہوں پر بے ہنگم ریڑھیاں، تھڑے اور بے ہنگم گاڑیوں کارش ہر وقت موجود رہتا ہے، جبکہ میونسپل کارپوریشن اور پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو تاجران صفائی سمیت دیگر مدات میں ٹیکسز ادا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ادارے اپنے فرائض سر انجام دینے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے سے گریزاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک کے مسائل کو کنٹرول کرنے کی بجائے ٹریفک پولیس اہلکاران بیرون شہر جرمانے اور چالان کرنے میں مصروف رہتے ہیں جبکہ شہر میں دن بھر غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے ٹریفک کا سلسلہ درہم برہم رہتا ہے۔ ٹریفک کے ایس پی اور ڈی آئی جی مظفرآباد میں موجود ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل پر شکایات کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ایس پی ٹریفک کی پوسٹ کو راولاکوٹ منتقل کیا جائے تاکہ ٹریفک کے مسائل کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اقدامات کئے جا سکیں۔

انہوں نے تاجروں سے بھی اپیل کی کہ اگر بائیس مارچ سے قبل شہر کی مرکزی شاہراہوں سے ریڑھیاں اور تھڑے مخصوص علاقوں میں منتقل نہ کئے گئے، ٹریفک کے مسائل حل نہ ہوئے اور کھڑک اڈے پر صفائی کا انتظام نہ کیا گیا تو کارپوریشن اور پی ڈی اے کو ہر طرح کے ٹیکسز کی ادائیگی روک دی جائے۔ جب تک شہر کے مسائل حل نہیں ہوتے کوئی تاجر کسی قسم کا کوئی ٹیکس ادا نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ریڑھیوں اور تھڑوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن ریڑھیوں کے لئے جگہ مختص کی جائے تاکہ شہر میں صارفین کی نقل و حرکت میں دشواری پیش نہ آئے اور ٹریفک جام جیسے مسائل کا سد باب ہو سکے۔