جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور شہریت کے قومی رجسٹر(این آرسی) کی آڑمیں ہندو مسلم کی بنیاد پر معاشرے کو تقسیم کرنے اوربیس لاکھ سے زائد انسانوں کو شہریت سے محروم کئے جانے کے اقدام کی شدیدمذمت کرتے ہوئے بھارت کے مختلف شہروں میں متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف احتجاج میں شریک طلباء و طالبات، ترقی پسند قائدین اور محنت کشوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت پر اس وقت ایک ہندو بنیاد پرست وحشت کے سائے منڈلا رہے ہیں، اس وحشت کو معاشرے پر مسلط کرنے کی ابتداء جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے خطے کو دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے مرکز کے ساتھ منسلک کئے جانے سے کی گئی، جموں کشمیر کے شہریوں سے شہری حقوق، باشندہ ریاست قوانین سمیت الگ شناخت کو چھیننے کے اس عمل کو مودی حکومت نے ہندو مسلم تفریق کو بڑھاوا دینے، وادی کشمیر میں آزادی کی تحریک کو بذور طاقت کچلنے اور بھارت کے داخلی تضادات سے توجہ ہٹانے کیلئے استعمال کیا، پھر اسی سلسلے کو دیگرریاستوں تک پھیلاتے ہوئے پورے بھارتی معاشرے کو مذہبی، نسلی، قومیتی تعصبات میں دھکیل کر معاشی اور سیاسی استحصال کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہو ں نے کہا کہ مودی کی وحشی حکومت کے خلاف جدوجہدکرنے والے بھارتی نوجوانوں، طالبعلموں، محنت کشوں اور کسانوں نے جس طرح کشمیریوں پر بالخصوص گزشتہ چار ماہ سے ہونے والے ریاستی جبر وتشدد کے خلاف احتجاج کر کے کشمیریوں سے یکجہتی کی، آج کشمیری بھی ان کی اس جدوجہد میں انکے شانہ بشانہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ ظالم اورمظلوم کی ہے، اس جنگ میں ظالم ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، جبکہ مظلوم ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، اس طور ریاست جموں کشمیر کے مظلوم و محکوم عوام کے فطری اتحادی پاکستان اور بھارت کے محنت کش، نوجوان، مظلوم، محکوم طبقات ہیں، ہمیں دونوں جابر، قاتل اور ظالم ریاستوں کے جبراورسرمایہ دارانہ،سودی نظام کے استحصال سے نجات کیلئے اس جدوجہد کو مل کر استوار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں مودی حکومت کے فاشسٹ اقدامات کے خلاف ابھرنے والی تحریک کیلئے ہماری نیک تمنائیں ہیں، ہم انہیں یہی پیغام دیں گے کہ اس جدوجہد کو اس سماج کی حقیقی تبدیلی کی جدوجہد سے جوڑتے ہوئے آگے بڑھیں، جموں کشمیر کے عوام ان ظالم و جابر ریاستوں کے خلاف اٹھنے والی ہر بغاوت، ہر تحریک کے شانہ بشانہ ہونگے۔جموں کشمیر کے پہاڑوں سے ابھرنے والی بغاوت ان ظالم، جابر، مکار، سرمایہ دارانہ استحصالی ریاستوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں فیصلہ کردار ادا کرے گی اورایک آزاد، خودمختار اور استحصال سے پاک انسانی معاشرے کی بنیادیں رکھے گی۔












Can you be more specific about the content of your article? After reading it, I still have some doubts. Hope you can help me.