جموںکشمیر نیشنل سٹونٹس فیڈریشن کے مرکزی ایڈیٹر عزم التمش تصدق نے کہا ہے کہ طلبہ یکجہتی مارچ دہائیوں کی سیاہ رات کے بعد طالب علموں میں اپنے بنیادی حقوق کے شعور کی بیداری کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا.
یونین سازی کے حق اور مفت، جدید اور یکساں نظام تعلیم کے حصول کے لیے جے کے این ایس ایف دیگر ترقی پسند طلباء تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستان اور پاکستانی زیر انظام جموںکشمیر اور گلگت بلتسان کے طلبہ کو منظم کرے گی.
تعلیمی اداروں میں ضیاء الحق کے دور میں طلباء پر مسلط کردہ فسطائیت رحجانات کی غنڈہ گردی کو طالب علم اب مزید برداشت نہیں کرسکتے.
آج کراچی سے کشمیر تک طلباء کی ایک آواز ہے مفت تعلیم ہمارا حق ہے ہم بهیک نہیں مانگ رہے.ہمیں مذہبی جنونیت سے نجات چاہیے اور یونین سازی کا اختیار چاہیے.
اگر ہمیں بنیادی حقوق سے مزید محروم رکھا گیا تو ہم کیا کر سکتے ہیں تاریخ اس کی گواہ ہے.نصف صدی قبل بھی طلبہ اپنا حق مانگنے نکلے تھے طلباء کی وہ تحریک طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے ساتھ طبقاتی سماج کو بدلنے کے لیے ایک انقلاب میں بدل گئی تھی.
آج بھی سرمایہ دارانہ نظام کے جبر کے خلاف طلباء، مزدور اور کسان کے اتحاد کے ذریعے لڑائی لڑنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے.
جے کے این ایس ایف تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اساتذہ کی تحریک کی غیر مشروط طور پر حمایت کرتی ہے اور تعلیمی اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر ہر محاذ پر لڑائی لڑے گی.
جے کے این ایس ایف مطالبہ کرتی ہے تمام نجی تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے کر مفت تعلیم فراہم کی جائے اور اساتذہ کو مستقل ملازمت فراہم کی جائے












11 تبصرے “فسطائیت کو برداشت نہیںکر سکتے، طلبہ یکجہتی مارچ حقیقی طلبہ جدوجہد کا نقطہ آغاز ہوگا، التمش تصدق”