تحریر: التمش تصدق (ایڈیٹر عزم این ایس ایف)
کرتارپور پور کوریڈور کی تکمیل کے بعد ہندوستانی پنجاب کے سکھ یاتریوں کو پاکستانی پنجاب، کرتارپور میں واقع گرو نانک کی آخری آرام گاہ میں بغیر ویزے کے آنے کی اجازت دے دی گئی ہے، انہی دنوں جموں کشمیر میں دونوں ممالک کی طرف سے کنٹرول لائن میں گولہ باری شدت اختیار کر گئی ہے. دونوں افواج کی طرف سے درمیانی درجہ کے اور بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی آواز کنٹرول سے کئی کلومیٹر دور تک سنائی دے رہی ہے.
سکھ یاتریوں کے لیےپنجاب میں کرتارپور بارڈر کھولنے کے چرچے دونوں اطراف کے ٹیلی ویژن چینلز پر نظر آتے ہیں. ہندوستانی میڈیا اسے سازش کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے تو پاکستانی حکومت اور میڈیا عمران خان کو انسان دوستی، امن اور محبت کا علمبردار بنا کر پیش کر رہا ہے ،ٹیلی ویژن چینلوں پر سرکاری اشتہارات چلائے جا رہے ہیں جن میں سکھ یاتریوں کی طرف سے عمران کے لیے اظہار تشکر کے پیغامات اور دعائیہ کلمات کہے گئے ہیں.
حکمران طبقات کے مفادات سے قطع نظر حکومت پاکستان کے اس فیصلے کی مخالفت کوئی بھی باشعور انسان نہیں کر سکتا ہے.حکومت کے اس فیصلے سے نئی بحث کا آغاز ہوتا ہے اور بے شمار سوالات جنم لیتے ہیں. تقسیم کے وہ زخم جو برطانوی سامراج نے بہتر سال قبل دیئے تھے پھر سے تازہ ہو گئے ہیں. جس بارڈر کے کھلنے پر جشن کا سماں ہے. حکومت پاکستان اور بھارتی پنجاب کی حکومت شادیانے بجا رہی ہے اسے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے… یہ بارڈر کیوں قائم ہوا. . ؟ اور ستر سال سے اب تک کیوں بند تھا……؟ جو خوشی آج بارڈر کھولنے پر پنجاب کے باسیوں کے چہروں پر نظر آ رہی تھی یہ خوشی کس نے چھینی …؟ اور کیوں چهینی ؟ اگر پنجاب سے سکھ یاتریوں کے لیے بارڈر کهولا جا سکتا ہے تو بنگال، کشمیر، گلگت، اور پختون خواہ کے ہزاروں سالہ پرانے قدرتی راستے کیوں کر بند ہیں…؟ یہ کیسی پاکستان اور بھارت کی دشمنی ہے ایک طرف پنجاب میں بارڈر کھلنے کا جشن ہے دوسری طرف ہر روز جموں کشمیر کے لائن آف کنٹرول پر ہونے والی دو طرفہ گولہ باری سے متاثرہ افراد کا سوگ، مشترکہ ثقافت اور زبان سے تعلق رکھنے والے افراد کو باڑ لگا کر کیوں تقسیم کیا گیا ہے…؟ دھرتی ماں کے سینے میں یہ خنجر کس نے گھونپا ہے ؟ خار دار تاروں سے کس کو زخمی کرنا مقصود ہے؟ منجودھاڑو اور ہڑپہ کی ہزاروں سالہ پرانی تہذیب جہاں سب کچھ موجود ہے ماسوائے قتل و غارت گری کے سامان کہ ان لوگوں کو وحشی کس نے بنایا…؟پنجاب جو میٹھے پانیوں کی سرزمین ہے یہاں خون کے دریا کیوں کر بہے….؟ کروڑوں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنے مقدس مقامات چھوڑ کر بھاگنے پر کیوں مجبور ہوئے ..؟ ان لاکھوں افراد کا کیا دوش تھا جنہیں تقسیم کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لیے قتل کر دیا گیا…؟ وہ کون سے درندے تهے جن کے خوف نے ہزاروں عورتوں کو خود کشی پر مجبور کردیا…؟ ہزاروں سال سے ایک ساتھ رہنے والے انسان یک دم دشمن کیسے بن گئے؟ یہ بارڈر صرف غریبوں کے لیے کیوں ہوتے ہیں..؟ باڑ لگا کر کیا جانوروں کو کنٹرول ہیں کیا جاتا…؟ کیا ہم جانور ہیں جنہیں نفرتوں کی بیڑیوں سے جکڑا ہوا ہے…؟ کیا جاگیر داروں سرمایہ داروں اور جرنیلوں کو بھی ان خار دار تاروں سے روکا جا سکتا ہے..؟ اگر نہیں تو پھر یہ لوگ کیا ان جانوروں کے مالک ہیں جو خود تو آزاد ہیں ان کی قید میں برصغیر کے ڈیڑھ عرب انسان ہیں….؟
ان سب سوالوں کے سرکاری جوابات تقریباً اکثریت کے پاس ہیں پر درست جواب کم ہی ملتا ہے.. خونی بٹوارے کو آزادی کہا جاتا ہے… مذہب کو قوم بتایا جاتا ہے.. برطانوی دلال محب وطن ہیں .. وحشی مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں.. خونی ہیرو بنے ہیں.. بنگال سے کراچی تک مزدور اور محکوم ہر روز مر مر کے جی رہے ہیں.. اور نفرتوں کا وہی راج قائم ہے جو برطانیہ کی طرف سے یہاں کے لوگوں کو ورثے میں ملا تھا.. وہی جاگیر دار اور سرمایہ دار اشرافیہ آج بھی حاکم ہے جو بٹوارے سے قبل موجود تھی… وہ آج بھی امریکی سامراج کی اتنی ہی وفادار ہے جتنی پہلے برطانوی سامراج کی تھی… وہ سیاسی جماعتیں مسلم لیگ اور کانگریس بھی موجود ہیں جنہیں برطانیہ نے بنایا تھا..ساتھ امریکی اضافہ ہوا ہے.. وہی فوجیں بھی موجود ہیں جس کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ کیا تھا.. وہی قانون بھی موجود ہیں جو آزادی پسندوں کو سزائیں دینے کے لیے بنائے گئے تھے.. وہی عدالتی نظام،وہی پارلیمنٹ، وہی پولیس کا ہندوستانی نوجوانوں کو ذلیل کرنے کا طریقہ. غلام پیدا کرنے والا وہی طریقہ تعلیم.. حکمرانوں کی رنگت کے علاوہ دو سو سال میں یہاں کے محکوم عوام کے لیے کچھ نہیں بدلا…
ظلمت کے اندھیرے مذید گہرے ہوتے گئے تاریک رات کی تاریکی میں اضافہ ہو گیا.. جاتے جاتے برطانوی سامراج یہاں کے محکموں کے دماغوں کو نفرتوں سے زہر آلود کر گیا.. ہزاروں سالہ قدیم زندہ سماج کو اس بے دردی سے چیرا گیا کہ ستر سالوں میں بھی وہ زخم بھر نہ سکے. ماؤنٹ بیٹن جیسے مکار نے نقشے پر لائین لگا کر یہاں کے باشندوں کو تقسیم کیا.. پختونخوا ، پنجاب اور بنگال کو تقسیم کرنے والی لکیروں کو آج بھی برطانوی افسران کے نام سے جانا جاتا ہے، ڈیورنڈ لائن، ریڈ کلف لائن انہی افسران کے نام سے منسوب ہیں جنہوںنے یہ لائنیں تخلیق کیں.. اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ تقسیم کے دوران اتنا خون بہایا گیا کہ لوگوں کو اپنی ہی قوم کے لوگوں سے ڈرا کے برطانوی فوج کو بارڈر کے دونوں اطراف کهڑا کر دیا گیا ……. جس فوج کے قبضے کے خلاف یہ لوگ جدوجہد کیا کرتے تھے.. قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلا وطن ہوئے .. سولی چڑھ گئے.. اب وہ پاکستان اور بھارت کی فوج بن گئی ..
ان فوجوںنے پنجابی کو پنجابی کا دشمن قرار دے کر اس کی حفاظت کی، پٹھان کو پٹھان کے خلاف بنا کر اس کی حفاظت کر رہی ہیں اور ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگائی جا رہی ہے اسی طرح دیگر قومیتوں کو تقسیم کر کے ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج حفاظت کر رہی ہے. اور محنت کشوں کی پیدا کردہ تمام دولت کو اسلحے کی خریداری کے لیے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حوالے کردیا جاتا ہے. تقسیم کے بعد نہ صرف انسانی محنت کے استحصال کو شدید کیا گیا بلکہ قدرتی وسائل کی لوٹ مار کا بازار گرم رہا ہے.. پاکستان ستر سال سے امریکہ کے فوجی اڈے کے طور پر موجود ہے.. جس کے ذریعے اس خطے کو کنٹرول کیا جاتا رہا.. جس کے ذریعے افغانستان کو برباد کیا گیا. کشمیر کو میدان جنگ بنایا گیا ہے اور وہاں کے لوگوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا گیا ہے.
تقسیم کے ان زخموں کو کریدنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو مسلسل استعمال کیا جاتا ہے. جالی دشمنی کا ناٹک جاری ہے. نہ جنگ ہوتی ہے نہ امن …… اس خطے کے مظلوموں کو مزدوروں کو برطانوی سامراج کی تخلیق کردہ ان ریاستوں اور انکے حکمران طبقات کے خلاف آزادی کی لڑائی کو ازسرنوم منظم کرنا ہوگا. عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کو شکست دے کر حقیقی آزادی حاصل کرنی ہوگی. سامراج کی کھینچی گئی ان لکیروں کو حرف غلط کی طرح مٹانا ہو گا.. بهوک، بیماری، بیروزگاری ، نفرتوں، تعصبات ، قومی اور طبقاتی غلامی سے آزادی حاصل کرنی ہو گی. جو عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد سے ہی ممکن ہے….
یہ سرزمین ہے گوتم کی نانک کی یہاں وحشی نہ چل سکیں گے کبھی.












11 تبصرے “پاک بھارت حکمران طبقات کا ”جنگ و امن کا فریب””