ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چک کی عدم تعمیر: اہل علاقہ کی تا دم مرگ بھوک ہڑتال دوسرے روز میں‌داخل

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چک راولاکوٹ کے دوسرے فیز کا تعمیراتی کام شروع نہ کئے جانے اور مطلوبہ فنڈز میں‌مبینہ کٹوتی کے خلاف اہلیان علاقہ کی جانب سے تا دم مرگ بھوک ہڑتال دوسرے روز میں‌داخل ہو چکی ہے. شدید سرد موسم میں‌راولاکوٹ کے نواحی علاقہ چک بازار میں دس افراد نے آٹھ نومبر سے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے.

بھوک ہڑتال کے مقام پر ایک کیمپ قائم کیا گیاہے جس میں‌ہڑتالیوں‌کو گرم رکھے جانے کےلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں. جبکہ عوام علاقہ کی کثیر تعداد کی موجودگی میں‌بھوک ہڑتال کا آغاز کیاگیا تھا، دوسرے روز بھی راولاکوٹ، کھائی گلہ، چک سمیت دیگرنوحی دیہاتوں سے لوگ جوق در جوق بھوک ہڑتال پر بیٹھے افراد سے اظہار یکجہتی کےلئے جا رہے ہیں.

جمعہ کے روز بعد نماز جمعہ بھوک ہڑتالی کیمپ کا آغاز کیاگیا تھا، اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ پولیس راولاکوٹ سردار محمد اعجاز خان نے ہمراہ پولیس نفری ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور ہڑتالیوں‌کے مسائل اور مطالبات سن کر حکام بالا تک پہنچائے.

بھوک ہڑتالی کیمپ میں‌ بیٹھے افراد نے کفن کا کپڑا اپنے بدن پر اوڑھ رکھا ہے، جس کی وجہ سے اہل علاقہ اسے کفن پوش تادم مرگ بھوک ہڑتال کہہ رہے ہیں.

ہڑتالی افراد میں‌شامل نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما سردار شاہد شارف نے روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی تعمیر پورے ضلع پونچھ کے لوگوں‌کا دیرینہ مطالبہ ہے لیکن حکمران اس ہسپتال کی تعمیر میں سنجیدہ نظر نہیں‌آ رہے ہیں.

انہوں‌نے کہا کہ ماضی میں‌اہلیان چک نے دیگر علاقوں کے لوگوں اور سیاسی جماعتوں‌کی مدد سے بھرپور احتجاجی تحریک چلائی تھی جس کے نتیجے میں‌ہسپتال کا ٹینڈرکیا گیا اور پہلے فیز کا تعمیراتی کام شروع کیا گیا تھا لیکن دوسرے فیز کےلئے گزشتہ دو سال سے نہ تو فنڈز مختص کئے گئے ہیں. بلکہ الٹا فنڈز میں‌کٹوتی کر دی گئی ہے.

ان کا کہنا تھا ہمارے مطالبات بالکل سادہ سے ہیں، ہسپتال کا ٹینڈر فی الفور کیا جائے، تعمیراتی کام شروع کیا جائے اور فنڈز میں کی جانی والی کٹوتی کا فیصلہ واپس لیا جائے. بصورت دیگر ہماری ہڑتال جاری رہے گی.

انکا کہنا تھا کہ راولاکوٹ واحد ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے جہاں پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال موجود نہیں ہے. کوئی تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال بھی موجود نہیں ہے، اہلیان راولاکوٹ کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں‌ حکمران ہمیں سنجیدہ نہیں‌دکھا رہے.