30 اکتوبر کوبھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے آئین رنبیر سنگھ پینل کوڈ کے تحت عدالت عالیہ نے آخری فیصلہ سنایا اور 13 ملازمین کی تقرری کو بحال کرتے ہوئے چیف ایجوکیشن آفیسر دمحال ہانجی پورہ کولگام کو 2014 سے انکی تنخواہ جاری کرنے کا حکمنامہ جاری کیا۔
5اگست کو مرکزی سرکار نے آئین ہند کی دفعہ 370کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرکے ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام حصوں میں تقسیم کیا۔بھارتی سرکار کے اس فیصلے سے جموں و کشمیر کو حاصل تمام خصوصی اختیار منسوخ کیے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کی علیحدہ شناخت کی معطلی کے ساتھ ہی ریاست کے لئے علیحدہ پرچم اور الگ قانون بھی کالعدم ہو گئے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے 5اگست کو لیے گئے فیصلے کے تحت جموں و کشمیر اور لداخ 30اور 31اکتوبر کی درمیانی شب سے مرکز کے زیر انتظام خطوں کے طور پر معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی رنبیر سنگھ پینل کوڈ کا وجود ختم ہو گیا۔
اس ضمن میں 30اکتوبر تک جموں و کشمیر کی عدالتوں میں رنبیر سنگھ پینل کوڈ کے تحت ہی فیصلے صادر کیے گئے جن میں بدھ کو ماریہ نذیر وغیرہ بنام اسٹیٹ کے تحت عدالت عالیہ نے ماریہ نذیر و دیگر کے حق میں فیصلہ سنایا۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق 2015میں دائر کی گئی اس عرضی میں ماریہ نذیر اور دیگر 12افراد نے حکومت جموں و کشمیر کے خلاف کیس دائر کیا تھا۔ جس میں محکمہ تعلیم میں انکی تقرری کے بعد بھی انہیں محکمہ میں کام کام کرنے سے روکا گیا۔22اکتوبر 2019کو عدالت عالیہ نے تمام ثبوتوں اور کیس سے متعلق سبھی رپورٹس و شواہد کا مطالعہ کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے 30اکتوبر کو کیس کا فیصلہ سنایا۔
30اکتوبر کو عدالت عالیہ نے ان 13افراد کی تقرری کو صاف و شفاف پایا اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو انکی جلد سے جلد پوسٹنگ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے انکی اب تک کی تنخواہ بشمول مراعات جلد سے واگزار کرنے کا فیصلہ سنایا۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق قابل ذکر ہے کہ یہ نہ صرف رنبیر سنگھ پینل کوڑ کے تحت جموں و کشمیر کی عدالت عالیہ کا آخری فیصلہ تھا بلکہ جموں و کشمیر کے خلاف بطور ریاست بھی آخری کیس تھا۔












16 تبصرے “بھارتی زیر انتظام ‘ریاست’ جموں کشمیر کی عدالت کا آخری فیصلہ محنت کشوںکے حق میںرہا”