پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر میں میرپور کے ضمنی انتخابات کےلئے پیپلزپارٹی نے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے. مذکورہ نشست مسلم لیگ ن کے ہی ایک وزیر حکومت چوہدری محمد سعید کی عدالتی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی. پیپلزپارٹی کی جانب سے ن لیگ کی حمایت کے اعلان کے بعد مسلم لیگ کے رہنما چوہدری سعید کے بیٹے کا مقابلہ اب ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ہوگا.
یہ انتخابات چوبیس نومبر کو میرپور میں منعقد ہونگے.
پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ آزادکشمیرمیں ایک بھرپور قسم کا انتخابی ماحول بنایا جائے ۔ اس کےلئے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص بیرسٹر سلطان محمود سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ بھی مسلم لیگ ن کی حمایت کریں کیونکہ حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم ایک دوسرے کے خلا ف الیکشن لڑیں ۔
تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں حمایت کرنے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے شکرگزار ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی ماحول سے ہٹ کر ہم اپنی ساری توانائیاں تحریک آزادی کشمیر پر لگائیں ۔
ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تمام باہمی معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے دوٹکڑے کرنے جارہا ہے ۔لداخ کو الگ کرنے کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوج معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کررہی ہے۔آزادکشمیر کی سیاسی قیادت ہندوستانی جارحیت کے خلاف متحد ہیں ۔
محمد نواز شریف کی صحتیابی کےلئے جمعہ کے دن آزاد کشمیر میں دعا ﺅں کا اہتمام کیا جائے گا۔ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے تشویش ہے ۔آصف علی زرداری مریم نواز خورشید شاہ بھی بیمار ہیں انہیں تمام سہولیات فراہم کی جائیں ۔
ضمنی انتخابات کے موقع پر ہم ہندوستان کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اکھٹے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے ہماری درخواست پر عمل کیا ہم شکرگزار ہی۔پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔
ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر چوہدری لطیف اکبر، جنرل سیکرٹری فیصل ممتاز راٹھور ، ایڈیشنل جنر ل سیکرٹری مسلم لیگ ن ممبر کشمیر کونسل عبدالخالق وصی ، سابق وزیر حکومت و رہنماءپیپلز پارٹی بازل نقوی ، پی پی رہنما سید اظہر گیلانی ، جنرل سیکرٹری نیشنل پریس کلب و دیگر بھی موجود تھے ۔
انہوں نے کہاکہ ان حالات میں ہم آزادکشمیر میں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔مودی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو رد کرسکتا ہے تو ورلڈ بنک کی کیا حیثیت ہے ۔مودی پاکستان پر آبی جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے ۔10 سال سے لیکر 35 سال تک کے 14000لوگوں کو ہندوستان کی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے ۔آزادکشمیر میں انتخابی ماحول بنانے کا موقع نہیں مقبوضہ کشمیر کے حالات خراب ہیں ۔جماعت اسلامی ، جمیعت علماءاسلام اور دیگر ساری جماعتوں کو کہتا ہوں کہ ملکر مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو پیغام دیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں ۔
وزیر اعظم نے کہاکہ ہندوستان کل ریاست کے دو حصے کرنا چاہتا ہے،ہم ہندوستان کے آئین کو مانتے ہیں نہ 370 کو مانتے ہیں۔بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ بھارت چاہتا ہے آزادکشمیر کے لوگوں کو وہاں ہونے والے ظلم سے علیحدہ کیا جائے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہمیں میاں نواز شریف، آصف علی زرداری، مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کی صحت کے حوالے سے تشویش ہے۔ ابھی وہ مجرم نہیں ان پر الزام ہے۔ حکومت دیگر قیدیوں کو بھی سہولت دے۔
وزیر اعظم نے کہاکہ ہمیں دشمن کو دکھانا ہے کہ ہم اس معاملے پر اکھٹے ہیں،ہندوستان نے باہمی معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی۔ میں نے پہلے بھی متبنہ کیا کہ بھارت پانی پر بھی تنگ کرے گا۔انہوںنے کہاکہ اگر بھارت یو این کی قراردادوں کو مسترد کرسکتا ہے تو اس کے سامنے ورلڈ بنک کیا ہے












14 تبصرے “میرپور ضمنی انتخابات: پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا”