بھارتی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو اپنے زیر انتظام جموں کشمیر کو دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی آیئنی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد ریاست تشویشناک صورتحال سے گزر رہی ہے۔
مرکزی حکومت نے جموں کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو خطوں، جموں کشمیر اور لداخ میں تبدیل کردیا۔
ساؤتھ ایشین وائرکی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم نو قانون 2019 کے تحت جموں کشمیر کی ریاست کا درجہ ختم کیا گیا اور اس کے علاوہ کئی قوانین اور ریاستی کمیشنز کو ختم کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں کشمیر کی حیثیت کے حوالے سے کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ان کا جائزہ اس رپورٹ میں لیا گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کا اپنا آئین، اپنا جھنڈا اور پہلے سے حاصل شدہ خصوصی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔
تنظیم نو قانون 2019 کے تحت جموں کشمیر میں کئی قانونی اور انتظامی تبدیلیاں رونما ہوں گی، جن کا اطلاق 31 اکتوبر کے بعد جموں کشمیر اور لداخ کے زیر انتظام خطوں پر ہوگا۔
ماہرین قانون کے مطابق خطے کی تشکیل نو بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے باشندوں کی زندگی پوری طرح سے بدل ڈالے گی۔ بی جے پی حکومت نے دفعہ 370 کو جموں کشمیر اور لداخ کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا تھا اور انکے مطابق اس کے ہٹانے سے جموں کشمیر اور لداخ میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے ایک ویب سائٹ القمرآن لائن کو بتایا کہ بی جے پی کی جانب سے دفعہ 370 کو ہٹانا غیر قانونی ہی نہیں بلکہ عوام کی خواہشوں کے خلاف بھی ہے۔
جموں کشمیر میں ڈوگرہ شاہی سے ہی دارالحکومت اور اس سے منسلک سبھی دفاتر گرمیوں میں سرینگر اور سردی کے ایام میں جموں منتقل ہوتے آئے ہیں، اس طرح دارالحکومت سال کے چھ مہینے سرینگر اور بقیہ چھ مہینے جموں منتقل ہوا کرتا ہے، تنظیم نو قانون کے تحت بھی دربار موو کا یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔
پبلک سروس کمیشن جموں کشمیر میں برقرار اور پہلے کی طرح کام کرے گا جبکہ لداخ خطے میں یو پی ایس سی کے تحت بھرتیاں عمل میں لائی جائیں گی۔
تنظیم نو قانون کے تحت عدالت عالیہ میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی اور ہائی کورٹ بدستور جموں، کشمیر اور لداخ کے لیے مشترکہ طور کام کرتی رہے گی۔
اس صورتحال میں عام کشمیری اس تبدیلی کے بارے میں اندیشوں اور وسوسوں کاشکار ہیں۔












13 تبصرے “اپنا آئین، جھنڈا اور خصوصی حیثیت ختم: 31 اکتوبر کے بعدکشمیر میں کیا کیا تبدیل ہوگا”