بھارتی زیر انتظام کشمیر کی ریاستی حکومت کی ایڈوائزری کے بعد ہفتہ سے وادی میں مقیم سیاحوں اور یاتریوں نے وادی سے نکلنے کا آغازکردیا ہے۔ اسکے ساتھ ہی وادی میں ہزاروں کی تعداد میں غیر ریاستی مزدوروں نے بھی وادی سے کوچ کرنیکا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
دریں اثناء وادی کے پیٹرول پمپوں کے باہر بدستوربھیڑ ہے جبکہ اے ٹی ایموں کے باہر بھی قطاریں لگی رہیں۔ محکمہ سیاحت کے حکام نے کہا ہے کہ وادی کے مختلف مقامات پر قریب 25 سے 30ہزار سیاح مقیم تھے جنہیں جمعہ کی شام زبردستی ہوٹلوں سے نکالا گیا اور رات کے دوران ہی سرینگر لایا گیا۔سرکاری طور پر گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا اور روڑ ٹرانسپورٹ کی بسیں اس کام پر لگا دی گئیں تھیں۔جمعہ کی شام ہی سیول ایوی ایشن حکام کی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی جس میں سنیچر سے اضافی پروازوں کا اہتمام کرنیکا فیصلہ کیا گیا۔

قریب 10ہزار سیاح پروازوں کے ذریعہ نئی دہلی روانہ ہوچکے ہیں اور اتوار کی شام تک سبھی سیاحوں کو دلی روانہ کیا جائیگا۔سرینگر ائر پورٹ پر سنیچر کو پہلی بار جم غفیر دیکھنے کو مل رہا تھا۔ ہر منٹ کے بعد پروازیں اڑان بھر رہی تھیں۔ لیکن ایڈوائزری جاری ہونے کے فوراً بعد ٹکٹوں کی قیمتوں میں نا قابل یقین اضافہ ہوا اور فی ٹکٹ 41000سے 51000میں فروخت ہورہی تھی۔ادھرایک سنیئر آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پہلگام اور بال تل میں موجود 5000 یاتریوں کو جمعہ کی شام سے ہی جموںروانہ کرنے کا آغاز کیا گیا اور سنیچر کی دوپہر تک سبھی یاتری چلے گئے تھے۔ تاہم لنگر لگانے والوں کی اچھی خاصی تعداد ابھی بھی موجود ہے جنہیں اتوار کی شام تک جموں روانہ کیا جائیگا۔
ہوٹل ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ پہلگام اور گلمرگ کے علاوہ سونہ مرگ، یوسمرگ اور سرینگر ہوٹلوں میں مقیم سیاحوں کو حکام کی جانب سے زبردستی نکالا گیا۔اس دوران وادی میں مقیم غیر ریاستی مزدوروں میں تشویش کی لہر دور گئی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں غیر ریاستی مزدوروں نے وادی سے کوچ کرنیکا آغاز کردیا ہے۔سوشل میڈیا پر کئی ایک بیرون ریاستوں کے مزدوروں کو روتے بلکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
ادھراگرچہ حکومت نے کہاہے کہ لوگوں کو افواہوں پر کوئی دھیان نہیں دینا چاہئے کیونکہ وادی میں ایسی کوئی بات نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود بھی لوگ پٹرول پمپوں کے باہر جمع ہورہے ہیں۔سنیچر کو بھی پیٹرول پمپوں پر صبح سی ہی بھاری رش تھا۔لالچوک ، کرن نگر ، ٹنگہ پورہ ، ایچ ایم ٹی اور دیگر کئی جگہوں پر پیٹرول پمپ خالی تھے جبکہ کئی پیٹرول پمپوںکو بند کیا گیا تھا ۔
پٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ وادی میں پٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے ۔عہدیدار نے بتایا کہ اُن کے پاس2400 گاڑیاں موجود ہیں اور اُن کے پاس پانپور اور زیون میں 3ڈیپو بھی ہیں جہاں پر روزانہ پٹرول اور ڈیزل سے بھری گاڑیاں پہنچتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حیدرپورہ میں ایک پٹرول پمپ کی کھپت ایک دن میں 2ہزار لیٹر ہے لیکن وہاں 24گھنٹوں کے دوران 20ہزار لیٹر پٹرول ختم ہو گیا ہے ۔ادھروادی میں موجود مختلف بنکوں کے اے ٹی ایمز پر بھی لوگوںکا بھاری رش دیکھا گیا اور کروڑوں روپے نکالے گئے۔












12 تبصرے “بھارتی کشمیر:ہزاروں سیاحوں اور یاتریوں کی روانگی شروع ،غیر ریاستی مزدور وں نے بھی رخت سفر باندھا، ہوائی ٹکٹ 41ہزار پہنچ گئی، پیٹرول پمپ اور اے ٹی ایم خالی ہونے کے قریب”