کورونا ہیلتھ ایمرجنسی: پاکستانی کشمیر کے داخلی راستے بدستور بند، ہزاروں مسافر انٹری پوائنٹس پر جمع

کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلئے نافذ کی گئی ہیلتھ ایمرجنسی کے بعد پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تمام داخلی اور بین الاضلاعی راستے مکمل طو رپر سیل کر دیئے گئے ہیں. لیکن مسافروں‌کی ایک بھاری تعداد اس وقت بھی انٹری پوائنٹس پر جمع ہے. جو پیدل ہی کشمیر اور دیگر اضلاع میں‌داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں.

حکومت کی جانب سے بذریعہ میڈیا اور سوشل میڈیا تمام مسافروں‌کو بارہا مطلع کیا جارہا ہے کہ اب جو لوگ کشمیر سے باہر ہیں وہ ایک ماہ تک وہیں‌قیام کریں اور جو جن اضلاع میں‌ہیں‌ایک ماہ تک وہیں‌قیام کریں. تاہم حکومت کی جانب سے ریلیف پیکیج کی عدم فراہمی، مختلف اضلاع اور بیرون کشمیر موجود لوگوں کو خوراک، رہائش اور دیگر درپیش مسائل کا ازالہ نہ ہو پانے کے باعث مسافر بڑی تعداد میں‌اپنے گھروں‌کا رخ کرنے کی کوشش میں‌مصروف ہیں.

اس کوشش میں‌درجنوں‌میل پیدل سفر کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے. منگل کی شب مری سے کوہالہ اور پھر کوہالہ سے باغ تک درجنوں‌مسافروں‌نے پیدل سفر کیا، مذکورہ مسافروں‌سے انجمن تاجران باغ کے صدر حافظ مقصود احمد نے ملاقات کی اور انکی ایک ویڈیوسوشل میڈیا پربھی شیئر کی گئی. یہ مسافر راولپنڈی اسلام آباد سے ضلع حویلی کے علاقہ خورشید آباد جانے کےلئے نکلے تھے. جنہیں‌کوہالہ سے داخل ہونے سے روکا گیا جس کے بعد وہ پیدل سفر کرتے ہوئے کوہالہ اور پھر براستہ دھیرکوٹ سفر کرتے ہوئے باغ پہنچنے میں‌کامیاب ہوئے.

مسافروں‌کے داخلے کی کوششوں‌کو روکنے کےلئے پولیس کے ہمراہ فوج کے دستے بھی تعینات کر دیئے گئے ہیں. لیکن خراب موسم اور بارش کے باوجود ہزاروں‌مسافر بدستور انٹری پوائنٹس پر داخلے کے منتظر ہیں.

دوسری طرف نجی ٹرانسپورٹرز بھی مسافروں‌کو زیادہ کرایہ وصول کرنے کی لالچ میں‌راولپنڈی اسلام آباد سے کشمیر کےلئے اور کشمیر کے مختلف اضلاع سے راولپنڈی اسلام آباد اور دیگر اضلاع میں‌پہنچانے کےلئے لیکر نکلتے ہیں اور پھر انٹری پوائنٹس پر روکے جانے پر مسافروں‌کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.

راولاکوٹ سے باغ جانے کی کوشش کرنے والے درجنوں‌مسافروں‌نے شجاع آباد پل پر روکے جانے کے بعد نالہ کہن کے ساتھ پیدل سفر کرتے ہوئے باغ میں داخل ہونے کو ترجیح‌دی.

آزاد کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملانے والے تمام پوائنٹس سیل کر دیے گئے۔ یہ راولاکوٹ جانے والی سٹرک کے مناظر ہیں۔ آزاد پتن پل پر اور اس سے پیچھے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں۔ پل پر ایک وقت بہت سی گاڑیاں کھڑی ہونا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ویڈیو بشکریہ: فرحان احمد خان جبکہ صحافی جلال الدین مغل کے مطابق آزاد حکومت نے ان دنوں آزاد کشمیر میں جانے والے کسی بھی فرد کو 14 دن تک قرنطینہ میں رکھنے کا اعلان کیا ہے.

Posted by Danish Irshad on Tuesday, March 24, 2020

اسی طرح راولاکوٹ میں‌موجود خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں‌سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں‌کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں‌پھنس کر رہ گئی ہے. یہ محنت کش دیہاڑی دار ہیں، جو مختلف نوع کی مزدوری دیہاڑی داری کی بنیاد پر کرتے ہیں، اس کے علاوہ گاڑیوں‌کی ورکشاپس پر بھی کام کرتے ہیں. مذکورہ محنت کشوں‌کے پاس بھی ایک ماہ تک گزارہ کرنے کےلئے رقم موجود نہیں‌ہے، جبکہ انکا اگر کام نہیں‌چلتا تو کے پی کے میں‌انکے اہل خانہ کو بھی شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا.

مذکورہ محنت کشوں‌نے بھی گزشتہ روز ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ انہیں‌ اپنے علاقوں‌میں‌بھیجے جانے کا انتظام کیا جائے، یہاں‌وہ رہائشی کمرہ جات کا کرایہ دینے اور کھانے پینے کی سہولت سے بھی محروم ہو چکے ہیں، ایک مہینے تک اس طرح‌کی صورتحال میں‌گزارہ کرنا انکے لئے ناممکن ہے.

کورونا وائرس سے بچاو کیلئے اقدامات قابل تحسین مگر بھوک اور افلاس کے مارے اور راولاکوٹ کی سڑکوں پر دربدر ٹھوکریں کھانے والے ان غمزدہ چہروں کا پرسان حال بھی ہے کوئی؟

Posted by Umar Khayyam on Tuesday, March 24, 2020

تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک فوری مشکلات کا ازالہ کرنے کےلئے ریلیف پیکیج کا کوئی انتظام نہیں‌کیا گیا ہے. جو لوگ بیرون کشمیر پھنسے ہوئے ہیں، وہ بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے خوراک اور دیگر ضروریات زندگی سے محروم ہو رہے ہیں، ایک مہینے کےلئے اس حالت میں‌گزارہ کرنا ان کےلئے ممکن نہیں‌ہے.

سیاسی و سماجی شخصیات نے اس سلسلہ میں‌حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری طورپر ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے. بیرون کشمیر سے داخل ہونے والے مسافروں‌کو قرنطینہ مراکز میں‌منتقل کرنے کےلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ انہیں‌قرنطینہ مراکز میں‌رکھ کر سہولیات بہم پہنچائی جائیں، اس طرح سے انٹری پوائنٹس پر روکے جانے کی وجہ سے نہ صرف وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے، بلکہ بارش کے موسم میں‌دیگر بیماریاں‌بھی پھیلنے کا خدشہ موجود ہے.

حکومت کی جانب سے عجلت میں‌لاک ڈاؤن کا اعلان کرنا اور کسی قسم کا ریلیف پیکیج نہ دیا جانا باعث تشویش ہے. حکومتی اقدامات پر عدم اعتماد ہی کی وجہ سے مسافروں‌کی اتنی بڑی تعداد اپنے آبائی علاقوں‌میں جانے کی کوشش میں‌مصروف ہے. حکومت اگر لاک ڈاؤن کے متاثرین کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتی ہے تو پھر یہ نقل و حرکت مکمل طور پر کنٹرول کی جا سکتی ہے.

کوہالہ پل پر موجود لگ بھگ ایک ہزار افراد میں درجن کے قریب میرے قریبی عزیز ہیں جنہیں سختی سے منع کیا تھا سفر نہ کریں اور جہاں ہیں وہیں رک جائیں مگر نہیں مانے اور لاہور سے سفر کر کے کوہالہ تک پہنچ گئے- اس وقت بارش بھی ہے اور لگ بھگ ایک ہزار لوگ ہجوم کی شکل میں موجود ہیں- اللہ نہ کرے ان میں سے ایک بھی شخص اس مہلک وائرس سے متاثر ہوا تو وہ اب تک کئی دوسرے لوگوں کو بطور ہدیہ پیش کر چکا ہو گا اور یہ لوگ آگے کئی اور لوگوں میں یہ خیرات بانٹتے پھریں گے- مقابلہ صرف کورونا سے ہوتا تو یہ جنگ ہم چین کی طرح تھوڑے تردد اور تھوڑی قربانی کے بعد جیت سکتے تھے مگر یہاں مقابلہ جہالت، کم علمی اور کم عقلی سے ہے اس لیے قربانیاں بھی رائیگاں جانے کا احتمال بھی اور جنگ ہارنے کا امکان بھی-

Posted by Jalaluddin Mughal on Tuesday, March 24, 2020

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: