کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا تدارک کرنے کےلئے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کےلئے پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر کے تمام ضلعی صدر مقامات ،داخلی اور خارجہ راستوںپر فوجی دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں، جبکہ پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات ہے، مکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال کے باوجود پاکستان کے مختلف شہروںسے کشمیر میںداخل ہونے کی کوشش میںہزاروں مسافر بدھ کے روز بھی انٹری پوائنٹس پرپھنسے رہے.
دوسری جانب سوشل میڈیا پرچلنے والی خبروںکے مطابق کمشنر پونچھ ڈویژن نے آزاد پتن پر جمعرات کی صبح چھ بجے تک داخلے کی اجازت دیتے ہوئے آخری وارننگ دی ہے کہ اس کے بعدتمام شاہرات کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا.مذکورہ خبروںکے بعد بڑی تعداد میں پھنسے ہوئے مسافرپونچھ میںداخلے کےلئے روانہ ہو گئے، تاہم کمشنر پونچھ نے اس خبر کی تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اختیاران کے پاس نہیںہے. مال بردار گاڑیوںاور ایمرجنسی مریضوںکے علاوہ کسی کوبھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میںداخلے یا باہر جانے کی اجازت نہیںدی جائے گی.
لاک ڈاؤن اورپابندیوں کی وجہ سے ہزاروںکی تعداد میںپاکستان کے مختلف شہروں سے مزدوری کی غرضسے کشمیر میںرہائش پذیر محنت کشوںکو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے. ہوٹل، تندور وغیرہ کی بندش کے باعث کھانے پینے کی سہولیات سے مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے دیہاڑی دار محروم ہو کر رہ گئے ہیں.
صرف راولاکوٹ میںپانچ سے چھ سو کے لگ بھگ دیہاڑی دار مزدور اور ورکشاپس پر کام کرنے والے افراد رہائش پذیر ہیںجنہیںکھانا فراہم کرنے کےلئے نجی سطح پر کچھ افراد کوشش کر رہے ہیں لیکن حکومت اور انتظامیہ نے ان سے متعلق کوئی فیصلہ نہیںکیا ہے.
دوسری طرف قرنطینہ مراکز میںبھی انتظامات کے فقدان پر رہائش پذیر افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.
ادھر دوسری جانب ڈپٹی کمشنرمظفرآباد کے دفتر سے جاری ہونے والے حکم کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی ایمرجنسی صورت حال کے پیش نظر ضلع مظفرآباد کی حدود میں فروری 2020سے تاحال بیرون ملک اور بیرون کشمیر (پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان) سے آئے ہوئے لوگ محکمہ صحت عامہ کی ٹیموں یا ہسپتال سے اپنا طبعی معائنہ کرواتے ہوئے رپورٹ /رسید اپنے پاس رکھیں۔ محکمہ صحت عامہ کی ٹیمیں اور انتظامیہ بیرون کشمیر سے آنے والے جملہ اشخاص کو چیک کریں گے۔ اگر ان میں کسی شخص /اشخاص کے پاس طبعی معائنہ کی رپورٹ /رسید نہ پائی گئی تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادھر کرونا وائرس کے شبہ میں 12 نئے کیس درج ہوئے جن کے ٹیسٹ لیکر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیے ہیں۔محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے شبہ میں کل 77 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 53 کے نتائج آچکے ہیں اور 52 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی جبکہ ایک شخص میں کرونا وائرس پایا گیا ہے اور وہ قرنطینہ سینٹر میرپور میں زیر علاج ہے۔24کے رزلٹ آنا باقی ہیں اور ان کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں موصول ہو جائے گی۔رپورٹ کے مطابق ایمزمظفرآباد، سی ایم ایچ مظفرآباد، راولاکوٹ، ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپور، ڈی ایچ کیو ہسپتال ہٹیاں بالا، نیلم، باغ، حویلی، سدھنوتی، بھمبر، کوٹلی اور نیو سٹی میرپور میں آئسولیشن وارڈز قائم کر دیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تمام اضلاع میں 26قرنطینہ سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ تمام اضلاع میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لیے حفاظتی سامان پہنچا دیا گیا ہے۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب اس طرح کی وبا ملک میں پھوٹ جا ئے تو ہمارے مذہب میں واضح احکامات موجود ہیں کہ ہم اس سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔ یہ حالات زلزلہ سے زیادہ بڑا چیلنج ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جو قیدی سنگین جرائم میں ملوث نہیں انہیں ضمانتوں پر رہا کیا جا رہا ہے۔ وفاق کا نام صر ف چار صوبے نہیں بلکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان بھی اس کا حصہ ہیں۔
وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان میاں محمد نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صد رمسلم لیگ ن محمد شہباز شریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کے اعلی ٰ سطحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
اجلاس میں چیئرمین مسلم لیگ ن راجہ ظفر الحق، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،مریم نواز شریف، رانا ثنا ء اللہ، امیر مقام و دیگر نے شرکت کی۔
وزیر اعظم فاروق حیدر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور عوام مل کر اس وباء سے نمٹیں گے ہم نے سخت سے سخت فیصلے کیے ہیں مگر یہ ہماری عوام کی بھلائی کے لیے ہی ں َ عوام مکمل طور پر گھروں میں رہیں۔وزیر اعظم نے بیرون ملک مقیم کشمیر کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ان حالات میں سفر نہ کریں اسی میں ان کی اور ان کے پیاروں کی حفاظت اور بہتری ہے۔












20 تبصرے “شہروںمیں فوج تعینات:پاکستانی کشمیر میں داخلے کی اجازت کی متضاد اطلاعات،26 قرنطینہ مراکز قائم”