سہولیات کا فقدان: لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کروانے والے پولیس اہلکاران مشکلات کا شکار

پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر میں کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے مکمل لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کروانے کے لئے پولیس اہلکاران متحرک ہیں.

دس اضلاع کے تقریبا تمام ہی شہروں‌میں‌لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے لیکن لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کروانے کےلئے فرائض منصبی سرانجام دینے والے پولیس اہلکاران سہولیات کے فقدان کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں.

پولیس اہلکاران کو حفاظتی ماسک فراہم نہیں‌کئے گئے ہیں، جبکہ تقریبا تمام ہی شہروں‌سے ماسک ناپید ہو چکے ہیں، تمام شہروں‌میں‌ہوٹل بند ہونے کی وجہ سے دن بھر ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس اہلکاران کو کھانا کھانے اور چائے پینے کی سہولیات بھی موجود نہیں‌ہیں. جس کی وجہ سے پولیس اہلکاران اپنی جیبوں‌سے بھاری اخراجات کر کے بیکری کے سامان سے بھوک اور منرل واٹر سے اپنی پیاس بجھانے پر مجبور ہیں.

گزشتہ روز ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں‌کو یہ لگتا ہے کہ پولیس اہلکاران بیماریوں‌سے مبرا ہیں، انہیں‌وائرس کا کوئی خطرہ نہیں، یاپھر انکے پیٹ میں‌بھوک ، پیاس نہیں‌لگتی، انکی فیملی اور بچے نہیں‌ہیں. انکا کہنا تھا کہ ہمیں‌بے یار و مدد گار لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کرنے کےلئے ذمہ داریاں‌سونپ دی گئی ہیں.

انہوں‌نے کہا کہ راولاکوٹ شہر میں‌ہوٹل، چائے خانے بند ہیں، جب کہ لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کےلئے پولیس کی اضافی نفری کو بھی استعمال میں‌لایا گیا ہے جس کی وجہ سے پولیس اہلکاران کو آرام کا وقت بھی میسر نہیں‌ہے. ماسک بھی فراہم نہیں‌کئے جا رہے ہیں، جیب سے ماسک خریدنا چاہیں‌بھی تو شہر سے ماسک ناپید ہیں، اس کیفیت میں‌پولیس اہلکار شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں. لازمی سروسز میں‌شامل ملازمین کو لوہے کا سمجھ لینا بھی کوئی دانشمندی نہیں‌ہے.

انکا کہنا تھا کہ حکومت کواس مشکل صورتحال میں‌فرائض منصبی سرانجام دینے والے اہلکاران کےلئے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں، جب بھی اس طرح کی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے تو پولیس اہلکاران کی ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے لیکن ایسے حالات میں‌پولیس اہلکاران کی اپنی تنخواہیں‌ڈیوٹی پوری کرنے کے دوران ہی خرچ ہو جاتی ہیں‌اور وہ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں‌رہتے.

ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ اکثر اوقات گاڑیوں‌میں‌ڈیزل بھی اپنی جیبوں سے ڈالنا پڑتا ہے جو سراسر ظلم ہے. لیکن کوئی بھی اس بارے میں‌نہیں‌سوچتا. انہوں‌نے بھی حکومت سے اپیل کی کہ اس مشکل وقت میں‌فرائض سرانجام دینے والے پولیس اہلکاران کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور انہیں‌سہولیات فراہم کی جائیں.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: