ہاٹ منی: کورونا وائرس نے پاکستانی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کردیا

کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے سے دو چار کر دیا ہے وہیں کئی ملکوں کی معیشت اور معاشی پالیسیاں بھی ان منفی اثرات کا تیزی سے شکار ہو رہی ہیں۔

اس سلسلے میں‌برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے منسلک صحافی تنویر ملک نے ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے جو بی بی سی اردو پر شائع ہوئی ہے.

رپورٹ کے مطابق پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جہاں سٹاک مارکیٹس، کرنسی کی قدر اور بیرونی سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگا ہے۔ شاید اسی لیے بیرون ملک سے آنے والی سرمایہ کاری میں اچانک کمی کے بعد شرح سود میں کچھ کمی کی گئی ہے۔

اسٹیٹ بنک کی جانب سے جاری ہونے والی مانیٹری پالیسی کے مطابق پالیسی ریٹ کو 13.25 سے کم کر کے 12.50 کر دیا گیا ہے۔

تاہم سب سے بڑا دھچکا حکومت کی اس معاشی پالیسی کو لگا جس کے ذریعے حکومت نے ملک میں ’ہاٹ منی‘ کو فروغ دینے کی کامیاب کوشش کی تھی۔

’سٹاک مارکیٹ میں تاریخی ٹریڈنگ ہالٹ‘
پاکستان سٹاک ایکسچنج ان مارکیٹوں کی فہرست میں آتی ہے جو گذشتہ کئی روز سے شدید کاروباری مندی سے دوچار ہے۔ اس مارکیٹ سے وابستہ سرمایہ کار اس وقت خوف اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں کہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ مزید خسارے میں جا سکتی ہے۔

پاکستان سٹاک ایکسچنج کا بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس سٹاک مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ انڈیکس گذشتہ ہفتے کے اختتام پر 5.6 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔ پاکستان سٹاک ایکسچنج میں کاروبار میں شدید مندی کا ایسا رجحان دیکھنے میں آیا کہ گذشتہ ہفتے میں حصص مارکیٹ میں خرید و فروخت کو تین بار روکنا پڑا۔ سٹاک مارکیٹ کی اصطلاح میں ’ٹریڈنگ ہالٹ‘ اس وقت عمل میں لائی جاتی ہے جب پانچ منٹ کے دورانیہ میں مارکیٹ مسلسل پانچ فیصد سے بھی زیادہ گرے۔

سٹاک مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت سے منسلک ٹاپ لائن سیکورٹیز کے چیف اکانومسٹ سیڈ عاطف ظفر کے مطابق ایسی صورت حال میں مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت کو 45 منٹ تک روک دیا جاتا ہے تاکہ مندی کے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

’ہاٹ منی‘ پالیسی کو دھچکا
سٹاک مارکیٹ کی طرح پاکستان کی منی مارکیٹ میں بھی گذشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے مزید قدر کھوئی۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ حکومتی سیکیورٹیز سے بیرونی سرمایہ کاری کا اخراج بتایا جاتا ہے۔

گورنمنٹ سیکورٹیز سے بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج میں مارچ 2020 کے پہلے گیارہ دنوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مرکزی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق ان گیارہ دنوں میں 625 ملین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری گورنمنٹ سیکورٹیز سے نکلی۔

عام اصطلاح میں اس سرمایہ کاری کو ’ہاٹ منی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو قلیل مدت کے لیے حکومتی بانڈز میں انویسٹ کی جاتی ہے۔

پاکستان میں بلند شرح سود کی وجہ سے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی بانڈز سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش آپشن ہے تاہم کورونا وائرس کے باعث حالیہ دنوں میں حکومتی بانڈز سے ہاٹ منی کے اخراج کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سید عاطف ظفر کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے کساد بازاری ہے۔ ان حالات میں سرمایہ کار کہیں پر سرمایہ کاری میں رسک لینے کے بجائے اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومتی بانڈز سے بیرونی سرمایہ کاری کا اخراج اسی گھبراہٹ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونی سرمایہ کاری کا اخراج صرف بانڈز سے ہی نہیں ہوا بلکہ سٹاک مارکیٹ سے بھی ہوا ہے۔

سید عاطف ظفر کے مطابق بیرونی سرمایہ کاروں کا سٹاک مارکیٹ کے فری فلوٹ میں 27 سے 28 فیصد حصہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ پندرہ روز میں سٹاک مارکیٹ سے لگ بھگ سو ملین ڈالر کا اخراج ہوا ہے۔ ان کے مطابق حکومتی بانڈز اور سٹاک مارکیٹ سے بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج نے ڈالر کے مقابلے میں روپے پر دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی۔

’شرح سود میں کمی اب ضروری ہو گئی ہے‘
ڈریسن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو دل آویز احمد نے بتایا کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔ ملک کی معیشت میں سست روی اور بلند شرح سود نے اقتصادی ماحول کو منفی بنا دیا تھا۔ کورونا وائرس کی وبا نے اس سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دل آویز کے مطابق ان کے بروکریج ہاؤس کے کلائنٹس سٹاک مارکیٹ میں حصص کے بھاؤ میں شدید کمی کے بعد بہت زیادہ خسارے میں چلے گئے ہیں۔ دل آویز احمد کے خیال میں پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے اگر شرح سود میں کسی کمی کا اعلان ہوتا ہے تو اس سے کسی حد تک سٹاک مارکیٹ کو مدد مل سکتی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے منفی رجحان پر قابو پا سکے۔

کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کی وجہ سے پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں آئل اور گیس کی کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

سید عاطف ظفر نے بتایا کہ آئل اور گیس کمپنیوں کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں اٹھارہ سے بیس فیصد حصہ ہے اور جب بھی ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی میں دیکھنے میں آتی ہے تو سٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے جس کے نتیجے میں ان کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

’دیہاڑی دار سرمایہ کار کی کمر ٹوٹ گئی‘
پاکستان سٹاک ایکسچنج میں جہاں بڑے بڑے سرمایہ کار اور بروکرز روزانہ کروڑوں اربوں کا پیسہ لگاتے ہیں تو اس کے ساتھ یہاں ایک چھوٹا سرمایہ کار بھی دیہاڑی لگانے کے لیے چند لاکھ کی سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس سرمایہ کار کو سٹاک ایکسچینج میں ’ڈے ٹریڈر یا ریٹیل انویسٹر‘ کہا جاتا ہے۔

یہ ڈے ٹریڈر قلیل وقت کے لیے سرمایہ لگا کر اس سے نفع کماتا ہے تاکہ اس کے گھر کا چولہا جل سکے۔ سٹاک مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں شدید مندی نے ان ڈے ٹریڈرز کو بری طرح متاثر کیا ہے کیونکہ انھیں ہر روز دیہاڑی لگانے کے لیے سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔ اس وقت چھوٹے سرمایہ کار ہی سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔

اس بارے میں پی ایس ایکس سٹاک بروکرز ایسو سی ایشن کے سابق سیکرٹری جنرل عادل غفار کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں کاروبار بنیادی طور پر صبر آزما کاروبار ہے۔ یہ دراصل کسی حصص میں اپنی سرمایہ کاری کو روکنے یعنی ہولڈنگ پاور کا نام ہے۔

بڑے سرمایہ کار کے پاس ہولڈنگ پاور زیادہ ہوتی ہے اور وہ اپنے سرمایہ کو طویل عرصے تک فروخت نہ کر کے مارکیٹ میں تیزی کا انتظار کر سکتا ہے لیکن ریٹیل انویسٹر کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ ایک لمبے عرصے تک ایک خاص کمپنی کے حصص میں اپنی سرمایہ کاری کو روک سکے۔ عادل غفار کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سٹاک ایکسچینج میں مندی کی صورت میں چھوٹا سرمایہ کار ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: