عالمی یوم خواتین: پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں خواتین کو درپیش مسائل

تحریر: دانش ارشاد

دنیا میں جہاں اور بہت سے دن منانے کا رواج موجود ہے وہیںعورتوں کے حقوق کا عالمی دن ” یوم خواتین” منانے کا آغاز 1909 میں ہوا۔ابتدا میں یہ دن صرف کام کرنے والی خواتین سے منسوب تھا مگر بعد ازاں اس دن کو خواتین میں شعور کی بیداری کیلئے منایا جانے لگا۔ اس دن کی ابتدا نیویارک کی ایک فیکٹری میں10گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اس وقت کی جب انہوں نے اپنے کام کے اوقات کار اور اجرت میں اضافے کے لیے آواز اٹھائی تو پولیس نے ان پر تشدد کیاتاہم خواتین نے جبری مشقت کے خلاف تحریک جاری رکھی اور احتجاجی مظاہرے کیے ۔1909 میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے عورتوں کا دن منانے کی قرارداد منظور کی اور پہلی بار اسی سال 28فروری کو امریکہ بھر میں عورتوں کا دن منایا گیا۔1910میں کوپن ہیگن میں ملازمت پیشہ خواتین کی دوسری عالمی کانفرنس ہوئی جس میں جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے دنیا بھر میں ہر سال عورتوں کا دن منانے کی تجویز پیش کی جسے کانفرنس میں شریک 17ممالک کی 100خواتین شرکا نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ مارچ 1911کو آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ میں پہلی بار خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ فروری 1913میں پہلی بار روس میں خواتین نے عورتوں کا عالمی دن منایا تاہم اسی سال اس دن کے لیے 8 مارچ کی تاریخ مخصوص کردی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ دن ساری دنیا میں منایا جانے لگا یہاں تک کے اس دن کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے بھی 8مارچ کو یوم خواتین مان کر 1975میں اپنے کیلنڈر میں شامل کرلیا۔

اس دن جہاں دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق کی بات ہوتی ہے وہیں مختلف خطوں میں خواتین کو درپیش مسائل بھی زیر بحث آتے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں آزاد کشمیر کی خواتین کو درپیش مسائل کو موضوع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

آزاد کشمیر میں خواتین کے مسائل مختلف نوعیت کے ہیں ۔ شہروں میں رہنے والی خواتین کے مسائل اور دیہاتی علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل مختلف ہیں، اسی طرح پڑھی لکھی اور ان پڑھ خواتین کے مسائل کی نوعیت مختلف ہے اور کنٹرول لائن پر رہنے والی خواتین کے مسائل کئی زیادہ ہیں۔ ان میں معاشی ، سماجی ، سیاسی اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق مسائل کی ایک بڑی فہرست موجود ہے۔

٭۔ آزاد کشمیر میں سب سے اہم مسئلہ معاش کا ہے جو نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کا بھی بنیادی مسئلہ ہے اور آزاد کشمیر میں معاشی وسائل نہ ہونے کے اثرات براہ راست خاندانی نظام پر پڑتے ہیں۔آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی قلم کار اور ڈرامہ نگار رابعہ رزاق کہتی ہیں کہ ہمارے پاس صنعتوں کا کوئی وجود نہیں ہماری عورت معاشی مسائل سے نمٹے بھی تو کیسے؟ اس کے پاس روزگار کے ذرائع اتنے محدود ہیں کہ وہ اپنے ہنر اور صلاحیت کے باوجود معاشی ترقی میں اپنا کوئی حصہ نہیں ڈال سکتی ۔ مردوں کو معاش کے لیے اپنے علاقے یا ملک سے باہر جانا پڑتا ہے جس کا براہ راست خواتین پر پڑتا ہے تب انھیں تنہا گھر اور باہر کی ذمہ داریوں سے نمٹنا پڑتا ہے بچوں کی تربیت سے لے کر زندگی کے دیگر مسائل میں وہ اپنے شریک حیات کے بغیر فیصلے لے رہی ہوتی ہے ۔ عورت کا وجود جذبات سے محروم اس مشین کی طرح ہو جاتا ہے جو اپنے صبح شام محض گزارتی ہے جیتی نہیں ۔ میں نے اپنے علاقے کی خواتین کا جذباتی استحصال ہوتے دیکھا ہے گویا یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی حساسیت اور نزاکت کو ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔ شریک حیات کے ساتھ شراکت کا تصور یا اس کے ساتھ مل کر گھر بسانے کا تصور وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں معاشی مجبوریاں میاں بیوی کے درمیان حائل ہو جاتی ہیں ۔ آزاد کشمیر میں معاشی استحکام نہ ہونے پر پروفیسر عطیہ انور کہتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں خواتین کیلئے سرکاری نوکریاں ہیں ۔ پرائیویٹ جابز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سرکاری اداروں میں بھی خواتین کو شعبہ تعلیم میں آنے دیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سوسائٹی کی طرف سے خواتین کیلئے صرف ٹیچنگ اور میڈیکل ہی قابل قبول سمجھے جاتے ہیں گو کہ اب خواتین دوسرے شعبوں جیسے بینکنگ ،انجینئیرنگ اور سوشل سیکٹر میں آ رہی ہیں لیکن ان کا تناسب انتہائی کم ہے۔ تعلیم میں بہت ورائٹی آ چکی ہے لیکن اس حساب سے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث بے روزگاری اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایم ایس کی طالبہ اور سوشل ایکٹیوسٹ زارا خالد کہتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں خواتین کیلئے روزگار کے مواقع انتہائی کم ہیں سرکاری اداروں کے علاوہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں خواتین کو کام کے مواقع میسر آتے ہیں جن میں پیکجز انتہائی کم ہوتے ہیں اور یہ رویہ استحصال کے مترادف ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دیتے ہیں لیکن عام طور پر بچیوں کو سوائے ٹیچنگ کے کسی دوسرے شعبے میں نہیں جانے دیا جاتا۔

٭۔ آزاد کشمیر میں خواتین کا دوسرا بڑا مسئلہ صحت کی سہولیات کا نہ ہونا ہے۔ صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث آزاد کشمیر کی خواتین بالخصوص لائن آف کنٹرول کے قریب کے علاقوں کی خواتین شدیداذیت کا شکار رہتی ہیں اور دوران زچگی شدید مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اس کی وجہ ہسپتال بہت دور ہیں اور سفر کیلئے راستوں کی صورتحال بھی موزوں نہیں ہے۔نیلم سے چکار تک کی خواتین کو علاج کیلئے مظفرآباد اسی طرح پورے پونچھ ڈویژن میں خواتین کو علاج کیلئے راولاکوٹ تک کا سفر کرنا ہوتا ہے اور میرپور ڈویژن میں بھی کوٹلی شہر اور میر پور شہر کا رخ کرنا ہوتا ہے۔ علاج کی سہولت سے محرومی پر مظفرآباد یونیورسٹی کی پروفیسر رخسانہ خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ریسرچ کیلئے اکثر سرحدی علاقوں (نیلم، چکار اور نکیال وغیرہ) جاتی ہیں وہاں کے مقامی خواتین سے گفتگو میں علاج کی سہولیات کا فقدان سرفہرست رہتا ہے۔

٭۔ آزاد کشمیر میں خواتین گھریلو تشدد اور کا م کے دوران ہراساں کئے جانے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں لیکن ان کا تناسب انتہائی کم ہے۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایڈووکیٹ اور سیاسی راہنما نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں گھریلو تشدد کی شکایات ہوتی ہیں ان کا تناسب بہت کم ہے اور عموما یہ شکایا ت دیہی علاقوں سے سامنے آتی ہیں۔

٭۔ ورکنگ ویمن کو کام کی جگہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے رابعہ رزاق کہتی ہیں کہ ”حالات بہت بہتر ہوئے ہیں پریشرز اور منفی نظریات کا پرچار کرنا بہت آسان ہے لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ بے شمار خواتین اس وقت کام کررہی ہیں ، شاید کوئی ہی شعبہ زندگی ایسا بچا ہو جہاں عورت نہ پہنچی ہو۔ ورکنگ پلیس پر عورت کی کامیابی سے مرد کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے شاید یہ ہراسمنٹ سے بھی بڑا مسئلہ ہے کہ عورت باس ہو اور مرد اس کی زیر نگرانی کام کرے یہ سچائی قبول کرنا مشکل ہے اور اس کی وجہ سے عورت کے لیے حالات ناسازگار بنانے کی کوشش ہوتی رہتی ہے۔ ” اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پروفیسر عطیہ انور کا کہنا ہے کہ ”آزاد کشمیر میں ہراسگی کی شکایات بہت کم ہیں۔ اس کی ایک وجہ ہماری سوسائٹی جڑی(کنیکٹڈ) رہتی ہے اور زیادہ تر لوگ ایکدوسرے کو یا خاندانوں کی جان پہچان ہوتی ہے اس لئے ہراسگی کی واقعات کی شرح بہت کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں ورکنگ ویمن کیلئے پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت ماحول بہت سازگار ہے۔ لوگ عزت سے پیش آتے ہیں تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ آپکو بھی علاقے کی روایات کا پاس رکھنا چاہئیے اور رسم و رواج پر غیر ضروری تنقید سے گریز کرنا چاہئیے۔ رخسانہ خان کے مطابق بھی آزاد کشمیر میں ہراسگی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں خواتین(طالبات) کی تعداد مردوں(طلبا) سے زیادہ ہے اور نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں کے دوران کبھی کسی قسم کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ عطیہ انور اور زارا خالد کا کہنا ہے کہ سوسائٹی میں عام طور پر سماجی کام کرنے والی خواتین کو آسان اپروچ سمجھا جاتا ہے اور غیر ضروری رابطوں کی کوششیں بعض اوقات کام کرنے میں مشکلات کا سبب بھی بنتی ہیں ۔

٭۔ جائیداد کی تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اس میں اکثر اوقات خواتین کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ اس پر قانون سازی کرے تاکہ جائیداد کی تقسیم میں خواتین کو ان کا حصہ مل سکے۔

٭۔ ایک بڑا مسئلہ آزاد کشمیر میں خواتین کو سیاسی جماعتوں میں مطلوبہ نمائندگی کا نہ ملنا ہے حالانکہ کے آبادی کے تناسب سے خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ اس حوالے سے عطیہ انور کہتی ہیں کہ مخصوص نشستوں خواتین کو لانے سے نمائندگی کا تناسب برابر نہیں ہوتا اور سیاسی جماعتوں میں خواتین کی نمائندگی برائے نام ہے۔ جو خواتین سیاسی جدوجہد کرتی ہیں ان کو محض مخصوص نشستوں پر لایا جاتا ہے۔خواتین براہ راست سیاست میں آنے کے مواقع بہت کم میسر آتے ہیں۔ اکثر یہی کہا جاتا ہے کہ سیاسی تربیت نہ ہونے کے باعث انتخابی سیاست کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ حالانکہ سیاسی تربیت کیلئے میدان عمل میں ہونا ضروری ہے اور آزاد کشمیر میں خواتین کو سیاست کیلئے میدان عمل میں لانا شائد مرد سیاست دانوں کیلئے قابل برداشت نہیں۔ ایک مقامی سیاسی جماعت کی جنرل سیکرٹری رہنے والی نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ سیاست میں محنت کی ضرورت ہے اور میں نے سیاسی جدوجہد کی اور جماعت کی جنرل کونسل نے ووٹوں کے استعمال سے مجھے جنرل سیکرٹری منتخب کیا تھا۔ اس لئے خواتین کو عملی جدوجہد کا حصہ بن کر خود جگہ بنانی چاہئیے۔ کچھ مشکلات ضرور ہیں لیکن بہت مواقع ہیں۔

٭۔آزاد کشمیر میں شرح خواندگی کافی زیادہ ہے اور اس میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ عطیہ انور کہتی ہیں ”پڑھی لکھی خواتین کو ایک اور بڑی مشکل کا سامنا ہے وہ ان کو مطلوبہ معیار کے رشتوں (لائف پارٹنر ) کا نہ ملنا ہے اور گھر والوں اور سوسائٹی کے دباو میں شادی تو ہو جاتی ہے لیکن میاں اور بیوی کا مزاج نہ ملنے کے باعث اس کا اثر ان کی اولاد پر پڑتا ہے اور ان کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے اور ایسے کئی کیسز ہمارے سامنے ہیں اس کیلئے ہماری سوسائٹی کو بچیوں کے ساتھ بچوں کی تعلیم پر بھی توجہ دینی چاہئیے تاکہ یہ تناسب برابر ہو سکے۔

٭۔ آزاد کشمیر میں خواتین کے مسائل کے حوالے سے سدھن ایجوکیشن کانفرنس ویمن ونگ کی چئیرپرسن خدیجہ زرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں سوائے بے روزگاری کے کوئی مسائل نہیں اور اس کے ساتھ نئی نسل کو تربیت کی اشد ضرورت ہے اس پر والدین کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

٭۔ آزاد کشمیر میں خواتین کے مسائل کے حل کے حوالے سے پروفیسر عطیہ انور کا کہنا ہے کہ” حکومت کو خواتین کے معاشی مسائل کے حل کیلئے پرائیویٹ انڈسٹریز سمیت گھریلو صنعتوں کو متعارف کروانے کیلئے چھوٹے قرضوں جیسی سکیموں کو سامنے لانا چاہئیے اور خواتین کو کاروبار کی طرف راغب کرنا چاہئیے۔”

رابعہ رزاق کا کہنا ہے کہ ”صرف ڈگری بہتر مستقبل نہیں بنا سکتی ۔ ہنر مند انسانوں کا فقدان معاشرتی اور سماجی ڈھانچے کی خستگی کا اور شکستگی کا اصل ذمہ دار ہے۔ ہماری خواتین کو اپنے لیے تعلیمی میدان کا انتخاب کرتے ہوئے محض ڈگری پر فوکس نہیں کرنا چاہیے پڑھی لکھی خواتین کی وسعت نظری اور ذہنی استطاعت عام عورت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے ایسے میں وہ اپنے ارد گرد ہی اس طرح کا ماحول ترتیب دے سکتی ہے جو عام عورت کے لیے بھی سازگار ہو ، حضرت خدیجہ ایسی تمام عورتوں کے لیے روشن مثال ہیں وہ عرب کے انتہائی گھٹن زدہ ماحول میں تجارت کرتی تھیں ۔میں نے آزاد کشمیر کے مقابلے گلگت بلتستان کی عورت کو زیادہ خودمختار دیکھا ، ہنزہ میں گھریلو صنعت مکمل عورت کے پاس ہے ،عورتیں چھوٹے چھوٹے کاروبار کررہی ہیں ، ایسی سوچ آزادکشمیر میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ہمیں وویمن انٹرپرینورشپ کے لیے کانسلنگ کرنی چاہیے عورت کو ترقی کے میدان میں اگر قدم رکھنا ہے تو اسے اپنی معاشی بنیاد مضبوط کرنا ہوگا اور معاشی طور مضبوط عورت اپنا جذباتی استحصال بھی روک سکتی ہے اور اس کیلئے حکومت کو ایسے پلیٹ فارم ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو سماجی سطح پر عورت کو خود مختار بنا سکیں ”۔ زارا خالد کہتی ہیں ” ہمارے ہاں عورتوں کو کاروبار کیلئے مواقع میسر نہیں کیے جاتے ۔ اگر سرمایہ کاری کی بات آئے تو سرمایہ ہمیشہ بیٹے کو دیا جاتا ہے بیٹی کو کاروبار کیلئے سرمایہ نہیں دیا جاتا۔ اس سوچ کو بدلنا چاہئیے اور خواتین کو معاشی خودمختاری کیلئے سپورٹ کیا جانا چاہئیے۔ ان کا کہنا ہے ہمارے ہاں ہر قسم کے مواقعوں کا فقدان ہے وہ کام کاج ہو یا کھیل وغیرہ۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہئیے اور تعلیمی اداروں میں غیر نصابی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کے مواقع میسر کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ”

حقیقت یہ ہے کہ عورت کے مسائل کا حل خود عورت کے پاس ہے ، اپنی حیثیت کا تعین کرے ، اپنے وقار کو ملحوظ رکھ کر ہر فیلڈ میں کام کرے ، خود کو ارزاں نہ کرے بلکہ اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر اپنا آپ منوائے ، اپنے لیے ایسے کیریئر اور تعلیم کا انتخاب کرے جو اسے معاشی طور پر مضبوط کرے ، معاشی طور پر مضبوط ہونے کے لیئے عورت کو اپنی استطاعت سے زیادہ محنت کرنا پڑے گی لیکن اس کاانعام یہہو گا کہ خوشحال عورت ایک پوری نسل کو سنوار سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں سمیت ہر سطح پر خواتین کے حقوق اور عزت و تکریم کیلئے آگاہی کا سلسلہ شروع کرے تاکہ ہم اپنے معاشرے کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کو دور کر کے ایک بہترین معاشرہ بنانے کی طرف جا سکیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: