سٹوڈنٹ یونینز کا کردار: ماضی میں نوجوان طلبا اپنے مطالبات کیسے تسلیم کراتے تھے؟

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی یونیورسٹی کے داخلی راستے اور چوراہے ان دنوں بینرز اور جھنڈوں سے سجے ہوئے ہیں، کسی پر قلم تو کہیں بلا اور کتاب بنے ہوئے ہیں مگر ان جھنڈوں کے درمیان ایک بینر موجود ہے جس میں طلبا یونین کی بحالی کی اطلاع دی گئی ہے۔

ان دنوں ملک بھر میں طلبہ تنظیمیں متحرک نظر آرہی ہیں اور انھوں نے حکومت سے کچھ مطالبات بھی کیے ہیں جن میں طلبا یونینز کی بحالی سرِ فہرست ہے۔

کراچی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے انتخابات 21 دسمبر کو منعقد ہو رہے ہیں۔ ہر سال اسی جوش و جذبے کے ساتھ ان کا انعقاد ہوتا ہے اور یہاں زیرِ تعلیم طلبا ہر سال اس مہم کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن خود اس مرحلے سے باہر ہیں۔

ماضی میں طلبہ یونینز سے وابستہ رہنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ طلبا کے مطالبات، جیسے فیسوں میں کمی یا ٹرانسپورٹ کے مسائل، پر آواز اٹھایا کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

طلبہ یونینز پر کب پابندی لگی
پاکستان میں 35 سال قبل سابق آرمی چیف اور صدر جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں طلبا یونینز پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ 9 فروری 1984 کے اخبارات نے جیمز بانڈ کی فلم اے مین ود گولڈن گن، بیسٹ ماسٹر، لائن مین اور نمائش کے اشتہارت کے ساتھ طلبا یونین پر پابندی کی خبر بھی شائع ہوئی تھی۔

اس پابندی کا اطلاق پہلے پنجاب میں ہوا۔
غلام جیلانی ،جو اس وقت گورنر پنجاب اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے، نے مارشل لا آرڈر نمبر 1371 جاری کر کے اس پابندی کا نفاذ کیا اور ساتھ میں تمام یونینز کے دفاتر بند اور بینکوں میں ان یونینز کے کھاتے منجمد کر دیے گئے۔ جبکہ حکم نامے کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید و جرمانہ کی سزا کا بھی اعلان کیا گیا۔

فوجی حکومت نے طلبا کو غیر نصابی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے سوسائیٹز بنانے کی اجازت دی جن کا تعلق کسی سیاسی گروہ یا جماعت سے نہ ہونے کی شرط رکھی گئی۔ حکم نامے کے مطابق کسی کو بھی اسلحہ بارود رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر کوئی طالب علم کسی تعصبانہ سرگرمی میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی کیا گیا۔

تعلیمی اداروں کے سربراہان کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اس حکم نامے کی خلاف ورزی پر کسی طالب علم کو نکال سکتے تھے۔ اسی طرح 11 فروری کا اخبار سندھ میں طلبہ یونین پر پابندی کا فیصلہ لے کر آیا۔

سندھ میں طلبہ یونین بحالی کی نوید
سندھ کابینہ نے حال ہی میں سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کا ابتدائی مسودہ منظور کیا ہے جس کو جمعرات (آج) صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ مسودے کے مطابق طلبا یونینز کسی بھی تعلیمی ادارے یا تعلیمی تربیتی ادارے (چاہے سرکاری ہو یا نجی) میں بنائی جا سکتی ہیں۔

تاہم اس کے مطابق طلبا یونین سات سے 11 ممبران پر مشتمل ہو گی جس کو طلبا منتخب کریں گے جبکہ صدر سینڈیکٹ کا رکن بھی ہو گا۔

مارشل لا آرڈر کی طرح سندھ کے حالیہ مسودے میں کچھ قدر مشابہت نظر آتی ہے، جیسے نفرت یا تعصب پھیلانا جرم سمجھا جائے گا اور تعلیمی اداروں میں اسلحہ لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ یونین کا کام تعلیمی ماحول بہتر کرنا، نظم و ضبط پیدا کرنا، غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہو گا۔

یہ انتخابات غیر سیاسی ہوں گے اور جامعات میں سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیموں کو بھی فعال نہیں کیا جائے گا۔ اس میں بھی یہ شامل ہے کہ تعلیمی ادارے کے سربراہ کے پاس کسی کو بھی نکالنے کا اختیار ہو گا۔

سندھ کے مشیر قانون مرتضیٰ وہاب اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سیاسی عمل کو فروغ دیا جائے گا، جماعتوں کو نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کابینہ نے کچھ ترامیم کی ہیں جن میں طلبج کے خلاف کارروائی کا اختیار تادیبی کمیٹی کو دیا گیا ہے۔

طلبہ تنظیموں میں کس کا پلڑا بھاری رہا؟
قیام پاکستان سے لے کر سنہ 1984 تک طلبا تنظیموں پر بائیں بازو کی جماعتوں کی سوچ و فکر کا اثر رہا۔

1960 کی دہائی تک ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کا غلبہ رہا اور بعد میں اس پر پابندی عائد ہوئی۔ بعد ازاں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن یا این ایس ایف سامنے آئی اور اس کے بعد جماعت اسلامی کی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ 1970 کی دہائی سے متحرک ہوئی۔

کراچی یونیورسٹی کی آخری طلبہ یونین کے صدر شکیل فاروقی کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش نامنظور‘ نعرے سے جمعیت کی مقبولیت ہوئی، ورنہ جمیعت تو سنہ 1947 سے موجود تھی۔

بائیں اور دائیں بازو کی تنظیمیوں کے نظریاتی اختلافات نے بعض اوقات جامعات کو جنگ کا میدان بھی بنایا۔ کراچی یونیورسٹی میں پہلی بار گولی سنہ 1979 میں چلی جب انتخابات کے بعد تقریب حلف برداری تھی۔

طلبا یونینز سے مسائل کیسے حل ہوتے تھے؟
کراچی یونیورسٹی کی یونین تین سطحوں پر نمائندگی رکھتی تھی۔ ان میں صدر، جنرل سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری، گرلز جوائنٹ سیکرٹری کے علاوہ ہر شعبہ سے نمائندے منتخب کیے جاتے تھے۔

یہ نمائندگی فکیلیٹی کی تعداد کے حساب سے ہوتی تھی۔ شعبوں کے سطح پر کونسل بنتی تھی جس میں کونسلرز کا انتخاب ہوتا تھا، جتنا بڑا شعبہ اتنے ہی زیادہ کونسلرز۔

ان کونسلرز کا ایک سپیکر منتخب ہوتا تھا۔ یونین اپنے مسائل کونسل میں پیش کرتی تھی۔

اسد بٹ کراچی کے پریمیئر کامرس کالج میں 1967 میں یونین کے جنرل سیکرٹری رہے
سنہ 1979 میں صرف تین فکیلیٹیز ہوتی تھیں جب 1984 میں جب پابندی لگی تو ان دنوں فکیلیٹیز کی تعداد چار ہو چکی تھی جن میں فارمیسی، سائنس، آرٹس اور اسلامک لرننگ شامل تھیں۔

یونیورسٹی سے منسلک کالجز میں بھی یونین ہوتی تھی اور اس کی کونسل اور سپیکر منتخب ہوتے تھے۔ ان کالجز کی ایک انٹر کالج باڈی بنتی تھی جس کے صدر، جنرل سیکرٹری اور کونسل ممبران ہوتے تھے۔

طلبا یونین کے امیدوار کے لیے یہ لازم تھا کہ وہ کبھی امتحانات میں فیل نہ ہوا ہو۔ یونیورسٹی کی ایک کمیٹی الیکشن کی نگرانی کرتی تھی اور 10 سے 15 روز میں انتخابات منعقد ہوتے تھے۔

طلبا کی نمائندگی
جامعات کا پالیسی ساز ادارا سینڈیکیٹ ہے جس کی صدارت وائس چانسلر کرتے ہیں جبکہ گورنر کے نامزد ممبران بھی ہوتے ہیں جن میں ریٹائرڈ ججز اور عالمِ دین بھی شامل ہیں۔

سنہ 1984 تک اس ادارے میں طلبا تنظیموں کی بھی نمائندگی ہوتی تھی۔ یونیورسٹی کی یونین کا صدر اور یونیورسٹی سے منسلک کالجز کا صدر رکن ہوتے تھے۔

مشیر قانون مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ طلبہ کی سینڈیکیٹ میں نمائندگی کو بحال کیا جارہا ہے اور اس کے لیے یونیورسٹی ایکٹ میں بھی ترمیم کی جائے گی۔

طلبا یونین کے فنڈز اور اختیارات
طلبا یونین کو سرگرمیوں کے لیے یونیورسٹی کی جانب سے فنڈز بھی فراہم کیے جاتے تھے۔ سنہ 1979 میں کراچی یونیورسٹی کی یونین کے جنرل سیکرٹری رفیق پٹیل کے مطابق اِن دنوں تقریبا تین لاکھ روپے کے قریب فنڈ ہوتا تھا۔

طلبا کے کئی مسائل یونین خود حل کرتی تھی۔ ٹرانسپورٹ کا انتظام یونین کے پاس ہوتا تھا۔ طلبہ کا ہفتہ منایا جاتا جس میں پاکستان بھر کی بڑی شخصیات سے طلبا کا تعارف کرایا جاتا اور طلبا ان سے سوالات کرتے تھے۔

اسد بٹ کراچی کے پریمیئر کامرس کالج میں سنہ 1967 میں یونین کے جنرل سیکرٹری رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کالج کی یونین کے پاس بھی فنڈز ہوتے تھے اور ساتھ میں یہ اختیار بھی تھا کہ وہ مستحق طلبا کی مکمل یا نصف فیس میں رعایت دے سکتے تھے۔ اس کے علاوہ ادبی و علمی محفلیں ہوا کرتی تھیں اور ان کے میگزین بھی نکالے جاتے تھے۔

کراچی یونیورسٹی کی طلبا یونین کے آخری صدر شکیل فاروقی کا کہنا ہے کہ یونین مختلف کمیٹیاں بناتی تھی جیسے ٹرانپسورٹ کمیٹی، سپورٹس کمیٹی، ایڈمنسٹریشن کمیٹی، لائبریری کمیٹی وغیرہ۔ اس طرح سہولیات کا معیار رکھنے میں یونین بڑا اہم کردار ادا کرتی تھی۔

حکومت سندھ کے مجوزہ قانون میں یونین کے مالی وسائل اور اختیارات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ مشیر قانون مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ جامعات نے اپنے قواعد و ضوابط بنانے ہیں جبکہ حکومت نے اس کے لیے رہنما اصول بتا دیے ہیں۔

کیا طلبا کے مطالبات تسلیم کیے جاتے تھے؟
طلبا یونین اپنے مطالبات کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے تھے۔ رفیق پٹیل کے مطابق چارٹر آف ڈیمانڈ میں زیادہ تر مطالبات جامعات اور کالجز کی گرانٹس بڑھانا، فیسوں میں کمی، کتابیں اور لائبریوں اور اساتذہ کی تعداد میں اضافے سے متعلق ہوتے تھے۔

اسد بٹ کا کہنا ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈ زیادہ تر حکومت سے متعلق تھے یعنی فیسوں میں کمی، کرایوں میں کمی یا مہنگائی کیونکہ اس سے والدین متاثر ہوتے تھے۔

رفیق بٹ بتاتے ہیں کہ جو تعلیمی معاملات قومی سطح پر طے کیے جاتے تھے ان میں طلبا کی آواز طلبا یونین کے ذریعے پہنچتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم اپنے مطالبات پیش کرتے تھے، حکومتیں مانے نہ مانیں لیکن بات پہنچ جاتی تھی اور انھیں یہ بھی معلوم ہوجاتا تھا کہ طلبا کا موڈ کیا ہے۔‘

طلبا اپنے مسائل کے حل کے لیے احتجاج کا بھی سہارا لیتے تھے۔

شکیل فاروقی کا کہنا ہے کہ طلبا کی طاقت کا ایسے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بسیں لے کر کسی بھی متعلقہ حکام کے پاس پہنچ جاتے جس سے افسران اور سیاست دان گھبراتے تھے۔

حکومت سندھ کی جانب سے مجوزہ قانون میں کہیں بھی چارٹر آف ڈیمانڈ کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ اختیار ہی ایک ایسوسی ایشن اور یونین میں فرق واضح کرتا ہے۔

جب سندھ کے مشیر قانون سے یہ سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’طلبہ یونین ہونی چاہیے، ایک منتخب باڈی ہونی چاہیے، یہ مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں جبکہ احتجاج کا حق آئین پاکستان دیتا ہے۔‘

’کوئی حقیقی مسئلہ ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ تسلیم نہیں کر رہی تو پھر حکومت مداخلت کر سکتی ہے۔ اس کے لیے سندھ ہائیر ایجوکیشن کا ادارہ موجود ہے۔‘

سیاستدان طلبا کے رہبر یا رہزن؟
سابق سٹوڈنٹ رہنما اسد بٹ کا مشورہ ہے کہ کسی بحث میں الجھنے کے بجائے جہاں سے سلسلہ ٹوٹا وہاں سے جوڑا جائے، جس طرح الیکشن ہوتے تھے اسی طرح ہونے دیں جو سٹوڈنٹس یونین آئیں ان کے نمائندوں سے بات کریں اور ان کی مشاورت سے مزید پیش رفت کی جائے۔

رفیق پٹیل کا کہنا ہے کہ یونین کو آزادی دینی ہو گی، انھیں فنڈز دینے ہوں گے اور جو سٹوڈنٹس ایڈوائزر کا شعبہ ہے اس کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہو گا، جو پوری رہنمائی فراہم کرے۔ شکیل فاروقی حکومت سندھ کے مسودے کو قانون نہیں ہدایت نامہ قرار دیتے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کی آخری طلبا یونین کے صدر شکیل فاروقی بعد میں اسی یونیورسٹی کے اساتذہ کی ایسوسی ایشن کے صدر بھی بنے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب طلبا یونین پر پابندی لگی تو دائیں اور بائیں بازو کی تمام طلبا تنظیموں نے 100 دن تک احتجاج کیا۔

’سیاسی جماعتوں نے دھوکہ کیا، کسی نے بھی ساتھ نہیں دیا چاہے وہ جماعت اسلامی ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی۔ ان دنوں ایم آر ڈی تحریک جاری تھی طلبا اگلے مورچے پر تھے لیکن کوئی سیاستدان ہمارے ساتھ نظر نہیں آیا۔ بالاخر ہم واپس آ گئے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان میں رواں سال کراچی اور لاہور سمیت متعدد شہروں میں طلبا یکہجتی مارچ کیے گئے تھے جن میں تمام ترقی پسند طلبا تنظیموں نے شرکت کی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس کی حمایت کی اور سندھ میں طلبا یونین کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: