پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے سرکاری معلمین کی تنظیم سکول ٹیچرز آرگنائزیشن کی قیادت اور اسکی پالیسیوںپر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ نے ڈیموکریٹک پینل تشکیل کیا ہے، پینل کے تاسیسی اجلاس میںپندرہ رکنی ورکنگ کمیٹی تشکیل دی گئی، محمد طیب خان اس کمیٹی کی سربراہی کریں گے. تاسیسی اجلاس میں منتخب قیادت سے فوری طور پر الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ بھی کیا گیا اور عبوری پروگرام اور منشور ترتیب دینے کے حوالے سے قراردادیںبھی منظور کی گئیں.
ڈیموکریٹک پینل کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مورخہ 15 دسمبر 2019 پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اساتذہ کا اجلاس راولپنڈی منعقد ہوا، جس میں مختلف اضلاع سے اساتذہ نے شرکت کی۔
اجلاس میں اساتذہ کو درپیش مسائل و انکے حل کیلئے ٹیچرزآرگنائزیشن کے رول کا جائزہ لیا گیا۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اساتذہ کی بڑی اکثریت معاشی ، سماجی و سیاسی مسائل کے کرب کا شکار ہے جبکہ ٹیچرزآرگنائزیشن کی قیادت اساتذہ کے مسائل کے حل کیلئے بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ٹچرزآرگنائزیشن پہ براجمان قیادت کی پالیسیوں نے اساتذہ کے مسائل حل کرنے کی بجائے اساتذہ کو مایوسی اور بےچینی کی انتہاؤں میں دھکیل دیا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی اکثریت عدم تحفظ اور مجروح ہوتی عزتِ نفس کا شکار ہے۔ ایسے میں اساتذہ کیلئے متبادل قیادت کی تعمیر ناگزیر ہے، جو اساتذہ کے مسائل کیلئے جارحانہ کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف اساتذہ کو معاشرتی جائز مقام دلوائے بلکہ سکولوں کی نجکاری کے خطرات کے خلاف موثر حکمت عملی اپنا سکے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ آج ہم اس خطہ کے کل سرکاری ملازمین کی تعداد کا بڑا حصہ ہونے کے باوجود بے توقیر و رسوا ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دس سالوں سے آرگنائزیشن پہ براجمان قیادت ہمارا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کر پائی ہے بلکہ حکمرانوں کی پالیسیوں نے اساتذہ کو تقسیم در تقسیم کے عمل میں جھونک دیا ہے۔
منظم منصوبہ بندی کے تحت اساتذہ کے خلاف عوامی رائے عامہ بنائی جا رہی ہے جس میں اساتذہ کا کردار انتہائی بے ہودہ طریقے سے مسخ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اس سارے عمل کے خلاف اساتذہ کی قیادت جو اساتذہ کی حمائت حاصل کئے بغیر آرگنائزیشن پہ براجمان ہے ، اساتذہ حقوق کے دفاع میں نہ صرف ناکام ہے بلکہ قیادت کے مصالحانہ کردار کے باعث سنجیدہ خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
آرگنائزیشن پہ دس سالوں سے براجمان قیادت 2009 کی تعلیمی پالیسی کے تحت اساتذہ کے سکیل اپگریڈ تک کروانے میں ناکام رہی ہے جبکہ اسی پالیسی کے تحت برسوں پہلے پاکستان میں سکیل اپگریڈ کیے جا چکے ہیں۔ ایسے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے تمام مسائل کے حل سمیت ہماری بقاء کا واحد رستہ متبادل قیادت کو تعمیر کرتے ہوئے سکول ٹیچرز آرگنائزیشن کو ازسرنو تعمیر کرنے کی جدوجہد کے ساتھ جڑا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں ڈیموکریٹک پینل کے عبوری پروگرام کی منظوری دی گئی ہے، جو پینل کے منشور کی صورت میں شائع کیا جائے گا اور تمام سکولوں تک پہنچایا جائے گا۔ پینل کی تعمیر کیلئے مرکزی ورکنگ کمیٹی کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے جس کے ممبران میں محمد حلیم ، محمد فیصل ، محمد الیاس ، وقار احمد ضیاء ، رضوان راجہ ، امیر افضل ، محمد نسیم ، دانیال عارف ، جاوید بانڈے ، ساجد الرحمن ، امیر افضل ، محمد غفور ، محمد محمود ، گوہر یوسف ، محمد سعید شاہد شامل ہیں، جبکہ مرکزی ورکنگ کمیٹی کے انچارج/ سرپرست کے طور پر محمد طیب خان کو منتخب کیا گیا ہے۔
ڈیموکریٹک پینل کے مرکزی تاسیسی اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی جس میں آرگنائزیشن کی پالیسیوں پہ عدم اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پہ پولنگ سکیم مکمل کرتے ہوئے الیکشن شیڈیول جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
مقررین نے اجلاس کے اختتام پراساتذہ کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ انتظار کرتے رہنے اور خود ہمت نہ کرنے کی پالیسی سے ہمارے مسائل کی شدت میں کمی نہیں آئے گی۔ ہمیں خود اس عمل کا حصہ بننا پڑے گا اور منقسم ہو چکے اساتذہ کو پروگرام کی بنیاد منظم کرنا پڑے گا۔ آئیں اس جدوجہد کو منظم کریں اور اپنی قیادت اپنے ہاتھوں سے تعمیر کرتے ہوئے اساتذہ کی بقاء کی جدوجہد کومنظم کریں۔












Your article helped me a lot, is there any more related content? Thanks!