نظام تعلیم بوسیدہ: اصلاح کی نہیں تبدیلی کی ضرورت ہے

تحریر:حیدر ارشد خان

ہمارا تعلیمی نظام ایک بوسیدہ قبر ہے، جسے کچھ جھوٹی روایات سنا سنا کر باعث فیض ثابت کرنے کی مدتوں سے کوشش کی جا رہی ہے اور خیر سالوں سے اسے پوجا بھی جا رہا ہے۔اس قبر کے مختلف مجاور جابجا اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنائے صدر دروازے پر اپنی اہلیت کا جھنڈا لہرائے کچھ تجربہ کار بیوپاری کے ساتھ آنے والے عقیدت مند گاہکوں کے انتظار میں ہیں ان جعلی آستانوں کی تعلیم کتنی سود مند ہے یہ کچھ روز پہلےسفیداور کالے کوٹ والے مریدوں کی مڈبھیڑ نے ثابت کر دیا۔ تعلیم کے ذریعہ تربیت اور تربیت پر عمل اور عمل سے مفاد عامہ میں خیر کثیر کا فروغ مقصود تھا،لیکن افسوس کے ساتھ آج کے دور میں تعلیم کے نام پر کردار کشی کا وہ باکمال اہتمام ھیکہ ان جھوٹی تعلیمی درگاہوں پہ آنے والے معصوم عقیدت مندوں کے کردار کو اس نفاست سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے کہ نہ دامن پہ کوئی داغ آتا ہے نہ ہی خنجر پہ کوئی نشان۔ تمہید کے بعد کچھ سماجی رویوں پر بات کروں گاجن کی وجہ یہ بوسیدہ تعلیمی نظام ہے۔ایک بہت عام سماجی رویہ جو انسانیت کی دشمنی میں خودکش بمبار کی حیثیت رکھتا ہے وہ ہے حسد، حب جاہ یا اسے آپ خود غرضی بھی کہ سکتے ہیں۔

یہ گلی،چوک، چوراہے اور نکڑ پہ موجود برائے نام تعلیمی ادارے میں آپ اپنے بچے کو بھجیں گے تو سب سے پہلی تربیت جو ہو گی وہ حسد پہ مبنی ہوگی۔بچے کو بتایا جائے گا کہ تمہارے نمبرات تمہاری اصل حیثیت کا تعین کریں گے۔ لہذا دوسروں کو گلے لگانے کے بجائے گلے کاٹتے ہوئے آگے بڑھو، تاکہ یہ ثابت کر سکو کہ کتنے موثر ہو۔یہی بات جب بچہ گھر آ کر ماں کو بتاتا ہے تو ماں اضافی ہدایت جاری کرتی ھیکہ جو بچے پڑھائی میں اچھے نہیں ہیں ان کے ساتھ لنچ بھی share نہ کرو۔لہذا اب بڑا ہوکر یہ بچہ غزالی یا رومی بننے سےتو رہا۔ خیر اب آتے ہیں دوسرے سماجی رویے کی طرف جو کہ تکبر غرور اور خودپسندی ہے۔ خیر خودپسندی کا ایک مثبت پہلو بھی ہے لیکن فلحال یہ لفظ تکبرانہ سوچ کے معنی میں استعمال کر رہا ہوں۔

جیسے یہ تمام تر برائے نام تعلیمی اداروے ایک طرز کے نہیں ہوتے کچھ انگریزی اور مہنگی تعلیم کے نام پراپنا چورن بیچتے ہیں اور کچھ ایسے ادارے بھی ہیں جو سرکار کی دی گئی زمہ داری کو زمہ داری سمجھ کر روزانہ ایک طرح کا گھسا پٹا سبق رٹوانے جاتے ہیں۔اس کے نتیجے میں عمومی رویہ یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ انگریزی سکول کا بچہ ٹاٹ سکول کے بچے کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا ہی نہیں بلکہ ایسا ہی تعصبانہ برتاؤ بھی کرتا ہے جسکے نتیجے میں یہ غریب سکول کا بچہ اس امیر زادے کو نا پختہ زہن میں ہی اپنا دشمن بنا لیتا ہے۔اور بڑا ہو کر یہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے جسکے زریعے اس امیر زادے کو نیچا دکھائے یا کم از کم اسکی برابری کر سکے۔اسکے لیے اسے چاہے لوٹ پاٹ یا چوری ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔اور وہ جب اس میں سے کہیں بھی کسی بھی زریعے سے دنیا کے اسباب اکٹھا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو معاشرتی امیری اور غریبی کا فرق مٹانے کے لیے اسلحہ اٹھا لیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ تاثر عمومی سوچ کی صورت میں بدل جاتا ھیکہ امیر صاحب ثروت اور غریب ضرورت مند کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔یوں امیر غریب کی دشمنی میں اپنا ظرف لٹاتا ہے اور غریب اپنا ایمان۔اب بات کرتے ہیں تیسرے عمومی رویے کی جسکی بنیاد بھی کہیں نہ کہیں تعلیمی اداروں کی نااہلی ہے، یہ تیسرا رویہ انتہا پسندی ہے۔

ہمارا معاشرہ مختلف ذات پات اور مسالک میں تقسیم ہے۔لہذا عمومی طور پر چودھری اپنے بچے کو چودھریوں کے سکول میں بھیجتا ہے اور ملک ملکوں کے سکول میں۔یقین کرو صاحبو کچھ عرصہ پہلے ایک عزیز کا داخلہ کرانے کا مشورہ کیا گیا تو میں نے کہا کہ فلاں کا سکول بہتر ہو گا اسکے صاحب اختیار کے ساتھ میرا مروت کا رشتہ ہے تو مشورہ مانگنے والے نے تعجب سے کہا کہ تم سدھن ہو کر خدانخواستہ یہ رائے دے رہے ہو کہ قریشیوں کے سکول میں بھیجا جائے اور وہ بچہ بھی وہی باتیں سن رہا تھا۔وہ بات ایسی بیٹھی اس بچے کے ذہن میں کہ اس نے اس سکول جا کر لڑائی اور دنگے کیے اور ساتھ اعزازسے تعارف بھی کروایا کہ میں سردار فلاں خان ہوں اور ہم ایسے ہی لوگ ہیں۔گویا اب وہ بچہ خود کو اپنے اساتذہ اور ہم مکتب دوستوں سے برتر سمجھنے لگا تھا اور یہ سوچ اب اسکے ذہن میں ایسے راسخ ہو چکی تھی کہ وہ شہزادہ اب نام کی جگہ سدوزئی بادشاہ لکھتا ہے۔

میں رب کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسے قبیلے میں پیدا کیا جسکی تاریخ کے اندر کچھ خدمات تھیں۔ باخدا یہ میرا اختیار نہیں کہ کہاں کیسے خاندان میں پیدا کیا جاؤں۔میں اگر کسی اور بھی قبیلے کا فرد ہوتا تو ایسے ہی اظہار تشکر کرتا۔میرے لیے امتحان اچھا انسان ہونا ہے۔چودھری، خان ،ملک، قریشی یہ کچھ تو کوئی بھی ہو سکتا۔ انسان ہونا بڑا امتحان ہے۔مثال دے کر سمجھانے میں اتنا مقصود ھیکہ جب تک تعلیمی ادارے لسانی،نسلی اور کسی بھی قسم کے تعصبی بنیادوں سے پاک نہیں ہو جاتے انتہا پسند سوچ کو مات دینا انتہائی مشکل ہے۔

ہمارے ہاں کوئی ایسا مسلک نہیں جسکا اپنا سکول کے نام پر فنڈ اکٹھا کرنے اور کارکن بڑھانے کا مرکز نہ ہو لہذا اب آپ بچے کو ہم مسلک سکول میں بھجیں گے تو آٹھ دس سال تک اسی مسلک کے گن گانے کے بعد جب وہ اس مسلک پہ کسی کی تنقید سنے گا تو وہ غصہ تو کرے گا۔اوراگر صاحب اختیار جگہ پر ہوا تو ہر فیصلہ مسلک کے تعاصب کے زیر اثر کرے گا۔اس لیے ایسے میں اگر اخلاقی حدیں پار ہو بھی جائیں تووہ اسے مذہبی عمل لگے گا جو کہ ہر گز مذہبی نہیں اور یوں نفرت کا بازار میں تیزی اور رویوں کی آگ کو ہوا ملتی رہے گی۔

اب بات کرتے ہیں چوتھے رویے کی جو کہ جلد بازی، شارٹ کٹ کی تلاش یا بے صبری ہے۔ دوستو ہر شخص کائنات کو سمجھنے کے لیےاپنا ایک آئینہ اور زاویہ رکھتا ہے۔میرے نزدیک کائنات میں ہونے والے تمام تر معاملات sequential ہیں یعنی ہر عمل پہلے والے عمل سے متصل ہے۔ لہذا کائنات اس شخص کو اپنے لیے خدمت کار چنتی ہے جو اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلےPeulo Cueloنے اپنی کتاب Al-Chemist میں لکھا ھیکہ کائنات ایک ہاتھ سے بنی ہے اور جب تک ہم اس کی روح میں اتر نہیں جاتے، ہم خود کو پا سکتے ہیں اور نہ ہی کائنات کے حق میں موثر ہو سکتے ہیں۔

خیر بات روحانی تعلیم کی طرف نہ نکل جائے واپس اسی موضوع پر آتے ہیں۔ آج کا تعلیمی نظام شارٹ کٹس پہ مبنی ہے۔شاطر دماغی کے استعمال سے مقصود مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ میڑک اور انٹر کے دور میں اساتذہ بتاتے تھے کہ چھ اسباق میں سے فلاں لمبا سوال آنے والا ہے۔ باقی سب چھوڑ کر ہم کتاب کا وہی پنتالیس فیصد حصہ یاد کرتے تھے جو امتحان میں آنے والا ہے۔ مجھے یاد ھیکہ ایک غیر ملکی صاحب نے مجھ سے optics کےبارے میں کوئی سوال کیا میں نے معذرت کی تو وہ پوچھنے لگے آپ کو فزکس میں یہ نہیں پڑھایا گیا تو میں نے عرض کی کہ صاحب یہ ان چھ اسباق کی لسٹ میں نہیں تھا جہاں سے پیپر آنا تھا، اس لیے نہ میں نے پڑھا اور نہ ہمیں پڑھایا گیا۔ہماری تعلیم ایسی ہی ھیکہ ہم پرائمری سکول میں 480 صفحے پہ مبنی آکسفورڈ کی مہنگی کتاب خریدتے تھے لیکن 80 صفحات وہ پڑھتے تھے جن کو پڑھانے کی قابلیت ہمارے اساتذہ میں تھی۔ ہاں البتہ گھر والے جب کتاب کا حجم دیکھتے تھے تو بہت متاثر ہوتے اور ایسے تعلیمی کاروبار ایک prankتھا جن میں مختلف شارٹ کٹ کے ذریعے overcome کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اور ایسا بچہ کبھی محنت پر راضی نہیں ہوتا بلکہ میری طرح ریسرچ کے لیے ادھر ادھر کے پیپر توڑ مروڑ کر پبلش کرا کر تکبرانہ خوشی کا شکار رہتا ہے۔

لہذا اگر موجودہ نظام جسے میں بلکل فائدہ مند نہیں سمجھتا، اگر سلیقہ سے بالترتیب سمجھایا جائے نہ کہ رٹا لگانے کی غرض سے، تو بہتری لائی جا سکتی ہے۔ یوں طالبعلم کچھ سیکھے گا بھی، محنت بھی کرے گا اور امید ہے عمل بھی کرے گا۔پانچویں سماجی رویے پہ بات کرنے سے پہلے تمہیدا کچھ عرض کرتا چاہوں گا۔استاد نے سیکھایا تھا ماضی سے سیکھ کر حال کو بہتر کرنا، بہترین مستقبل کی نوید ہے۔

یاد رہے استاد سے مراد وقت ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے غیر ضروری سوچوں میں مبتلا کر کے بچوں کو ذہنی مریض بنا رہے ہیں۔ایک بہت عام تعلیم یہ دی جاتی ہے کہ جتنے زیادہ نمبر لو گے اتنے زیادہ پیسے کماؤ گے حالانکہ تعلیم کا مقصد کردار سازی اور کائنات میں نفع بخش کردار ادا کرنا تھا۔ خیر بچہ جب یہ سنتا ہے تو اگر وہ اچھے نمبرات لینے والا ہے تو خواب سجانے لگتا ہے اور عموماً یہ کہتے ہوئے پایا جاتا ھیکہ میں جب ڈاکڑ یا وکیل بنوں گا تو فلاں گاڑی لوں گا۔یہاں کسی اور پیشے کا نام بھی لیا جا سکتا تھا لیکن چونکہ حالیہ واقعہ کے پیشِ نظر ان دونوں professions کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہتا ہوں۔

خیر ایسے بچہ بہت سی امیدیں پال لیتا ہے اور خیالوں کی دنیا میں مستقبل کی ایسی تصویر کھینچتا ہے جو کہ اس کی معاشرتی اونچ نیچ سے نا آشنائی کی وجہ سے جنون کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اور وہ غیر ضروری سوچ میں مبتلا ہو کر حاضر کو اگنور کرنے لگتا ہے۔ جب معاشرتی ناہمواریاں اسکی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور دوسری طرف ایک کمزور بچے کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ اس ک مستقبل تاریک ہے۔ اس طرح وہ بہت ساری ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور ذہنی مریض معماری کا کام نہیں کرتے۔ لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن مزید لمبی بات کوئی پڑھے گا نہیں۔
اسلیے یہیں ختم کرتے ہیں۔

بس سمجھانا یہی مقصود تھا کہ معزز والدین اساتذہ اور سربراہان ادارہ جات توجہ فرمائیں کہ اپنی اولادوں کو غیر اخلاقی تعلیم سے بچا کر کردار سازی کی کوشش کریں۔ کیونکہ استاد نے سکھایا ہے کہ محض کردار وہ پھول ہے جسکی مہک سے اجڑا ہوا چمن کھل کھلا جاتا ہے اور کردار کی عظمت وہ مہک ہے جو دلوں کو صاف کرتی ہے۔ایمان اور نظریات کو مضبوطی دیتی ہے۔اور روح کو تازگی دیتی ہے جس سے یہ جہان ایسے مہک جائے جیسے جنت کی ہوا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: