ماحولیاتی بحران:انقلاب یا موت۔۔۔۔!

تحریر: بدر رفیق

گرین ہاؤس گیسوں اورکاربن کے زائد اخراج سے زمینی درجہ حرارت کے بڑھنے اور ماحولیات میں تبدیلی کے سلسلہ میں ایک نیامنفی رجحان پروان چڑھ رہا ہے، اس رجحان کے تحت دنیا بھر میں قدرتی آفات کا ایک تسلسل جنم لے رہا ہے، اس تسلسل کی ہر کڑی ایک نئی آفت کو جنم دے رہی ہے، جن میں سائیکلون،زلزلے،سونامی،سیلاب،قحط سالیاں، گرد آلود طوفان،ہیٹ ویوز سمیت مختلف آفات شامل ہیں۔ان آفات سے بڑے پیمانے پر فوری اموات،پراپرٹی کی ٹوٹ پھوٹ،وبائی بیماریوں کے پھیلاؤ اور ماحول کے مزید بگاڑ سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ بنگلا دیش میں 2007ء کے سائیکلون سے لے کر جاپان میں 2011ء کے سونامی تک سب اسی رجحان کی کڑیاں ہیں، جو اپنی شدت اور وسعت کی وجہ سے معاشی بحران میں مبتلا دنیا کو مزید بربادی میں دھکیلتے ہوئے جدید دنیا اور بالخصوص پہلے سے معاشی طور پر آفت زدہ تیسری دنیا کے غریب ممالک میں مزید بڑے پیمانے پر بربادی کا باعث بن رہی ہیں۔ اقوام متحدہ سے لے کر تمام عالمی ماحولیاتی اداروں اور دانشوروں نے بھی ان آفات کو روکنے،حتیٰ کہ ان کی پیش بینی کرنے سے بھی معذرت ظاہر کر تے ہوئے انتباہ کر دیا ہے کہ اگر جلد از جلد ماحولیاتی بحران کا حل نہ نکالا گیا تو کچھ عرصہ میں ماحولیاتی بگاڑ ناقابل واپسی سطح پر پہنچ جائے گا جو سیارہ زمین پر نا صرف انسانیت بلکہ زندگی ہی کے مکمل خاتمے پر منتج ہو گا۔ اس ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے 2015ء میں پیرس معاہدہ کیا گیا، تاہم پیرس معاہدہ پر عملدرآمد کے لئے ضابطوں اور ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے مزید پیش رفت کے طور پر حالیہ دنوں سپین میں ہونے والی کانفرنس کی ناکامی کا اعلان بھی اقوام متحدہ کے چیف کی طرف سے فوراً ہی کر دیا گیا۔ کانفرنس کی ناکامی میں غریب ممالک کے اختلاف کو بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ غریب ممالک کے مطابق ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے سرمایہ اور وسائل کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

چلی کے میزبانی سے انکار کے بعد سپین کے شہر میڈرڈ میں ہونے والی کانفرنسCOP25 دو ہفتے جاری رہنے کے بعد ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لئے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے اور تمام ممالک کے درمیان مزید کسی معاہدہ پر پہنچنے میں ناکام رہی۔اس سے قبل اس سلسلہ میں 2015ء میں ہونے والے پیرس معاہدے کے تحت زمینی درجہ حرارت کو صنعتی پھیلاؤ سے پہلے کی سطح یعنی 2سیلسئس تک محدود کرنے اور مزید کوششوں سے اس صدی میں 1.5سیلسئس تک کم کرنے کے لئے کاربن کے اخراج کی روک تھام سمیت مختلف طرح کے خطرناک مواد کو کنٹرول کرنے،ماحول دوست ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور اس کے لئے وسائل مہیا کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم پیرس معاہدے کے بعد بھی مختلف سطح پر کوششیں جاری رہیں۔ ماحول کوزندگی کے لئے سازگار بنانے کے سلسلہ میں حالیہ دنوں دسمبر 2019ء میں ہونے والی کانفرنس دنیا کی امیدوں کا مرکز بنی رہی، جو غریب اور امیر ممالک میں اختلافات کی بنا پر اپنے مقررہ وقت پر ختم نا ہو سکی حالانکہ اس کے بعد بھی کانفرنس میں شامل دو سو ممالک کسی معاہدہ یا اتفاق پر نہیں پہنچ پائے۔ کانفرنس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے چیف انتونیو گٹرز نے بھی COP25(حالیہ کانفرنس) کوناکام اور مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری نے ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا ہے۔

گزشتہ دو سو سال میں جہاں پچھلے ہزاروں سالوں کی ترقی کی بنیاد پر تیز رفتار ترقی سے انسان فطرت پر تصرف حاصل کرنے اور فطرت ثانیہ تخلیق کرنے میں کامیاب ہوا، وہیں اس دو سو سالہ عرصہ میں ترقی کے اس عمل میں فطری ماحول میں گزشتہ لاکھوں سالوں سے زائد بگاڑ بھی پیدا ہوا ہے۔ صنعتی انقلاب سے لے کر اب تک پیداواری عمل کے دوران کاربن اور گرین ہاؤس گیسوں کے زائد اخراج سے زمینی درجہ حرارت پچھلے لاکھوں سالوں کی نسبت صرف دو صدیوں میں خطرناک حد تک بڑھ کر فطری ماحول میں انتہائی سطح کا بگاڑ پیدا کر چکا ہے۔اس خطرناک اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ عالمی صنعت ہے، اور اخراج میں شراکت داری کے حوالہ سے دنیا کی بڑی معیشتیں بالترتیب شمالی امریکہ،یورپ،روس اور چین سر فہرست ہیں۔ صنعتی انقلاب کے بعد سے کاربن کے اخراج میں شمالی امریکہ کا حصہ تقریباً 34فی صد، یورپ کا 26 فی صد، روس کا 14فی صد جبکہ چین کا 6فی صد کے قریب رہااور غریب ممالک کا حصہ نسبتاً نا ہونے کے برابر رہا جس کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے کی صنعت کاری کا فقدان تھا۔ گرین ہاؤس گیسوں کے زائد اخراج پر قابو پانے کے لئے صنعتی اجارہ داریوں اور بڑی معیشتوں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے جبکہ سرمایہ دارانہ سماج میں یہی طاقتیں عالمی معیشت اور سیاست پر بھی کنٹرول رکھے ہوئے شرح منافع کی ہوس میں اس قدر اندھی ہو چکی ہیں کہ سرمایہ اور منافع ان کے لئے خود زندگی ہی سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے میں موجودہ عالمی معاشی اور سیاسی ساخت ماحولیاتی بگاڑ جیسے اہم ترین مسئلہ کو حل کرنے میں خود سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

بیسویں صدی میں عالمی معاشی بحران نے جہاں جنگوں اور بربریت کو جنم دیا وہاں اکیسویں صدی کے ماحولیاتی بحران نے اس سیارہ پر زندگی ہی کی بقاء کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔اس خطرے کے رد عمل کے طور پر حالیہ ستمبر2019ء کے آخری عشرہ میں ماحولیاتی بحران کے حوالہ سے تاریخ کا سب سے بڑا تحرک بھی نظر آیا جس میں ایک اندازے کے مطابق 150 سے زائد ممالک میں کل 75لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔ کسی منظم انقلابی طاقت کی عدم موجودگی میں اس تحریک نے نظام کی بنیادی تبدیلی کی بجائے اصلاحات کی آس لئے ایک پاپولر مظہر کو جنم دیا لیکن دوسری طرف اس تحریک نے انسانی سماج پر گہرے اثرات بھی مرتب کئے جنہیں مستقبل میں کسی نئے اٹھنے والی تحریک میں واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔بیسویں صدی کے عالمی معاشی بحران پر انسانیت کے پاس جہاں سوشلزم اور بربریت کے دو راستے بچے تھے وہیں اکیسویں صدی کے ماحولیاتی بحران نے انسانیت کواس نہج پر لا کھڑا کر دیا ہے جہاں انسانیت کے پاس موت کے علاوہ اب محض سوشلزم ہی واحد ممکنہ راستہ ہے!!!

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: