غداری کیا ہے اور غدار کون ہے؟

عمر دراز ننگیانہ
بی بی سی اردو، لاہور

سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف فیصلے کی شکل میں پاکستان کی عدالتوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی فرد کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیا ہے۔

خصوصی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔

یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آئینِ پاکستان کی نظر میں غداری کیا ہے اور غدار کون ہوتا ہے، غداری کا تعین کرنے اور غدار کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا حق آئین کس کو دیتا ہے؟ پھر یہ کارروائی کیسے ہوتی ہے؟ پاکستان میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔

کون غدار ہے؟
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ’ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔‘

یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔

ماہرِ قانون ایس ایم ظفر کے مطابق ’غداری‘ کا لفظ پہلی مرتبہ سنہ 1973 کے آئین میں استعمال ہوا۔ تاہم اس وقت دیے جانے والے غداری کے تصور میں اٹھارویں ترمیم کے بعد تبدیلی آئی۔

جو اضافہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ ’آئین کو معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرنے والا شخص یا ایسے شخص کی امداد کرنے والا شخص غدار ہو گا۔‘

کیا غداری نہیں؟
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ ’ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والا شخص‘ آئین کے مطابق غداری کی تعریف کے اندر نہیں آتا۔ وہ ’قومی سلامتی‘ کے زمرے میں آتا ہے جس کی کئی ذیلی دفعات ہو سکتی ہیں۔

ان میں ’فوج میں بغاوت کی ترغیب دینا، امن و عامہ کی صورتحال پیدا کرنا اور دشمن ملک کے ساتھ مل کر سازش کرنا‘ شامل ہیں۔

’اس پر آئین کا آرٹیکل 6 نہیں لگ سکتا، جب تک کہ یہ تمام چیزیں اس مقام تک نہ پہنچ جائیں کہ آئین کو منسوح کر رہی ہوں۔‘

ماہرِ قانون بابر ستار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ بی بی سی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غداری کے آئینی تصور کا تعلق آئینی معطلی سے ہے۔

’یعنی اگر آئین کو معطل یا منسوخ کیا جائے۔ اس کی تاریخ بھی یہی ہے کہ اس سے قبل کیونکہ فوجی حکومتیں آتی رہی تھیں تو 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کیا گیا۔‘

اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کوئی عدالت غداری کے فعل کی تصدیق نہیں کرے گی۔

’غداری کا یہ آئینی تصور انتہائی احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے اس لیے ہمارا جو اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر کسی ادارے کے خلاف کوئی بات کر دیں تو وہ غداری کے زمرے میں آ جائے گا، میرا نہیں خیال کہ یہ بات درست ہے۔‘

غدار کون قرار دے گا؟
دونوں ماہرین کا کہنا تھا کہ غداری کا تعین کرنا اور اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنا صرف اور صرف وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ اس بات کی تحقیق کے بعد وفاقی حکومت شکایت کا آغاز کرتی ہے۔

اسکی وضاحت کرتے ہوئے ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ غداری کی کارروائی کا آغاز وزیرِ داخلہ کر سکتے ہیں تاہم اس کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم اور ان کی وفاقی کابینہ کرتی ہے۔

بابر ستار نے غداری کے مقدمے کی کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کرنے کے بعد ایک قانون بنایا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ وفاقی حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ کوئی غداری کا مرتکب ٹھہرا ہے یا نہیں۔

اس کے بعد ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جائے گی جو اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کا آغاز کرے گی۔

ان کے مطابق ’جیسا کہ ہم نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ میں دیکھا۔‘

غدار کیسے ثابت ہو گا؟
بابر ستار کہتے ہیں کہ یہ ایک فوجداری مقدمہ ہوتا ہے جس کی سزا موت یا عمر قید ہے تو اس میں اسی طرز کی شہادتیں اور گواہان درکار ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ’اسی طرح بارِ ثبوت بھی الزام لگانے والے پر یعنی حکومت پر ہو گا۔‘

ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ غداری کے آئینی تصور کی صورت میں ثبوت سامنے ہوتے ہیں۔

اگر آنے والی حکومت نے جانے والی حکومت کا تختہ آئینی طریقے سے نہ الٹایا، اس کا مطلب ہے کہ آئین تحلیل ہوا۔ دوسرا یہ ہے کہ جب وہ حکومت میں آئے اور کہے کہ ہم نے آئین تحلیل کر دیا تو یہ دوسری شہادت ہوتی ہے۔

’آئین تحلیل کرنے والے کے خلاف اس کے اعمال کی بنیاد پر بہت سی مثالیں موجود ہوتی ہیں جیسا کہ کبھی مارشل لا لگایا جاتا ہے تو کبھی ایمرجنسی لگائی جاتی ہے۔‘

( یہ مضمون مئی 2018 میں بی بی سی اردو پر شائع ہوا تھا اور اسے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے)

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: