لبریشن فرنٹ کی اے پی سی: کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے عالمی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنیکا مطالبہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اقوام متحدہ سے کشمیر میں تحقیقات کے لئے عالمی تحقیقات کمیشن قائم کرنے، حکومت پاکستان سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کرنے، یاسین ملک سمیت دیگر قیدیوں کی رہائی سمیت دیگرمطالبات پر مبنی مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ کانفرنس جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک گروپ کی جانب سے منعقد کی گئی تھی، کانفرنس میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، لبریشن فرنٹ کے قائمقام چیئرمین عبدالحمید بٹ، ترجمان رفیق ڈار، جسٹس (ر) عبدالمجید ملک، تحریک انصاف کے ترجمان ارشاد محمود، جے کے پی پی کے صدر حسن ابراہیم،پی این اے کے چیئرمین راجہ ذوالفقار احمد سمیت درجنوں سیاسی، مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، سینئر کشمیری صحافیوں اور سول سوسائٹی نمائندگان نے شرکت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر متفقہ نکات پر مبنی اعلامیہ جاری کیا گیا جو درج ذیل ہے:

شرکاء کانفرنس نے مطالبہ کیاکہ چوٹی کے حریت پسند قائدین محمد یاسین ملک، سید شبیر احمد شاہ اور سیدہ آسیہ اندرابی سمیت تمام اسیران بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ انتہاء پسند بھارتی حکومت کی جانب سے پانچ اگست کی جارحیت کے بعد جموں کشمیر کے علاوہ بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں قید ہزاروں گرفتار حریت پسند کشمیریوں کوفوری اور غیر مشروط رہا کیا جائے، شرکاء کانفرنس نے گرفتار رہنماؤں کی ناگفتہ بہ حالت زارپر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

کشمیری قیادت کا یہ اجتماع غیر قانونی و غیر جمہوری طور پر گرفتار اور حکومت ہند کی ایماء پر بدنام زمانہ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، بھارتی تہاڑ جیل میں کئی مہینوں کی مسلسل قید تنہائی، عدم طبی سہولیاتاور نامناسب و ناموافق خوراک کی فراہمی کے سبب موجودہ تحریک آزادی کے عظیم مزاحمتی رہنما و چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک کی تشویشناک حد تک بگڑتی صحت، ان کے خلاف نت نئے فرضی مقدمات دائر کرنے اور منصوبہ بند طریقے سے میڈیا ٹرائل کے ساتھ تیس سالہ پرانے جھوٹے مقدمات انتقاماً از سر نو شروع کرنے پر ان بھارتی اقدامات، جن سے یاسین ملک کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

شرکائے کانفرنس عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ سنگین اور فوری نوعیت کے مسئلہ کے پیش نظر وہ بھارتی ہندو انتہاء پسند حکومت پر دباؤ ڈال کر بھارتی تہاڑ جیل میں قید منقسم ریاست جموں کشمیر کے دونوں اطراف سے کشمیری عوام کے ہر دلعزیز لیڈر محمد یاسین ملک کی جان بچانے میں اپنا قلیدی کردار ادا کریں، جس کے خلاف بھارتی عزائم روزبروز عیاں ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ اجلاس نریندر مودی کی قیادت میں ہندو انتہاء پسند بھارتی حکومت کی طرف سے فوجی طاقت کے بلبوتے پر پانچ اگست کی ننگی جارحیت کے نتیجے میں بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کو دو لخت کر کے اسے بھارت میں ضم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتا ہے اور اس دوران چار ماہ سے زائد عرصہ سے جاری لاک ڈاؤن، قدغنوں، پابندیوں، مواصلاتی نظام سمیت پرنٹ اور سوشل میڈیا پر عائد بندشوں، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، شہادتوں، پر امن مظاہرین پر طاقت کے بے دریغ استعمال اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

یہ اجلاس بھارت و پاکستان سمیت دنیا بھر کے ان باضمیر انسانی حقوق کے علمبرداروں، صحافیوں، کالم نگاروں، ٹی وی اینکروں اور سول سوسائٹی سے وابستہ اشخاص کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے جو پانچ اگست سے مقبوضہ کشمیر میں تسلسل کے ساتھ جاری اس مواصلاتی لاک ڈاؤن کے دوران کشمیریوں کی آواز بنے اور اپنی صحیح رپورٹنگ کے ذریعے کشمیر کی اصل صورتحال سے دنیا کو آگاہ کرتے رہے۔

شرکائے کانفرنس اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ 84471مربع میل پر پھیلی ریاست جموں کشمیر جو وادی کشمیر، جموں، لداخ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان پر مشتمل ہے، ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے اور اس کی وحدت کی بحالی اور آزادی کیلئے ریاست سے بیک وقت فوجی انخلاء اور غیر محدود حق خودارادیت کے اصولی مطالبے کے حصول تک عوامی جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔

یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا اعلان کریں اور کشمیریوں کی بے مثال قربانیوں بھری تحریک آزادی بچانے، نیز بیس کیمپ کی بحالی کیلئے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر مبنی ایک قومی انقلابی حکومت کی تشکیل ممکن بنائیں تاکہ آئین ساز اسمبلی اور بااختیار حکومت کے قیام کے ساتھ ہی وہ عالمی تائید و حمایت حاصل کرنے کی غرض سے ریاستی عوام کے مسلمہ بیانئے کو اجاگر کر سکیں۔

یہ اجتماع بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ سیز فائر لائن پر آمنے سامنے موجود دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان آئے روز گولیوں اور ہیوی آرٹلری کا تبادلہ فوری طور پر بند کردیا جائے تاکہ سیز فائر لائن کے دونوں اطراف رہائش پذیر لاکھوں کشمیری ممکنہ جانی نقصان اور املاک کی تباہی سے بچ سکیں۔

کشمیری قیادت کا یہ اجتماع سمندر پار کشمیری ڈائسپورہ کی منظم و متفقہ سفارتی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور مزید توقع رکھتا ہے کہ وہ تمام متعلقہ عالمی فورمز پر اپنی سفارتی جہد مسلسل، قومی تحریک آزادی کے تقاضوں کے عین مطابق نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر وہ زیادہ فعال اور نئی منصوبہ بندی کے ساتھ متحرک کردار ادا کریں گے۔

کشمیری قیادت کا یہ اجتماع اقوام عالم بالخصوص اقوام متحدہ سے پر زور اپیل کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے ہیومن رائٹس کمیشن کے دفتر سے کشمیر سے متعلق انسانی حقوق کی پامالیوں پر مبنی 14جون 2018ء اور آٹھ جولائی 2019کو شائع ہونے والی مفصل رپورٹس اور اس میں درج سفارشات، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کئی سالوں پر مبنی کشمیر سے متعلق رپورٹس، ایشیاء واچ اور جموں کشمیر کوئلیشن آف سول سوسائٹی کے سالانہ رپورٹس کے علاوہ بھارت کی کئی این جی اوز، حالیہ عرصہ میں جموں کشمیر کا دورہ کرنے والی بھارت کی خواتین تنظیموں کے نمائندوں و صحافی گروہوں اور نامور اشخاص پر مبنی سول سوسائٹی کی جانب سے منظر عام پر آنے والی رپورٹس اور سب سے بڑھ کر جموں کشمیر کی موجودہ ناقابل برداشت اور ناقابل بیان صورتحال کے پیش نظر ایک عالمی تحقیقاتی کمیشن برائے انسانی حقوق تشکیل دیا جائے تاکہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر ریاست کا دورہ کرکے انسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لے کر دنیاکو اصل حقائق سے آگاہ کر سکیں۔