برطانیہ: 15 سالہ ’ریاضی دان‘ سب سے کم عمر پی ایچ ڈی سکالر بننے کی راہ پر گامزن

ساؤتھ کوئینز فیری سے تعلق رکھنے والے ایک 15 سالہ لڑکے کو برطانیہ کی سب سے معروف یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی تعلیم حاصل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق وانگ پوک لو، جنھیں پوک کے نام سے جانا جاتا ہے، فی الحال ایک مقامی سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

مگر سکول کی تعلیم کے دوران ہی انھوں نے فارغ اوقات میں سٹیٹسٹکس (اعدادوشمار) میں ماسٹرز کر لیا ہے۔

آئندہ برس وہ برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہوں گے اور برطانیہ کے سب سے کم عمر پی ایچ ڈی سکالر بننے کی راہ پر گامزن بھی ہوں گے۔

فی الوقت سب سے کم عمر میں پی ایچ ڈی کرنے کا ریکارڈ 17 سالہ رتھ لارنس کے پاس ہے جنھوں نے سنہ 1989 میں اکسفورڈ یونیورسٹی سے یہ ڈگری حاصل کی تھی۔

پوک کے ہائی سکول کی ہیڈ ٹیچر کا کہنا ہے کہ ان کا پورا سکول پوک کو حاصل ہونے والی کامیابیوں پر نازاں ہے۔

پوک نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کنٹونیز کی شاعری 11 ماہ کی عمر سے ہی پڑھنی شروع کر دی تھی۔

’یقین مانیے مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کر رہا تھا۔‘

تاہم جلد ہی انھوں نے ریاضی کی بنیادی باتوں کو سمجھا، ضرب اور تقسیم کرنا سیکھا حالانکہ وہ تب چھوٹے سے بچے تھے۔

سنہ 2006 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہانگ گانگ سے سکاٹ لینڈ منتقل ہو گئے اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی مگر ان کی والدین نے گھر پر ہمیشہ انھیں ریاضی میں دلچسپی لینے کی حوصلہ افزائی کی۔

نو سال کی عمر میں پوک نے ریاضی میں سٹینڈرڈ گریڈ پاس کر لیا اور 10 سال کی عمر میں ہائیر سٹینڈرڈ۔ 13 سال کی عمر میں انھوں نے اوپن یونیورسٹی سے ریاضی میں اونرز کی ڈگری حاصل کر لی تھی۔

گذشتہ ماہ شیفیلڈ یونیورسٹی سے سٹیٹسٹکس میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد اب انھیں ایڈن برگ یونیورسٹی میں عوامی صحت میں ریسرچ کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی آفر کی گئی ہے۔

’میں اب بھی یقین نہیں کرسکتا کہ مجھے اس پروگرام میں قبول کر لیا گیا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ دوسرے امیدوار زیادہ قابل ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں یونیورسٹی میں کُل وقتی طالبعلم کی حیثیت سے جانے کے لیے بےقرار ہوں۔‘

’یہ شاید تھوڑا عجیب ہو سکتا ہے لیکن میں اپنی عمر سے بڑے لوگوں میں رہا ہوں۔ جُز وقتی کورسسز کرنے کے دوران ڈسکشن فورمز پر میرا سامنا بڑی عمر کے لوگوں سے ہوتا اور جب میں امتحان دینے جاتا تو میں ان سے بات چیت کرتا لہذا یہ میرا معمول بننا شروع ہو گیا ہے۔‘

پوک، جو طب کی تعلیم حاصل کرنے اور کارڈیالوجی یا نیورولوجی میں ماہر ڈاکٹر بننے کے لیے بھی پرامید ہیں، کا کہنا ہے کہ تعلیمی سلسلے میں وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے اب کافی ’پرسکون‘ ہیں۔

’میرا نہیں خیال کہ فی الوقت مجھے کسی بھی چیز کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔‘

’آہستہ آہستہ مگر ثابت قدمی سے‘
سکول میں ان کے دوستوں نے بھی ان کی کامیابیوں کو سمجھنا شروع کر دیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے تو بہت حیران ہوتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب وہ اس پر بات بھی نہیں کرتے۔ اب یہ ایک عام سی بات ہے۔‘

’تعلیمی سلسلے کے علاوہ باقی چیزوں میں ان سے زیادہ مختلف نہیں ہوں۔‘

ویک اینڈز پر وہ ریاضی پانچ سے چھ گھنٹے پڑھتے ہیں مگر اگر کسی کام کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن جلد ہو تو وہ پورا دن بھی ریاضی ہی پڑھتے رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ فارغ وقت میں وہ دوستوں کے ساتھ باہر جاتے ہیں، گیمز کھیلتے ہیں، موسیقی سنتے ہیں، شطرنج کھیلتے ہیں اور اس کرسمس پر گٹار خریدنے کے خواہش مند ہیں۔

’ہر کسی کی اپنی کامیابیاں ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں انھیں اپنی کامیابیوں پر خوش ہونا چاہیے اور اپنی صلاحیتوں کو مزید ترقی دینے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔‘

پوک کا کہنا ہے کہ وہ اسی اصول پر آہستہ آہستہ مگر ثابت قدمی سے کاربند ہیں۔

’سکول میں عام تجربہ‘
پوک کے سکول کے ہیڈ ٹیچر جان ووڈ کہتے ہیں کہ پوک کا تعلیمی سفر ’قابل ذکر‘ ہے۔ جب انھوں نے سکول میں پہلے سال میں داخلہ لیا تو اس وقت بھی ان کے پاس ریاضی کا وسیع تجربہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’کافی حوالوں سے پوک ویسا ہی ہے جیسا ایک 15 سال کا لڑکا ہوتا ہے جو سکول آتا ہے اور اپنے مضامین میں دوسرے طلبا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا لطف اٹھاتا ہے۔ پورا سکول ان کی کامیابیوں پر نازاں ہے۔‘

’پوک ایسا نہیں سوچتا کہ وہ دوسروں سے زیادہ آگے ہے۔ میں اسے ایک کامیابی کے بعد دوسری کامیابی سمیٹتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ درحقیقت میں مستقبل میں ان سے بڑی کامیابیوں کی توقع کرتا ہوں۔‘

بشکریہ: بی بی سی اردو سروس

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: