بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر: چھینی گئی ڈومیسائل کی سہولت واپس ملنے کا امکان

دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کے بعد، جموں و کشمیر کے عوام کو روزگار اور زمین کے تحفظ کے لیے خصوصی طور پر ڈومیسائل جاری کرنے کے امکانات ہیں۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں میں پائی جانے والی بے روزگاری کے خوف کے مدنظر جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے ممکنہ طور پر وہاں کے مستقل باشندوں کو ڈومیسائل جاری کیا جائے گا، تاکہ صرف جموں و کشمیر کے باشندے ہی سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دے سکیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ان اقدامات کے خلاف عوامی سطح پر کافی ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔

ڈومیسائل کے اجرا کرنے سے جموں و کشمیر کے باشندوں کو سرکاری ملازمت اور غیر منقولہ جائیداد کو تحفظ حاصل ہوگا۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ایک افسر نے ساؤتھ ایشین وائر کوبتایا کہ ان مراعات کا جلد اعلان ہونے کا امکان ہے کیونکہ جموں و کشمیر کے باشندوں کے ڈومیسائل حقوق کے بارے میں نئے قواعد وضع کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

جموں وکشمیر کے باشندوں کو 5 اگست سے قبل جو خصوصی اختیارات حاصل تھے، ان میں غیر منقولہ جائیداد خاص طور پر اراضی کی خرید و فروخت پر صرف ریاست کے پشتنی باشندوں کو حق حاصل تھا اور کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ ریاست میں ایسی جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا تھا۔دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سرکاری محکموں میں مقامی باشندوں کی تقرری کے بارے میں تخصیص بھی ختم کی گئی ہے۔

ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں و کشمیر میں معاشی پسماندگی اور بھاری بے روزگاری کے پیش نظر خطہ جموں اور وادی کشمیر میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہاں کے پشتینی باشندوں کے ڈومیسائل حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔