طلبہ یکجہتی مارچ اور حکمران طبقے کا خوف

التمش تصدق (ایڈیٹر عزم این ایس ایف)

بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے اتحاد” طلباء ایکشن کمیٹی” کے زیر اہتمام 29 نومبر کو ملک گیر طلبہ “یکجہتی مارچ” کا انعقاد کیا گیا ہے. یہ احتجاجی مارچ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے پچاس شہروں میں نکالا جائے گا. دہائیوں کی خاموشی اور سیاست سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بعد طلبہ و طالبات کی اس مارچ کی تیاریوں میں سرگرم شرکتِ نے حکمران طبقے کو اس احتجاجی مارچ سے قبل ہی خوف زدہ کر دیا ہے. جس کا اظہار ہمیں طلبہ کو سیاسی سرگرمیوں میں شرکت سے روکنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعے دباؤ ڈالنے، ریاستی اداروں کی اس پروگرام کی تیاریوں میں شریک طالب علموں اور سیاسی کارکنوں کو دھمکیوں سے ہو رہا ہے.حکمران طبقے کی یہ بوکھلاہٹ زیادہ غلط بھی نہیں کیونکہ وہ طلباء کی طاقت اور جرت سے بخوبی آگاہ ہیں.

آج سے اکیاون سال قبل 29 نومبر کو ہی پاکستان کی سب سے بڑی طلبہ تحریک کا آغاز ہوا تھا جس نے نہ صرف سفاک ایوب آمریت کا خاتمہ کیا تھا بلکہ وہ تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے جبر و استحصال کے خلاف محنت کشوں کے انقلاب میں بدل گئی تھی.اگرچہ وہ انقلاب انقلابی پارٹی کی عدم موجودگی کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکا لیکن اس تحریک کا خوف پاکستانی حکمران طبقے اور اس کے آقاؤں کو آج تک لاحق ہے.طلبہ کی اجتماعی طاقت سے خوفزدہ ہو کر ہی ضیاء الحق نے طلبہ یونین پر پابندی عائد کردی تھی.

طلباء کی یکجہتی کو ختم کرنے کے لیے مذہبی اور لسانی فرقہ وارانہ فاشسٹ طلبہ تنظیموں کو ریاستی آشیرباد سے تعلیمی اداروں میں داخل کیا اور بندوق کی نوک پر طالب علموں کو یرغمال بنایا گیا جو تاحال زیادہ تر تعلیمی اداروں میں طالب علم جمعیت کے غنڈوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں.حکمران طبقہ جبر اور خوف کے ذریعے خاص حد تک تو چیزوں کو کنٹرول کر سکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لیے مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکتا.روزمرہ زندگی کے تلخ تجربات اور حالات انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں جن سے انسان نئے نتائج اخذ کرتا ہے. ایک وقت میں محنت کش طبقہ اور نوجوان حکمرانوں کے پھیلائے ہوئے مذہبی، قومی، لسانی اور صنفی تعصبات اور نفرتوں مسترد کرتے ہوئے اپنے حقوق کی جدوجہد کے لیے یکجا ہوتے ہیں.طلبہ سیاست میں خود ریاستی اداروں کی حمایت کے ذریعے غنڈہ گرد عناصر کو داخل کر کے طلباء سیاست کو بدنام کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ طلبہ سیاست سے طالب علموں کی پڑھائی ضائع ہوتی ہے.

گزشتہ چار دہائیوں سے طلباء کو سیاست سے دور رہنے کی مسلسل تلقین کی جاتی ہے.ایسا ایس لیے کیا گیا تاکہ معاشی حاکمیت کے ساتھ ساتھ سیاست پر بھی حکمرانوں اور انکی اولادوں کی اجارہ داری قائم رہے اور نسل در نسل انکی غلامی کو ننانوے فیصد عوام یوں ہی قبول کر لیں. پاکستان کی حکمران اشرفیہ کی اپنی اولادیں بیرون ملک جا کر تعلیم حاصل کرتی ہے اور وہیں انہیں سیاسی تربیت دی جاتی ہے، دوسری طرف محنت کشوں اور ان کی اولادوں کے لیے سیاست کو گالی بنا دیا . ترقی پسند انسان دوست نظریات کو کفر قرار دیا گیا.

ان سب اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال بھی طلبہ اور مزدوروں کو سیاست سے ہمیشہ کے لیے دور رکھنے میں ناکام رہا ہے.طالب علموں کے بڑھتے ہوئے مسائل ان کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ ان کے حل کے لیے اجتماعی کوشش کریں کیونکہ انکا حل انفرادی کاوشوں سے ممکن نہیں ہے. جس تیزی سے فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے تعلیم محنت کشوں کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب نچلے درمیانی طبقے کے نوجوانوں کے لیے بھی خریدنا ناممکن ہو گیا ہے.

تعلیم اب محض نجی شعبے میں ہی کاروبار نہیں ہے بلکہ حکومتی تعلیمی ادارے بھی تعلیم فروخت کرنے والی دکانوں میں بدل گئے ہیں جن میں مہنگے داموں تعلیم فروخت کی جا رہی ہے.ہزاروں،لاکھوں روپے فیس فصول کرنے کے باوجود طلبہ ہاسٹل، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں. ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے.منشیات اور اسلحہ کلچر کو فروغ دینے میں ریاستی سرپرستی شامل ہے، دقیانوسی نصاب ہے جو اطلاعات گزار غلام پیدا کرتا ہے.طالبات کو بڑے پیمانے پر جنسی استحصال اور صنفی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں برائے راست تعلیمی اداروں کی انتظامیہ ملوث ہے.

طلبہ یکجہتی مارچ ان طلبہ سے یکجہتی کے لیے ہے جو طبقاتی نظام تعلیم اور طبقاتی سماج کی درندگی کا ہر روز نشانہ بنتے ہیں.یہ ان طلبہ سے یکجہتی کا اظہار ہے جنہوں نے طلباء حقوق کی بحالی کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے. یہ مشال خان اور نمرتا کماری سے اظہار یکجہتی کیلئے ہے.

یہ68،69 کی طلبہ تحریک سے یکجہتی کے لیے ہے. یہ ان نوجوانوں سے یکجہتی کے لیے ہے جو تعلیم خریدنے کی قابلیت نہ رکھنے کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں. یہ مارچ ان اساتذہ سے یکجہتی کے لیے ہے جن کو تعلیمی اداروں کی نجکاری کے ذریعے بے روزگار کیا جا رہا ہے.

طلبہ یکجہتی مارچ طلبہ کو اپنے غصب شدہ جمہوری حقوق کی بحالی کیلئے ہے. مفت تعلیم کے لیے ہے.طلبہ یکجہتی مارچ کے ذریعے نئی نسل یہ پیغام دے رہی ہے ہر مظلوم اور مجبور کو سوشلزم کو پڑھو اپنے حق کے لیے لڑو مستقبل تمارا ہے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: