بھارتی حکومت نے کشمیر میں‌انٹرنیٹ فراہمی سوشل میڈیا استعمال نہ کئے جانے سے مشروط کردی

بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌انٹرنیٹ فراہم کرنیوالی براڈ بینڈ و سیلولر کمپنیوں‌کو چھ نکاتی حلف نامہ بھارتی حکومت کو دینا ہوگا جس کے بعد وہ انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے کی اہل ہونگی اور کسی بھی خلاف ورزی پر نتائج کی ذمہ داری کمپنیوں‌پر عائد کی جائے گی.

بانڈ(حلف نامہ) چھ نکات پر مبنی ہے، میں‌کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کا مکمل طور پر کاروباری استعمال کیا جائے گا اور انٹرنیٹ فراہم کرنیوالی کمپنیاں چھ نکات میں‌عائد کردہ شرائط پر پورا اترنے کی پابند ہونگی.

اجازت دی گئی آئی پی سے کوئی بھی سوشل نیٹ ورکنگ، پراکیسز، وی پی این اور وائی فائی کا استعمال نہیں‌کیا جائیگا.

دوسرے نکات کے مطابق، ویڈیو، تصاویر پر مشتمل کوئی بھی انکریپٹڈ فائل اپلوڈ نہیں‌کی جائیگی.

تیسرے نکات کے مطابق، کمپنیوں‌کو یہ یقین دہانی کروانی ہوگی کہ انکے پاس فراہم کردہ انٹرنیٹ سروس کو سنگل کمپیوٹر تک محدود کرنے کےلئے ایم اے سی بائنڈنگ کی سہولت موجود ہے.

تمام یو ایس بی پورٹس نیٹ ورک پر غیر فعال ہو جائیں گی.

انٹرنیٹ کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی اور غلط استعمال کےلئے کمپنی ذمہ دار ہو گی.

کمپنی تمام انفراسٹرکچر اورمواد تک جب بھی سکیورٹی ایجنسیز کو ضرورت ہو، رسائی دینی کی پابند ہو گی

رواں‌سال 5 اگست کو بھارتی حکومت نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے اور ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے سے محض چند گھنٹے قبل امن و امان کی کسی بھی صورتحال کو روکنے کےلئے وادی میں تمام مواصلاتی لائنوں کو معطل کردیا تھا۔