29نومبر کو ملک گیر طلبہ یکجہتی مارچ: ”ایوانوں میں شور اٹھا ہے طلبہ کے نعروں سے“

پاکستان میں طلبہ یونین پرعائد طویل ترین پابندیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں تیزی آتی جا رہی ہے، طلبہ یونین پرپابندی عائد ہوئے پینتیس سال گزر چکے ہیں،اس دوران تعلیم کے کاروبار نے بھی اس قدر وسعت اختیار کی کہ معاشرے کی اکثریت تعلیم جیسے بنیادی حق سے بھی محروم ہو چکی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کی طرف سے طلبہ یونین کی بحالی سمیت طلبہ مسائل کے حل کیلئے اٹھنے والی معمولی آوازیں رواں سال اس وقت ایک توانا آواز کی صورت میں ملک کے طول و عرض میں پھیلنا شروع ہوئیں جب دو نومبر کو پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں پاکستان کے تمام صوبوں اور اسکے زیر انتظام جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں سرگرم بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے دو روزہ اجلاس کا انعقاد کرتے ہوئے ”سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی“ کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور 29نومبر کو تمام بڑے شہروں میں طلبہ یکجہتی مارچ کا اعلان کیا۔لیکن ان آوازوں کو توانائی اس وقت ملی جب انقلابی شاعر و رہنما فیض احمد فیض کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے لاہور میں دو روزہ عالمی فیض میلے کے موقع پر سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی میں شامل بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے ایک مشترکہ گروپ کے پرجوش نعروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔

ان نعروں میں جہاں بائیں بازو کے نظریات کا پرچار کھل کر کیا جا رہا تھا وہاں طلبہ تحریک کو منظم کرنے میں گزشتہ چند سالوں سے سرگرم خاتون رہنما عروج اورنگزیب نے برصغیر کی آزادی کی تحریک کے ہیروز کی جانب سے نعروں میں استعمال کی جانیوالی انقلابی نظم ”سرفروشی کی تمنااب ہمارے دل میں ہے“ کے اشعار پر مبنی نعرے بازی اس قدر پرجوش انداز میں کی کہ اس نے نہ صرف پوری دنیا کے میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بلکہ پاکستانی معاشرے میں نئے سرے سے طلبہ کی سیاست میں سرگرمی سے متعلق بحث کا آغاز کر دیا۔ابھی تک پاکستان سمیت کشمیر اور گلگت بلتستان کے پچاس کے قریب شہروں میں طلبہ یکجہتی مارچ کا اعلان کیا جا چکا ہے جبکہ مزید شہروں میں مارچ کے انعقاد کا چند دن میں اعلان متوقع ہے۔

طلبہ یکجہتی مارچ کی حمایت ٹریڈ یونینز، محنت کش طبقہ کی دیگر تنظیموں سمیت ترقی پسند سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی کی جا رہی ہے، لیکن اسی دوران دائیں بازو کی مذہبی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سمیت دائیں بازوسے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اور بائیں بازو کے کچھ گروپس بھی اس مارچ کی مخالفت میں سرگرم نظر آئے ہیں۔

اس سلسلہ میں طلبہ یکجہتی مارچ کے مطالبات کے حوالے سے لاہور میں سرگرم آر ایس ایف کے مرکزی آرگنائزر اویس قرنی کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کی فی الفور بحالی اور الیکشن شیڈول کا اعلان، تعلیمی اداروں میں سیاست نہ کرنے کا حلف نامہ لینے کا سلسلہ ترک کرنے، مہنگی فیسوں کا خاتمہ، ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں کٹوتی کا خاتمہ، تعلیمی اداروں کی نجکاری کا خاتمہ، تعلیم کی ہر سطح پر مفت فراہمی، ہاسٹل، ٹرانسپورٹ کی مفت فراہمی، تعلیم مکمل کرنے پر روزگار کی یقینی فراہمی، بصورت دیگر بیروزگاری الاؤنس کی فراہمی اور انتہاء پسند اور غنڈہ گرد تنظیموں کی تعلیمی اداروں میں سرکاری پشت پناہی ختم کرنے جیسے مطالبات طلبہ یکجہتی مارچ کے کلیدی مطالبات ہیں، اور یہ اس وقت پورے پاکستان کے تمام طالبعلموں کے مطالبات ہیں۔ حکمران طبقات نے تعلیمی اداروں کو جیل خانوں میں تبدیل کر رکھا ہے۔ سیاست کو طالبعلموں کیلئے گالی بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں طلبہ کے پاس اس نظام کے خلاف لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

طلبہ یونین کی موجودگی میں طلبہ کے لڑائی جھگڑوں اور تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل آنے جیسے تحفظات پر مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق صدر راشد شیخ کہتے ہیں کہ لڑائی طلبہ یونین کی عدم موجودگی میں نظام تعلیم زوال پذیری کا شکار ہے، تعلیمی جیسے بنیادی حق سے غریب طلبہ کو محروم کیاجا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طلبہ یونین کی موجودگی میں طلبہ کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں گے، انکی تعلیم میں حرج ہونے کی بجائے وہ اپنے بارے میں ہونے والے فیصلوں میں خود شراکت دار بنیں گے، جہاں تک سوال ہے لڑائی جھگڑوں کا تو طلبہ یونین کی عدم موجودگی میں حکمرانوں کی پروردہ غنڈہ گرد تنظیمیں اور مسلح گروہ تعلیمی اداروں پر مسلط ہیں جن کے ذریعے سے طلبہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور طلبہ کو آزادانہ طور پر سوچنے، بولنے اور اپنی رائے رکھنے کی آزادی سے محروم رکھا جا رہا ہے، طلبہ یونین کی موجودگی میں ایسے عناصر کو پالنے میں حکمرانوں کو دشواری ہوگی اس لئے یہ بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ طلبہ کو سیاست سے دور رکھنے کیلئے حکمران طبقات اور انکے حاشیہ بردار اس طرح کا پروپیگنڈہ صرف اسلئے کرتے ہیں کہ سیاست پر حکمران طبقات اور چند گھرانوں کی اجارہ داری برقرار رہے اور ریاست اپنی مرضی کے افراد کو معاشرے پر سیاسی رہنماؤں کے طورپر مسلط کرتے ہوئے استحصالی نظام کی حکمرانی کو جاری رکھتے ہوئے اس خطے کے لوگوں سے ہر طرح کی آزادیاں چھیننے میں کامیاب رہے۔

طلبہ یونین کی موجودگی سے طلبہ نے کون سی حاصلات لیں جو اب چھن چکی ہیں، اس سوال کے جواب میں راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے این ایس ایف کے سابق صدر بشارت علی خان کا کہنا تھا کہ طلبہ نے اپنی جدوجہد کے ذریعے سے پاکستان میں ہی یونیورسٹی سطح تک مفت تعلیم، ٹرانسپورٹ اورہاسٹلز کی سہولیات کے ساتھ ساتھ نظام تعلیم میں بھی اہم تبدیلیاں حاصل کی تھیں جو بتدریج چھین لی گئی ہیں۔ طلبہ یونین کی موجودگی میں تعلیمی اداروں سے قومی سطح کے سیاسی رہنماؤں کے علاوہ شعراء، ادیب اور زندگی کے دیگر شعبوں میں کام کرنے والے ایسے نام پیدا ہوئے جنہوں نے دنیابھر میں اپنا لوہا منوایا۔ لیکن طلبہ یونین پر پابندی عائد کئے جانے اور فاشسٹ تنظیموں کے حکومتی سرپرستی میں تعلیمی ادارو ں پر قبضے کے بعد نہ صرف ترقی پسند ادب کا سلسلہ ختم ہوا بلکہ پورے معاشرے کو ماضی میں دھکیلنے، بنیاد پرستی، منشیات اور گن کلچر کو معاشرے پر مسلط کرنے جیسے اقدامات کو فروغ ملا۔

انکا کہنا تھا کہ طلبہ نے دو سالہ ڈگری کا حق لڑ کر حاصل کیا تھا جسے پھر تبدیل کر کے چار سالہ ڈگری سے تبدیل کر دیا گیا ہے، یونیورسٹی سینڈیکیٹ میں طلبہ کا منتخب نمائندہ ویٹو پاور کے ساتھ بیٹھتا تھا جو نصاب سازی سے لیکر دیگر ہم نصابی سرگرمیوں اور طلبہ کے حوالے سے ہونے والے ہر طرح کے فیصلوں میں اپنی فیصلہ کن رائے رکھتا تھا۔ لیکن طلبہ سے وہ حق چھینے جانے کے بعد اب نظام تعلیم کو اس سطح پر لاکر چھوڑ دیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں سے ڈگری لیکر فارغ ہونے والے طلبہ کو اپنے متعلقہ شعبہ کی تربیت حاصل کرنے کیلئے مزید دو سے تین سال محنت درکار ہوتی ہے۔ سمسٹر سسٹم کو نافذ کرتے ہوئے جہاں تعلیم کو انتہائی مہنگا کر دیا گیا ہے وہیں طلبہ کی قسمت کا فیصلہ انکے متعلقہ اساتذہ کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے، جو نہ صرف سوال کرنے، اختلاف کرنے والے طلبہ کو انتقام کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر اپنے پاس ہونے والے نمبرات کے اختیارات کو استعمال کرتے ہیں، اسی طرح یہ بیش بہا اختیارات (جو کو امتحانی سیکریسی کی سنگین خلاف ورزی بھی ہیں) طلبہ کے جنسی استحصال، صنفی امتیاز، معاشی استحصال سمیت دیگر جرائم کا موجب بھی بنتے ہیں۔

لیکن یہ تمام تر اختیارات طلبہ کو مقید رکھنے، انہیں سیاست سے دور رکھنے اورانکی قسمت کے بارے میں ہونے والے فیصلوں پرانہیں اعتراض سے روکنے سمیت حکمران طبقات کے ہر طرح کے حملوں کے خلاف کسی بھی طرح کے احتجاج سے روکنے میں انتہائی کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔

#JKNSF کے زیر اہتمام جامعہ کشمیر مظفرآباد میں #طلبہ_یکجہتی_مارچ کے حوالے سے میٹنگ کا انعقاد ۔جامعہ کے طلبہ نے 29 نومبر…

Posted by JKNSF on Monday, November 25, 2019

دائیں بازو کی طلبہ تنظیموں سمیت بائیں بازو کے کچھ گروپس کی جانب سے طلبہ یکجہتی مارچ کے خلاف مہم چلائے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں پی ایس ایف کے سیکرٹری جنرل ریحان سلیم کاکہنا تھا کہ طلبہ یکجہتی مارچ ملک بھر میں سرگرم بائیں بازو کی تنظیموں کے زیر اہتمام ہو رہا ہے، جس کے مطالبات براہ راست دائیں بازو کی فاشسٹ تنظیموں کیلئے خطرے کے باعث اس لئے ہیں کہ وہ ریاستی آشیرباد میں تعلیمی اداروں میں بے تاج بادشاہ کے طورپر حکمرانی کر رہے ہیں، منشیات کے کاروبار سمیت اسلحہ اور گن کلچر کے کاروبار میں ملوث ہیں، اس لئے وہ حکمران طبقات ہی کی آشیرباد میں نہ صرف طلبہ یکجہتی مارچ کے خلاف مہم چلا رہے ہیں بلکہ مارچ کیلئے مہم چلانے والے طلباء و طالبات پر فحاشی، عریانی، غداری اور اس طرح الزامات عائد کرنے میں مصروف ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بائیں بازو کی کوئی تنظیم یا گروپ طلبہ یکجہتی مارچ کے خلاف مہم نہیں چلا رہا ہے، لبرل فاشسٹ گروہ جو دوسرے لفظوں میں حکمران طبقات ہی کے دم چھلا ہوتے ہیں وہ مہم چلا رہے ہیں جن کی قیادت حکومتی وزیر فواد چوہدری جیسے افراد کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ طلبہ حقوق کی بازیابی اور طلبہ یونین کی بحالی پر یقین رکھنے والا کوئی بھی باشعور انسان اس مارچ کی مخالفت نہیں کر رہا بلکہ عملی طورپر شرکت کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتیس نومبر کو جس دن مارچ ہو رہا ہے وہ اس حوالے سے بھی تاریخی دن ہے کہ انتیس نومبر کو ہی آج سے اکیاون سال قبل طلبہ کے احتجاجی مارچ سے پاکستان میں ایک انقلابی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ اس لئے یہ انتیس نومبر بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

#HAJIRA!#JKNSF and #JKSLF Meeting regarding 29 November #Student_Solidarity_March at degree college Hajira. Join us 29…

Posted by JKNSF on Sunday, November 24, 2019

موجودہ نظام تعلیم کے متبادل کس طرح کا نظام غیر طبقاتی نظام تعلیم قرار دیا جا سکتا ہے، اس سوال کے جواب میں این ایس ایف کے ایڈیٹر عزم التمش تصدق کہتے ہیں کہ ہم صرف موجودہ نظام تعلیم کے نقائص ہی نہیں گنواتے بلکہ ہم ایک متبادل نظام تعلیم بھی اپنے مطالبات کی صورت پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ جدید سائنسی تعلیم کی ہر سطح پر مفت فراہمی، ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، جدید لیبارٹریز اورہم نصابی سرگرمیوں کیلئے کھیلوں کے میدان، ہال اور دیگر سازو سامان کی فراہمی جیسے مطالبات موجودہ نظام تعلیم کے متبادل کے طور پر ہی ہیں۔ انکا کہناتھا کہ تعلیمی اداروں کو صنعتی زونز کیساتھ منسلک کیا جانا چاہیے، رٹا سسٹم کا خاتمہ کرتے ہوئے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے کلیکٹو تعلیم کا طریقہ کار رائج کیا جانا چاہیے، تھیوری اور پریکٹیکل میں ایک توازن قائم کرنا موجودہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ موجودہ نصاب تعلیم انتہائی فرسودہ اورجدید عہد کے تقاضوں سے کسی طور ہم آہنگ نہیں ہے، از سر نو جدید نصاب تعلیم ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن سب سے اہم فریضہ اس وقت تعلیم کے کاروبار کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھانا ہیں، تعلیم ایک بنیادی حق ہے جسے ہر شہری کو مفت فراہم کیا جانا چاہیے، لیکن اس وقت تعلیم کو ایک بیوپار بنا دیا گیا ہے، لاکھوں روپے ماہانہ فیسیں بھر کر اچھی تعلیمی خریدی جا سکتی ہے، اسی لئے سرکاری اداروں کی استعداد کار اور معیار کو گرایا جاتا ہے تاکہ حکمران طبقات کے مہنگے تعلیمی اداروں کے کاروبار کو جاری رکھا جا سکے۔ تمام نجی تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیتے ہوئے اساتذہ کو جدید نصاب تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کے ہنگامی اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ طلباء و طالبات کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں انتیس نومبر کو طلبہ یکجہتی مارچ میں حصہ لینا چاہیے، تاکہ اپنے مستقبل کی فیصلہ سازی کے اختیار کو اپنے ہاتھ میں لینے کی حقیقی جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے طلبہ کے نعروں سے شاہراہوں اور ایوانوں لرزا طاری کیا جا سکے۔

Some glimpses of our mobilisation meeting in Nasir Bagh. Students from all over Lahore attended the meeting. Students…

Posted by Progressive Students Collective on Sunday, November 24, 2019

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: