کشمیرکی غیر یقینی صورتحال: سیاحوں کی آمد میں 85 فیصد کمی، شعبہ شدید بحران کی زد میں

بھارتی کے زیر انتظام جموں‌کشمیر میں پچھلے سال کے مقابلے میں رواں برس وادی کشمیر میں ہونے والے سیاحوں کی تعداد میں 85فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اگرچہ ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینے میں خاصی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی کشمیر کا رخ کرتے تھے تاہم، اس بار سیاحتی مقامات اور ہاوس بوٹ سنسان دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ہوٹل مکمل طور پر خالی پڑے ہیں۔

وادی کشمیر کی برفباری اور سکینگ سے لطف اندوز ہونے کے لئے موسم سرما میں غیر ملکی سیاح مختلف ہوٹلوں میں پیشگی بکنگ کرواکے رکھتے تھے۔ لیکن گزشتہ 3ماہ کےزائد عرصے سے انٹرنیٹ پر مسلسل پابندی کے باعث کسی بھی ہوٹل میں ایسی کوئی ایڈوانس بکنگ دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ جس وجہ سے سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد خاصے پریشان اور مایوس نظر آ رہے ہیں۔

سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ‘اگرچہ لینڈ لائن اور پوسٹ پیڈ موبائل کے ذریعے وہ ملکی اور غیر ملکی ٹریول ایجنسیوں کے ساتھ رابط قائم کر رہے ہیں اور وہ اس بات کااشارہ دے رہے ہیں کہ سردیوں کے ایام میں سرمائی کھیلوں کے لیے سیاح کشمیر آ سکتے ہیں تاہم انٹرنیٹ کی عدم موجودگی سے وہ بکنگ نہیں کر پا رہے ہیں جس وجہ سے سیاح اب ملک کی دوسری ریاستوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

وادی میں اگرچہ چند دنوں سے کاروبار جزوی طور بحال ہوا ہے وہیں پبلک ٹرانسپورٹ بھی کہیں کہیں کہیں نظر آ رہا ہے لیکن سیاحتی شعبے کومسلسل نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔

ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ ایک جانب انتظامیہ سیاحتی صنعت کو پھر سے پٹری پر لانے اور سیاحوں کو یہاں کی طرف راغب کرانے کی خاطر بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھانے شروع کئے گئے ہیں لیکن دوسری جانب ایس ایم ایس، پری پیڈ موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندی سے یہ دعوے سراب ثابت ہو رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: