”طلبہ یکجہتی مارچ“ تاریخی اہمیت کا حامل: انسانیت کے قاتل نظام کیخلاف فیصلہ کن جنگ کا وقت آگیا ہے، بشارت علی خان

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق مرکزی صدر بشارت علی خان نے کہا ہے کہ انتیس نومبر کو پاکستان کے مختلف شہروں سمیت کشمیر کے مختلف شہروں میں ہونے والا ”طلبہ یکجہتی مارچ“ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے کہ جب معاشرے کے اکثریتی طلبہ اورنوجوانوں سے تعلیم جیسے بنیادی حق کو چھینا جا چکا ہے، روزگار کا بنیادی حق مکمل طور پر چھن چکا ہے، جو بوسیدہ تعلیم فراہم کی جا رہی تھی اس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے، اعلیٰ تعلیم کے بجٹ پر کٹوتیاں کی جا رہی ہیں اور طلبہ کو سیاست سے مکمل لاتعلق کرکے ان سے تمام تر حقوق چھین لئے گئے ہیں۔

طلبہ سے سیاست نہ کرنے کا حلف نامہ اس لئے لیاجاتا ہے کہ طالبعلم اپنے حقوق کی بات نہ کر سکیں، اپنے بارے میں ہونے والے فیصلوں میں شراکت دار نہ بن سکیں۔ حکمرانوں کی تمام تر دعوے اوروعدے طلبہ، نوجوانوں اورمحنت کشوں کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اس خطے کے لوگوں کے حقیقی مستقبل کی جدوجہد کو تعمیر کرنے کیلئے طلبہ یکجہتی مارچ ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

وہ یہاں جامعہ پونچھ اور میڈیکل کالج کے طالبعلم رہنماؤں کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر این ایس ایف جامعہ پونچھ کے رہنماؤں مجیب خان، سعد خالق، عثمان خان، صنعان خان کے علاوہ پونچھ میڈیکل کالج میں این ایس ایف کے صدر سعد الحسن خان، مرکزی ایڈیٹر عزم جے کے این ایس ایف التمش تصدق اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

بشارت علی خان نے کہا کہ موجودہ نظام نہ صرف طلبہ کیلئے خودکشیوں، فرسٹریشن اور ذہنی امراض کا موجب بن رہا ہے بلکہ پوری نسل انسانی کی بقاء اس نظام کے اندرداؤ پر لگ چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے اب انسانوں کا کوئی ایک بھی مسئلہ حل کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ اس نظام کی موجودگی میں چاہے جو بھی حکمران آجائے وہ کوئی ایک بنیادی مسئلہ بھی حل نہیں کر پائے گا، اصل مسئلہ نظام کی تبدیلی ہے، چہروں کی تبدیلی کا عمل بار بار کیا جا چکا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے ذریعے انسانیت کیلئے سانس لینا دشوار ہو چکا ہے، ایکو سسٹم تباہ ہو رہا ہے، غربت، بھوک، محرومی، لاعلاجی، دہشت گردی اور قومی و طبقاتی استحصال اس نظام کے پیدا کردہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھرمیں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھنے والی بغاوتیں، لاکھوں مردو خواتین اور طلبہ کی اس نظام کے خلاف نفرت کا اظہار ہیں۔ پاکستان و کشمیر کے طلباء و طالبات پربھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کیلئے، نسل انسانی کی بقاء کیلئے سیاسی میدان میں اپنی عملی شرکت کو یقینی بنائیں۔

انتیس نومبر کے طلبہ یکجہتی مارچ کے ذریعے سے نہ صرف حکمران طبقات کے تعلیم دشمن اقدامات کو بے نقاب کریں بلکہ اس خطے سمیت دنیابھر کے طالبعلموں اور محنت کشوں کو یہ پیغام دیں کہ اب اس نظام کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا وقت آ چکا ہے، وہ جنگ طبقاتی بنیادوں پر طلبہ، مزدور، کسان اتحاد کو یقینی بناتے ہوئے، سائنسی سوشلزم کے حقیقی متبادل کو اپنا رہبر و رہنما بناتے ہوئے اس نظام کو اکھاڑ پھینکنے کی حتمی فتح تک لڑی جائیگی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: