نیشنل کانفرنس جموں‌کشمیر کے کسی بھی سطح کے انتخابات میں حصہ نہیں‌لے گی

بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی سب سے بڑی ہند نواز جماعت نیشنل کانفرنس نے اعلان کیا ہے کہ وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال میں وہ کسی بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔

نیشل کانفرنس نے کہا کہ’ 5 اگست سے جموں و کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلی سمیت کئی ہند نواز سیاسی جماعتوں کے رہنما نظربند ہیں تو ہم آئندہ اسمبلی انتخابات میں حصہ کیسے لیں سکتے ہیں۔’

بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے رہنما اور رکن پارلیمان محمد اکبر لون کا کہنا ہے کہ’ جموں و کشمیر میں کسی بھی انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں کوئی کس طرح سوچ سکتا ہے۔’

اس سے قبل مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو نے کہا تھا کہ’ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر خطے میں انتخابات بھی ہوں گے اور عوامی حکومت بھی قائم ہوگی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘جموں و کشمیر میں انتخابات کرانے کے لیے بہت جلد کارروائی شروع ہوگی’۔

لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو کے اس بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ اکبر لون نے کہا کہ’ جب وادی کشمیر میں گذشتہ 103 دن سے معمولات زندگی متاثر ہے تو جی سی مرمو اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں۔’بتادیں کہ 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370 کی منسوخی سے قبل جموں و کشمیر میں ہند نواز سیاسی جماعتوں کے سینئر قائدین، جن میں تین سابق وزیراعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند رکھا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ وادی کی موجودہ صورتحال میں نیشنل کانفرنس ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: