احتساب عدالت کا فیصلہ معطل: پٹواری شبیر احمد فاروقی کو تین سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی عدالت العالیہ نے احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پٹواری شبیر احمد فاروقی کوتین سال قید بامشقت کی سزائیں سنا دیں.

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر ہائیکورٹ نے اپیل عنوانی ”احتساب بیورو بنام شبیر احمدفاروقی“ میں عدالت العالیہ کے ڈویژن بنچ بر مشتمل جناب جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی چیف جسٹس اور جناب جسٹس صداقت حسین راجہ جج عدالت العالیہ نے فیصلہ سنا دیا“۔

ہائیکورٹ سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق حاجی محمد غیاث ولد سردار محمد ساکن حویلی ضلع باغ نے چیئرمین آزادجموں وکشمیر احتساب بیورو ک روبرو محمد شبیر فاروقی رسپانڈنٹ پٹواری کے خلاف تحریری شکایت کی جس پر مذکور کے خلاف تحت ضابطہ انکوائری کی جا کر ریفرنس احتساب کورٹ نمبر2میرپور میں دائر کیا گیا جو ازاں بعد احتسا ب کورٹ نمبر1مظفرآباد کو منتقل ہوا۔

فاضل عدالت ماتحت نے بعد قلمبندی شہادت و تکمیل کارروائی ضابطہ بروائے فیصلہ مصدرہ 29-02-2012رسپانڈنٹ محمد شبیر فاروقی پٹواری کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ فیصلہ متذکرہ کو احتساب بیورو نے بصیغہ اپیل عدالت العالیہ میں چیلنج کیا۔

فاضل عدالت العالیہ نے بعد از سماعت بحث کو نسل فریقین بروئے فیصلہ مصدرہ 29-10-2019احتساب بیورو کی جانب سے دائر کردہ اپیل کو منظور فرماتے ہوئے رسپانڈنٹ پٹواری محمد شبیر فاروقی کو مجرم قراردیا جا کر AJ&K Prevention of Corruption Act,1950کی دفعہ5(2) کے تحت ایک سال قید با مشقت ، تعزیرات آزادکشمیر کی دفعات 409,467,468کے تحت ایک سال قید با مشقت اور احتساب ایکٹ2001کی دفعہ 11 کے تحت بھی ایک سال قید با مشقت کی سزائیں سنائیں ۔

نیز قرار دیا گیا کہ جملہ سزائیں بیک وقت شروع ہونگی اور رسپانڈنٹ مجرم کو دفعہ382-Bضابطہ فوجداری کا فائدہ بھی دیا گیا۔ اپیلانٹ کی جانب سے سید مظہر آزاد ، ڈپٹی چیف پراسیکیوٹر احتساب بیورو جبکہ رسپانڈنٹ کی جانب سے مسٹر شجاعت علی راٹھور ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔