نیشنل کانفرنس اور عوامی نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کو پریس کانفرنس سے روک دیا گیا

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں انتظامیہ نے نیشنل کانفرنس اور عوامی نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی۔

نیشنل کانفرنس کے سینئیر رہنما اکبر لون نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ گورنر انتظامیہ نے ہمیں کئی بار کہا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنما ڈاکٹر مصطفی کمال اور عومی نیشنل کانفرنس کے رہنما خالدہ شاہ اور مظفر شاہ کو نظر بند نہیں رکھا گیا ہے۔ اب پتہ چلا کہ خالدہ شاہ اور مصطفی کمال بھی نظر بند ہیں۔

اکبر لون نے کہا کہ جب ہم یہاں پریس کانفرس کے لیے آئے، ہم نے دیکھا کہ انہیں گھر میں ہی نظر بند رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ نے انہیں پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق خالدہ شاہ جموں کشمیر کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کی بہن اور ڈاکٹر مصطفی کمال ان کے بھائی ہیں۔مظفر شاہ، خالدہ شاہ کے فرزند ہیں۔ کمال اور مظفر شاہ کی رہائش گاہیں مولانا آزاد روڑ پر ایم ایل اے ہوسٹل کے متصل ہیں۔

بھارتی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے سے قبل ہی انتظامیہ نے بھارت نواز سیاسی پارٹیوں کے سربراہان سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں رکھاہوا ہے۔ ان رہنماؤں میں جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں۔