سوشلسٹ امیدوار ایوو مورالس چوتھی بار بولیویا کے صدر منتخب!

تحریر: فاروق سلہریا

تحریک برائے سوشلزم (ایم اے ایس) کے رہنما ایوو مورالس (Evo Morales) چوتھی مرتبہ بولیویا کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

تا دمِ تحریر (22 اکتوبر کی شام) ابھی حتمی نتائج نہیں آئے تھے۔ 21 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے 96 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ایوو مورالس کو 46.86 فیصد ووٹ مل چکے تھے۔ ان کے قریب ترین حریف، سٹیزنز کمیونٹی جماعت کے رائٹ ونگ رہنما کارلوس میسا (Carlos Mesa) کو 36.73 فیصد ووٹ ملے تھے۔

بولیویا کے آئین کے مطابق اگر صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ایک امیدوار چالیس فیصد سے زیادہ ووٹ لے اور اس کے ووٹ قریب ترین حریف سے کم از کم دس فیصد زیادہ ہوں تو وہ فاتح قرارپاتا ہے۔

گو بولیویا کی آبادی گیارہ ملین ہے مگر بہت بڑا رقبہ ہونے کے علاوہ یہ عنصر بھی حتمی نتیجے کی راہ میں حائل ہے کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے شہریوں کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہے۔

ابھی تقریباً چار فیصد ووٹوں کی گنتی باقی ہے مگر ایوو مورالس نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ دہی علاقوں میں ان کو بھاری اکثریت میں ووٹ پڑتے ہیں۔

ممکن ہے کہ حزبِ اختلاف نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش کرے۔ یہ اطلاعات آ چکی ہیں کہ حزبِ اختلاف شکست کی صورت میں وینزویلا جیسا بحران پیدا کرنے کی کوشش کرے گی مگر بولیویا میں شایدایسا اس لئے نہ ہو سکے کہ وینزویلا کے بر عکس ایوو مورالس کی کامیابی کی بڑی وجہ مستحکم معیشت ہے۔

ایوو مورالس کی جیت کئی حوالے سے اہم ہے۔ پچھلے چند سالوں میں لاطینی امریکہ کے اکثر ممالک جہاں بائیں بازو کی حکومتیں تھیں، وہاں انہیں دائیں بازو کے ہاتھوں انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گو وینزویلا میں ایسا نہیں ہوا مگر وہاں حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ امریکی مداخلت بھی ہے اور وہاں کی حکمران جماعت بھی بری الذمہ قرار نہیں دی جا سکتی۔

ایک اہم شکست برازیل میں ورکرز پارٹی کی شکست تھی۔ اسی طرح ایکواڈور اور نکاراگوا میں بائیں بازو کو انتخابی شکستیں ہونے کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ اس بر اعظم میں ہوگو شاویز سے شروع ہونے والی گلابی لہر (Pink Wave) اب ساحل سے ٹکرا چکی ہے۔

ایوو مورالس کی جیت کے بعد، بولیویا ایک امید کی کرن بن کر ابھرے گا۔

ادھر، چند ہی سالوں میں دائیں بازو کی حکومتیں بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک کے بعد ایک، لاطینی امریکہ کا ہر ملک عوامی مظاہروں کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔

لاطینی امریکہ ہی نہیں مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک بھی عوامی مظاہروں کی زد میں ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی تیس سال کے بعد ایک عوامی تحریک ابھری ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ پاکستان کی سڑکیں بھی ایک نیا منظر نامہ پیش کر رہی ہوں گی۔

ان سارے ملکوں میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سیاسی کارکن بولیویا کے انتخابی نتائج پر ضرور غور کریں گے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: