گلگت: سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کا اداروں‌پر لاپتہ کرنیکی کوشش کا الزام، پولیس نے تردید کردی

گلگت کے ضلع غذر سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شفقت انقلابی نے پاکستانی اداروں کے تین افسران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے انسداد دہشتگردی عدالت کے ذریعے انہیں‌گرفتار کرنے اور جے آئی ٹی کے ذریعے تشدد اور لاپتگی کی کوشش شروع کر دی ہے، اس سلسلہ میں‌انکا الزام ہے کہ ایک خصوصی ٹیم پولیس کی تشکیل دی گئی ہے جو انہیں‌مظفرآباد سے گرفتار کرنے نکل چکی ہے.

تاہم گلگت اور غذر پولیس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا بتایا ہے کہ مذکورہ شخص توہین عدالت کے ایک مقدمہ میں‌ عدالتی مفرور ہے، لیکن یہ مقدمہ اس نوعیت کا نہیں‌ہے کہ اس کےلئے پولیس گرفتاری کےلئے اسلام آباد یا مظفرآباد جائے. نہ ہی اس طرح کی کوئی ٹیم تشکیل دی گئی ہے. پولیس ذمہ داران نے اس کوشش کو سستی شہرت کےلئے ریاست کے خلاف ایک پروپیگنڈہ قرار دیا ہے.

شفقت انقلابی نے دو روز قبل سماجی رابطوں‌کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی آخری پوسٹ کے نام سے تحریر شیئر کرنے سے قبل ایک ویڈیو پیغام بھی دیا ہے. جس میں انہو‌ں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انکی سماجی رابطوں‌پر سرگرمیوں‌اور گلگت اور پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے لوگوں‌کے درمیان دوریاں‌ختم کرنےکی کوشش سے خائف ہو کر ریاستی اداروں نے انہیں جعلی مقدمات میں‌پھنسا کر گرفتار کرنے اور تشدد کرنیکی منصوبہ بندی کر رکھی ہے. اور یہی وجہ ہے کہ ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جسے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انہیں مظفرآباد سے گرفتار کر کے گلگت لائے. اس حوالے سے انہوں‌نے دعویٰ کیا کہ محکمہ داخلہ گلگت بلتستان نے محکمہ داخلہ پاکستانی زیرانتظام جموں‌کشمیر سے بھی رابطہ کر لیا ہے. انہوں نے اپنی پوسٹس میں دنیا بھر میں مقیم انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانیت دوست لوگوں سے انکے حق میں‌مہم چلانے کی بھی اپیل کی.

تاہم پولیس نے ان تمام باتوں کی تردید کی ہے. گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے جب اس بابت معلومات لینے کی کوشش کی گئی تو دو صحافیوں نے اپنا نام نہ ظاہر کئے جانے کی شرط پر بتایا کہ شفقت انقلابی نامی شخص نے چند سال قبل سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنان کی گرفتاریوں اور کیسز تیار کرنے میں‌ریاست کی مدد کی تھی اور اعلانیہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی جس کے بعد انہیں سرکاری ٹرانسپورٹ سروس ناٹکو کے کچھ ٹھیکے بھی الاٹ کئے گئے تھے. ایک صحافی نے یہ بھی بتایا کہ انکے حوالے سے یہاں تمام سیاسی رہنما الزامات عائد کرتے ہیں کہ وہ سکیورٹی اداروں‌کےلئےہی کام کرتے ہیں اور اس کے عوض معاوضہ بھی لیتے ہیں. صحافیوں‌نے بھی کسی ٹیم کے تشکیل دیئے جانے، مقدمات قائم کرنے جیسے اقدامات سے لاعلمی ظاہر کی ہے.

شفقت انقلابی سے جب ان الزامات کی بابت موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ انہوں نے واقعی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا، اس بابت جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان میں‌صداقت نہیں‌ہے. انکا کہنا ہے کہ ٹھیکیداری انکا خاندانی پیشہ ہے، اور چار تعمیراتی کمپنیاں‌انکے خاندان کے مختلف افراد کے نام پر رجسٹرڈ ہیں‌ان میں‌سے ایک انکی پیدائش سے بھی پہلے کی ہے.

الزامات کے جواب میں شفقت انقلابی کہتے ہیں کہ انہوں نے زمانہ طالبعلمی سے ہی خطے کی آزادی کی تحریک میں‌اپنا سیاسی کردار ادا کیا، بلاورستان نیشنل فرنٹ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات بھی رہے. لیکن جب کیسزبنائے جانے لگے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ ہوا اور قوم پرست رہنما عارف شاہد کو قتل کیا گیا تو اس کے بعد زندگی بچانے کےلئے اداروں کے ساتھ میں نے یہ طے کیا کہ اب سیاسی سرگرمی نہیں کرونگا، بدلے میں‌میرا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کر کے مجھے ای سی ایل سے باہر نکالا جائے گا. لیکن اداروں نے مجھ سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں‌کیا جسکی وجہ سے میں‌نے دو سال قبل دوبارہ سیاسی سرگرمیاں‌شروع کر دی تھیں. پولیس کے حوالے سے بھی انہوں‌نے کہا کہ پولیس اور ریاستی اداروں نے اس سے پہلے بھی جن لوگوں‌کو اٹھایا ہے، جنہیں‌لاپتہ کیا ہے انکے متعلق کب سچ بولا ہے جو اس معاملے پر سچ بولا جائے گا. انہوں نے بابا جان، افتخار کربلائی اور دیگر کی سزاؤں کا ذکر بھی کیا.

واضح رہے کہ شفقت انقلابی پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌ترقی پسند اور قوم پرست تنظیموں‌کے الائنس پی این اے میں‌بھی گلگت بلتستان کی طرف سے بیٹھتے تھے لیکن جب گلگت بلتستان کی ترقی پسند تنظیموں‌ نے ان سے لاتعلقی ظاہر کی تھی انہوں‌نے پی این اے سے استعفیٰ دے دیا تھا، بعد ازاں گزشتہ اجلاس میں مظفرآباد شرکت کرنے پر جب انہیں پی این اے کے بانی و چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان کے اس اعتراض پر اجلاس سے باہر نکالا گیا کہ وہ کسی پارٹی کی نمائندگی نہیں کر رہے اور یہ الائنس پارٹیوں‌ پر مشتمل ہے. اس عمل کے بعد انہوں‌نے پیپلز نیشنل الائنس کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر ابتدائی طور پر مہم چلائی، لیکن بعد ازاں انہوں‌نے مظفرآباد میں ہونے والے پروگرام کی حمایت کر رکھی ہے.

تاہم سوشل میڈیا پر شفقت انقلابی کی مدد کی اپیل کے بعد متعدد صارفین انکے حق میں‌مہم چلا رہے ہیں جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین اس اقدام کو توجہ حاصل کرنے کے ایک ہتھکنڈے کے طور پر لے رہے ہیں اور مظفرآباد میں‌ الائنس کے پروگرام میں‌دوبارہ اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: